اڈیالہ جیل پر حملے کی خفیہ مشق ‘ عملہ خوفزدہ ‘ پولیس نے ایمرجنسی کا جواب ہی نہیں دیا

اڈیالہ جیل پر حملے کی خفیہ مشق ‘ عملہ خوفزدہ ‘ پولیس نے ایمرجنسی کا جواب ہی نہیں دیا

لاہور ( معین اظہر سے ) پنجاب میں دہشت گردوں کی طرف سے جیلوں پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد حکومت پنجاب نے جیلوں کی سیکورٹی کے لئے اربوں روپے خرچ کر دئیے پنجاب کی سب سے اہم جیل راولپنڈی کی اڈیالہ جیل جہاں سب سے زیادہ دہشت گرد ی کے مجرم اور ہائی پروفائل کیسوں میںشامل افراد بند ہیں میں خفیہ طور پر ایمرجنسی نافذ کرکے مشق کی گئی اور جیل کو فوری طور پر حملہ کی صورت میں ہائی الرٹ کر دیا گیا، پولیس نے اس ایمرجنسی کا جواب ہی نہیں دیا، سی سی ایف سیکورٹی نے 38 منٹ بعد جواب دیا، جبکہ رینجرز کے عملے نے 2 منٹ میں اس ایمرجنسی کا جواب دیا۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل کے عملے نے 2012 کے بعد فائرنگ کی پریکٹس ہی نہیں کی۔ مشین گنیں جیل کے افسران کی سیکورٹی کے لئے رکھی گئی تھیں۔ جیل کا عملہ سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہی نہیں تھا جو حملہ کی اطلاع دے یا کسی ایمرجنسی کی اطلاع کرے۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت پنجاب میں اڈیالہ جیل راولپنڈی ، کوٹ لکھپت جیل لاہور ، اور فیصل آبا د جیل کے متعلق وفاقی اور صوبائی ایجنسیاں تقریباً 2 درجن سے زیادہ سیکورٹی الرٹ جاری کر چکی ہیں جس میں ان جیلوں پر حملوں کی اطلاعات ہیں جبکہ حکومت پنجاب جیلوں کو گزشتہ دو سال میں اربوں روپے کے فنڈز دے چکی ہے لیکن اس وقت جیلوں میں ہائی الرٹ کا پول کھل گیا جب بعض وفاقی حساس اداروں نے اڈیالہ جیل راولپنڈی جس میں جی ایچ کیو حملہ اور دیگر اہم کیسوں کے دہشت گرد بند ہیں پر ایک ایکسرسائز کی اور جیل پر حملہ کر دیا جس میں ہوائی فائرنگ اور رات گئے اس ایکسرسائز میں ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس پر جیل کا عملہ خوف زدہ ہو گیا جبکہ پولیس افسران نے اس حملے کی اطلاع پر کوئی کاروائی نہیں کی تاہم رینجرز کے جوان الرٹ ہو گئے۔ اس بارے میں جو کمزوریاں اب سیکورٹی کے حوالے سے بتائی گئی ہیں ان کے مطابق کہا گیا ہے کہ جیل کے عملے کا مورال بلند کرنے کے اقدامات کئے جائیں جیل میں 143 وارڈن کی پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ جو جیل میں افسران کے دفاتر کے اوپر بنکر بنائے گئے ہیں وہ پوری جیل کو کور نہیں کرتے ہیں اسلئے ان کو نئے سرے سے بنایا جائے۔ ایل ایم جی گن موجودہ بنکر سے ہٹائی جائیں۔ جیل کے اندر ، اور باہر عملہ کی ڈیوٹی لگائی جائے جو کسی ایمرجنسی کی پیشگی اطلاع جیل میں دے سکیں۔ جیل میں 14 کیمرے لگے ہیں جن میں سے صرف دو کام کررہے ہیں جبکہ یہ کیمرے رات کے وقت کام نہیں کرتے اسلئے ایسے کیمرے لگائے جائیں جو رات کے وقت کام کرسکتے ہوں۔ جیل میں کیویک ریکیشن فورس جو 12 افراد پر مشتمل ہے اس کو بڑھایا جائے کم از کم پانچ گروپ کویک ریکشن فورس کے بنائے جائیں۔ ان کو ریگولر فائرنگ کی پریکٹس کروائی جائے۔ جیل میں آوٹر سیکورٹی وال بنائی جارہی ہے جبکہ جیل کی نارتھ اور ساوتھ کی سائڈ پر دیوار 3 سے 4 فٹ ہے وہاں سے دہشت گرد حملہ کر سکتے ہیں۔ جیل میں پورٹیبل سرچ لائٹ نہیں ہیں ۔ پولیس نے جیل کے اردگر د بار بار کہنے کے باوجود مانگا ڈھوک، دھگال ، اور جہانگی سیداں میں سرچ آپریشن ہی نہیں کیا ہے۔ جیل کے اردگرد 21 چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں جس میں سے صرف پانچ پوسٹوں کا کنٹرول روم سے رابطہ ہے۔اسی طرح ہر پوسٹ پر صرف ایک پولیس کا اہلکار تعینات ہے جو دہشت گردی کے لئے تربیت یافتہ نہیں۔ جیل کی مشرق کی طرف درخت بڑھے ہوئے ہیں وہ کٹوائے ہی نہیں گئے۔