پولیس حکام نے 14 سالہ یتیم بچے کو جائیداد واپس دلا دی

لاہور (نامہ نگار) داتا دربار کے رہائشی 14 سالہ یتیم بچے کو پولیس حکام نے رشتے داروں کی طرف سے جعلی دستاویزات تیار کر کے ہتھیائی گئی جائیداد اور رقم واپس دلا دی۔ رقم ملنے سے بچے کی ہسپتال میں زیر علاج ماں کا کامیاب آپریشن ہوا اور اس کی جان بچ گئی۔ جس پر بچہ پولیس حکام سے اظہار تشکر کے لئے ’’نوائے وقت‘‘ کے دفتر پہنچ گیا۔ داتا دربار کے رہائشی 14 سالہ لڑکے محمد بلال خان نے ’’نوائے وقت‘‘ آکر بتایا کہ 6 ماہ قبل اس کا باپ فوت ہو گیا تھا جس کے بعد اس کے تایا اور چچاؤں نے جعلی دستاویزات اور جعلی وصیت تیار کرکے مکان‘ موٹر سائیکل اور ڈیڑھ لاکھ روپے اپنے قبضے میں لئے۔ میری ماں پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھی اور ہسپتال میں زیر علاج تھی۔ میرے پاس ماں کے علاج کے لئے پیسے نہ تھے۔ ایک دن سی سی پی او لاہور کے دفتر کے باہر سے گزر رہا تھا تو میں نے ایک سپاہی سے پوچھا یہ کس کا دفتر ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہاں لاہور کا سب سے بڑا پولیس افسر بیٹھتا ہے۔ میں نے کہا میں نے اسے ملنا ہے۔ وہ مجھے سی سی پی او کیپٹن (ر) امین وینس کے کمرے میں لے گیا۔ میں نے سی سی پی او کو ساری بات بتائی۔ جس پر سی سی پی او نے تمام متعلقہ افسران کو فون کرکے اپنے دفتر بلایا اور مجھے ہر صورت انصاف دلانے کا حکم دیا۔ جس پر پولیس افسران رشتے داروں کو بلا کر مجھے میری جائیداد کا حصہ دینے یا پھر جیل جانے کا کہا تو میرے رشتے داروں نے مجھے میری جائیداد کا حصہ دے دیا جس پر میں سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم و دیگر پولیس افسران کا شکر گزار ہوں۔