گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ چارجز میں اضافہ کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے: ماہرین

 لاہور  (کامرس ڈیسک) ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جی آی ڈی سی میں اضافے سے ملکی معیشت سمیت مختلف صنعتوں پر مزید بوجھ بڑھے گا، خاص طور پر زرعی اوربرآمدی شعبہ اس سے شدید متاثر ہوگا جو نہایت ہی اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہیں ۔موجودہ حکومت نے صنعتی شعبہ کیلئے جی آی ڈی سی کے نرخ 100روپے فی ملین ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 150روپے فی ملین ایم ایم بی ٹی یواور فرٹیلائیزر سیکٹر کیلئے 197روپے فی ملین ایم ایم بی ٹی یوسے بڑھا کر 300روپے فی ملین ایم ایم بی ٹی یو کردیئے ہیں۔جبکہ کیپٹیو پاور پلانٹس کے نرخ 200روپے ایم ایم بی ٹی یو مقرر کردیئے ہیں۔حکومت نے پچھلے مالی سال کے 88ارب کے مقابلے میں رواں مالی سال جی آئی ڈی سی کے ذریعے ٹیکس وصولی کا حدف 145روپے مقرر کیا ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر اپنی برآمدات کے ذریعے ملکی خزانے کوسالانہ 13ارب ڈالرکما کر دیتا ہے اسلیئے  حکومت ٹیکسٹائل کے شعبے کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے جی آئی ڈی سی میں اضافہ فوری واپس لے۔ذرائع نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ پہلے لی بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہے اوپر سے جی آی ڈی سی میں اضافے نے ٹیکسٹائل شعبے کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ذرائع نے جی آئی ڈی سی میں اضافے کوموجودہ حکومت کا ٹیکسٹائل دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل حکومت نے برآمدی ٹیکسٹائل کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔ ذرائع نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جی آئی ڈی سی میں اضافے کی معلاملے میں احتیاط سے کام لے کیونکہ جی آئی ڈی سی میں اضافے سے جی ایس پی پلس سے حاصل ہونے والے فوائد میں بھی کمی آسکتی ہے۔