لاہور: قتل ہونے والا طالب علم زین سپردخاک‘ ورثاء کا مظاہرہ‘ مصطفی کانجو گرفتار

لاہور: قتل ہونے والا طالب علم زین سپردخاک‘ ورثاء کا مظاہرہ‘ مصطفی کانجو گرفتار

لاہور (سٹاف رپورٹر+ اپنے نامہ نگار سے + خصوصی رپورٹر) کیولری گرائونڈ کے قریب فائرنگ کر کے 15 سالہ طالب علم اور 2 بہنوں کا اکلوتے بھائی زین کو قتل کرنے والے سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے غلام مصطفی کانجو کو پولیس نے خوشاب سے گرفتار کر لیا۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد غلام مصطفی کانجو موقع سے فرار ہو گیا تھا جسے پولیس نے گزشتہ روز خوشاب کے علاقہ سے گرفتار کرکے لاہور منتقل کر دیا۔ ملزم کے 7 گارڈز اور 2 رشتہ دار پہلے ہی حراست میں ہیں جبکہ زین کی بیوہ ماں اور اس کی دو بہنوں پر گزشتہ رات سے غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ زین کی والدہ نے کہا وزیراعلیٰ صاحب آپ کے شہر میں کیا ہورہا ہے معصوم بچوں کی جانیں لی جارہی ہیں، میرا بیٹا اپنے دوست کے گھر کیک دینے گیا تھا کہ ظالموں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ با اثر ملزم کو تختہ دار پر لٹکایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم اور اس کی ساتھیوں کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ کوئی کارروائی نہ کی جائے ورنہ اس کے دیگر اہل خانہ کا انجام بھی اچھا نہیں ہو گا۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے مصطفی کانجو کی فائرنگ سے 15 سالہ نوجوان زین کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بچے نہیں پاکستان کا قتل ہوا انہوں نے زین کے اہل خانہ کو دھمکیاں دینے والوں کو بھی گرفتار کرنے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ دوسری جانب ڈاکٹرز کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زین کو ایک گولی لگی اور زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی۔ واقعہ کی تحقیقات کے لئے 2 ایس پیز کی نگرانی میں پولیس ٹیم تشکیل دیدی گئی۔ مقتول زین کے ماموں نے کہا کہ پرامن رہ کر احتجاج کر رہے ہیں صدیق کانجو کے بیٹے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ ہمیں اور ہمارے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ دریں اثناء پوسٹ مارٹم کے بعد 15سالہ زین کی نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی جس کے گھر پہنچتے ہی کہرام مچ گیا محلے میں ہر آنکھ اشکبار تھی، جنازہ میں مسلم لیگ ن کے ایم این اے یاسین سوہل اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے کیولری گرائونڈ روڈ پر میت رکھ کر احتجاج اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں مقتول کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں تحریک انصاف کے رہنما پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید بھی کتبہ اٹھائے شریک ہوئے، کتبے پر ’’نشے کا عادی مصطفیٰ کانجو میرا لعل لے گیا‘‘ کے الفاظ درج تھے۔ علاوہ ازیں ہسپتال میں زیر علاج زین کے دوست حسنین کی حالت بدستور تشویشناک بتائی گئی ہے۔ واضح رہے غلام مصطفی کانجو اور اس کے ساتھیوں کو تھانہ جنوبی چھائونی کی حوالات میں رکھا گیا ہے۔ پولیس آج انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ طلب کرے گی۔ ملزموں کیخلاف قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا۔