انتظامی غفلت‘ حکام کی بھلی بھگت‘ جیلوں میں منشیات فروشی‘ موبائل فونز کا استعمال جاری

لاہور (اپنے نمائندے سے) صوبائی دارالحکومت کی دونوں بڑی جیلوں میں انتظامی معاملات میں بدنظمی اور جیل کے حکام کی نیم رضامندی کے باعث منشیات فروشی اور بااثر قیدیوں کے پاس موبائل کی بھرمار ہو گئی ہے اور متعدد ریکارڈ یافتہ ملزمان اپنے ذاتی نمبروں سے اپنے مدعیوں سمیت مخالفین کو دھمکیاں دیتے ہیں اور جیل کا عملہ ”سختی“ کے باوجود مٹھی گرم رکھنے والوں کو موبائل اور منشیات کے سرعام استعمال سمیت تمام جملہ خدمات مہیا کر رہا ہے اور جیل کے ذمہ داران پنجاب حکومت سمیت محکمہ داخلہ کو سب اچھے کی رپورٹ دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ کئی کرپٹ پرانے اہلکار اپنے افسروں کی سرپرستی کے باعث ماہانہ نہ دینے والے قیدیوں کی ”اڈتی“ لگوا دیتے ہیں اور یہ سزا ختم کرنے کا ریٹ بھی 10 ہزار روپے تک مقرر ہے۔ ایسے قیدی کی روز بیرک بدل دی جاتی ہے۔ کئی قیدیوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ ہم اپنے قیدیوں سے جانوروں جیسا سلوک نہ روا رکھنے کی پاداش میں متعلقہ عملے کو ماہانہ خوش رکھنے کیلئے مجبوری میں دے رہے ہیں۔ بصورت دیگر جیل اہلکار جو افسروں کے کارخاص ہیں۔ مختلف حیلوں بہانوں سے ایسے قیدیوں کو تنگ کر رہے ہیں۔ مذکورہ صورتحال کے حوالے سے متعدد قیدیوں کے لواحقین نے آئی جی جیل خانہ جات سمیت لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور کی دونوں بڑی جیلوں میں منشیات فروشی سمیت موبائل فونوں کے غیر قانونی استعمال پر فوری پابندی لگائی جائے۔