نوازشریف کی تیسری بار نااہلی

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
نوازشریف کی تیسری بار نااہلی

بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانامہ لیکس کیس کا حتمی فیصلہ سنا دیا اور وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کو تیسری بار ’’نااہل‘‘ قرار دے دیا گیا ہے پہلی بار ایک فوجی ڈکٹیٹر کی بنائی ہوئی نام نہاد احتساب عدالت سے اٹک قلعہ میں 22 جولائی 2000ء کو ہیلی کاپٹر ریفرنس‘‘ میں 14سال قید 2 کروڑ روپے جرمانہ اور 21سال کے لئے ناہل قرار دیا گیا۔ دوسری بار سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے سیاسی حریف نواز شریف کو میدان سیاست سے ’’آئوٹ‘‘ کرنے کے لئے پی سی او ججوں سے نااہل قرار دلوایا جب کہ تیسری بار تو اسی عدلیہ نے ان کو ’’نااہل‘‘ قرار دے دیا جس کی بحالی کے لئے انہوں نے لاہور سے اسلام آباد کی جانب ’’لانگ مارچ‘‘ کیا۔ اب کی بار سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ کے سامنے ’’آف شور کمپنیوں‘‘ کے حوالے سے لندن میں فلیٹس کی ملکیت کا کیس تھا جسے عمران خان ن، شیخ رشید اور سراج الحق سمیت جے آئی ٹی تو نواز شریف کی ملکیت ثابت نہ کر سکی جس پر کیپیٹل ایف زیڈ ای اور جبل علی امارات کے ’’اثاثے‘‘ اپنے کاغذات نامزدگی ظاہر نہ کرنے اور 10 ہزار درہم تنخواہ جو کہ انہوں نے وصول ہی نہیں کی کے ’’جرم‘‘ میں ان پر آئین کا آرٹیکل 62،63 لگ گیا بس وہ عدالت کی نظر میں ’’صادق و امین‘‘ نہ رہنے پر ’’نااہل‘‘ قرار پائے ہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ وہ انتخابات کی ایک ٹرم کے لئے ناہل قرار پائے ہیں یا انہیں تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا ہے اس بارے میں قانون ’’خاموش‘‘ ہے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ’’تحفظات‘‘ کے ساتھ قبول کر لیا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کی ’’سیاہی‘‘ خشک ہونے سے پہلے ہی اس پر عمل درآمد کر دیا ہے۔ یہی قانون کا تقاضا تھا میاں نواز شریف نے تو اس قدر عجلت دکھائی کہ الیکشن کمیشن سے ان کی قومی نشست خالی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے قبل ہی وزارت عظمیٰ کے منصب سے ’’سبکدوشی‘‘ کا خط صدر مملکت ممنون حسین کو بھجوا دیا اور پھر قبل اس کے کہ ان کے سیاسی مخالفین ان سے وزیر اعظم ہائوس خالی کرنے کا مطالبہ کرتے وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ فوری طور وزیراعظم ہائوس سے پنجاب ہائوس منتقل ہو گئے ہیں جو پچھلے 4،5سال سے چوہدری نثار علی خان کے ’’قبضہ‘‘ میں تھا وہ بھی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد اپنا ’’ڈیرہ ‘‘ خالی کر کے فیض آباد چلے گئے وزیراعظم کو منصب چھوڑنے کے بعد میاں نواز شریف نے قانون کے مطابق 15روز تک سرکاری مراعات لینا گوارہ کیں اور نہ ہی چوہدری نثار علی خان نے وفاقی کابینہ تحلیل ہونے کے بعد ایک منٹ کے لئے بھی سرکاری مراعات استعمال کیں وہ بھی اپنی ذاتی گاڑی میں گھر واپس گئے۔ میاں نواز شریف کی ’’نااہلی‘‘ سے صرف اس حد سیاسی منظر پر تبدیلی آئی ہے انہوں نے کم و بیش 30سالہ سیاسی رفیق جس کی سیاسی وفاداری پر کسی کو شک نہیں آئندہ 45روز کے لئے ’’سیاسی جانشین‘‘ بنا دیا ہے جب کہ ان کی خالی ہونے والی این اے 120کی نشست سے ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہو کر بقیہ مدت کے لئے وزیراعظم بن جائیں گے اقتدار کے ایوانوں بس اس قدر ہی تبدیلی آئی ہے آج اس نشست پر میاں نواز شریف نہیں بیٹھے ہوں گے جہاں ان کے ’’سیاسی جانشین‘‘ نظر آرہے ہیں شاید اقتدار کا کھیل کھیلنے والی قوتوں کو اسی حد تک تبدیلی ضرورت تھی۔ میاں نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہلی بار انکشاف کیا ہے وہ تیسری بار وزیراعظم ہی نہیں بننا چاہتے تھے شہباز شریف اور اسحق ڈار گواہ ہیں لیکن ان کے اصرار پر یہ منصب قبول کیا شاید انہیں معلوم تھا کہ کچھ ’’قوتوں‘‘ کو ان کا ’’چہرہ‘‘ پسند نہیں لہٰذا 11 مئی 2013ء کی شب انتخابی نتائج آنے پر ماڈل ٹائون کی رہائش گاہ کی چھت پر میاں شہباز شریف نے تقریر کر کے میاں نواز شریف کو تیسری بار وزیراعظم بنانے کا اعلان دراصل ان تمام قوتوں کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ ان کے وزیراعظم نواز شریف ہی ہوں گے پچھلے 4سال سے مختلف قوتیں ان کو اقتدار سے ہٹانے کے کو شاں ہیں جب کہ ’’کپتان‘‘ پچھلے 4سال سے ان قوتوں کے ’’آلہ کار‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں جو نواز شریف کو اقتدار سے الگ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ عمران خان اور شیخ رشید احمد نواز شریف کی ’’رخصتی‘‘ پر رقص کرتے نظر آئے ہیں سراج الحق نے بھی ان کے پیچھے شکرانے کے نوافل کی نیت کر رکھی ہے لیکن شاید ان کو اس بات ادراک نہیں یا وہ سیاسی صلاحیت سے محروم ہیں کہ دوبئی کا ’’اقامہ‘‘ رکھنے کے جرم میں ’’نااہل‘‘ قرار دیا جانے والا نواز شریف عوام کی عدالت میں جائے گا اور یہ ثابت کرے گا کہ اسے کرپشن کیس میں نہیں نکالا گیا بلکہ ’’ناکردہ گناہوں‘‘ کی سزا دی گئی ہے یہ سیاست دان اس کے سامنے بونے نظر آئیں گے سپریم کورٹ کے فیصلے نے ملکی سیاست میں نواز شریف کا کردار ’’جارحانہ‘‘ بنا دیا ہے انہیں ’’نااہل‘‘ قرار دلوانے کے ’’کھیل‘‘ میں شریک تمام سیاسی عناصر ’’دفاعی‘‘ پوزیشن پر چلے گئے ہیں سیاست ایک ’’بے رحم‘‘ کھیل ہے جس میں اقتدار میں آنے اور ہٹانے کے لئے ’’سر‘‘ لگتے ہیں عمران خان میاں نواز شریف کو ’’نااہل‘‘ قرار دلوانے کے جن قوتوں کا ’’آلہ کار‘‘ بنے ہیں انہوں نے ان کو بھی آئین کے آرٹیکل 62،63 تحت ’’نااہل‘‘ قرار دلانے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے ’’نااہلی‘‘ کی تلوار ان کے سر پر بھی لٹک رہی ہے بس دنوں کی بات ہے وہ تو عدالت میں لندن فلیٹ کی ’’منی ٹریل‘‘ ہی پیش کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں ان کے ’’سیاسی مستقبل‘‘ کا بھی فیصلہ ہونے کو ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں عمران خان، شیخ رشید احمد اور نہ ہی جے آئی ٹی لندن فلیٹس کی نواز شریف کی ملکیت ثابت کر سکی اس لئے یہ تمام کیسز نیب کو بھجوا نے کا فیصلہ کیا گیا گو کہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا فیصلہ متفقہ ہے جے آئی ٹی رپورٹ کی سماعت تین رکنی بینچ نے کی لیکن فیصلہ اس 5 رکنی بینچ نے سنایا جس کے دو معزز جج صاحبان جے آئی رپورٹ کی سماعت کے دوران موجود ہی نہیں تھے یہ بات قابل ذکر ہے آئین کی دفعہ 62،63کے تحت کسی رکن پارلیمنٹ کی نا اہلی کی مدت کے تعین کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے پاس زیر سماعت ہے ملک کے نامور وکیل عابد منٹو اور علی ظفر تو برملا نواز شریف کیس میں آئین کے آرٹیکل 62(1)ف کے تحت ’’نا اہلی‘‘ کی مخالفت کر چکے ہیں اسی طرح آئینی امور کے دیگر ماہرین بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں سپریم کورٹ کا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان قتل کیس کا فیصلہ 30سال گزرنے کے باوجود آج بھی پاکستان کا ’’متنازعہ‘‘ فیصلہ ہے اور اسے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل قرار دیا جاتا ہے آج کا نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا متفقہ فیصلہ ہونے کے باوجود بھی اس لئے متنازعہ رہے گا کہ استغاثہ کی نواز شریف کے خلاف پانامہ میں لندن فلیٹس نواز شریف کی ملکیت ثابت کرنے میں بری طرح ناکامی کے بعد ان کو دوبئی میں اپنے صاحبزادے کی کمپنی کا چیئرمین ہونے کے ’’جرم‘‘ میں ’’نااہل‘‘ قرار دے دیا گیا جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف عدالت کا فیصلہ آئندہ کے لئے نظیر نہیں بن سکا اسی طرح پانامہ کیس میں فیصلہ کو بھی قانونی حلقوں میں پذیرائی حاصل نہیں ہو سکے گی پانامہ پیپرز لیکس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 435 شخصیات کے نام آئے تھے لیکن قوم یہ پو چھنے کا حق ضرور رکھتی ہے کہ نواز شریف پانامہ پیپرز لیکس میں نام نہ آنے کے باوجود ’’نااہل‘‘ ہو گئے ان 435افراد کی باری کب آئے گی یا اب پانامہ پیپرز لیکس کی فائل بند کر دی جائے گی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام بھی 435 افراد کی فہرست میں شامل تھا لیکن اس کا کسی نے ذکر ہی نہیں کیا عالمی سربراہان میں ملائشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق، یوکرائن کے صدر پیٹروپوروشینکو اس کے علاوہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان اور سابق امیر قطر حماد بن خلیفہ کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں اور تو اور صدر متحدہ عرب امارات اور ابوظہبی کے خلیفہ بن زید بھی ان ’’گناہ گاروں‘‘ میں شامل ہیں جنہوں آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھی پانامہ پیپرز لیکس میں نام ہونے کی وجہ سے اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سکینڈل پانامہ لیکس کیس کے فیصلہ میں بظاہر میاں نواز شریف کو ’’نااہل‘‘ قرار دے کر ملکی سیاست سے آئوٹ کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ہے لیکن اس فیصلے نے میاں نواز شریف کو پہلے سے زیادہ سیاسی طور پر طاقت ور بنا دیا ہے ’’کپتان‘‘ کو اس بات کا اندازہ نہیں ملکی سیاست میں تیسری بار ’’نااہل‘‘ قرار دیا جانے والا نواز شریف سے کس قدر خطرناک سیاستدان ثابت ہو گا ملکی سیاست میں ان کو شکست دینے کی صلاحیت نہ رکھنے والے سیاست دانوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ نواز شریف کو اقتدار کے ایوانوں سے تو نکالا جا سکتا لیکن ان کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا آنے والے دنوں میں نواز شریف کی مقبولیت میں بے پنا اضافہ ہو گا وہ ’’جاتی امرائ‘‘میں بیٹھ کر پورے ملک پر حکومت کرے گا۔
/