صادق اور کاذب کا فرق سیاست میں نہیں.....بےنیاریاں

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

وفاداریاں تبدیل کرنے والے کسی رکن کو نااہل قرار دلانے میں جلدی کرنا چاہئے‘ کہیں ایسا نہ ہوکہ پھر اہل ہونے اور نااہل ہونے میں کوئی فرق نہ رہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پنجاب حکومت بدل جائے تو اُسے تیسری بار وفاداریاں تبدیل کرنا پڑیں گی۔ ایسے لوگ ہماری سیاست میں بہت ہیں‘ اب تو لوٹا ازم کلچر ہے‘ ایسے کسی آدمی سے پوچھا گیا کہ تم بڑی جلدی پارٹی تبدیل کر لیتے ہو‘ اس نے کہاکہ حکومت اپنی پارٹی بدل لیتی ہے‘ میں تو مستقلاً حکومتی پارٹی میں ہوں۔ وفادار اور مستقل مزاج۔
سنا ہے صبا صادق اب اپنی گاڑی پر ایم پی اے کی بجائے ’’موجودہ حکومت زندہ باد‘‘ لکھوانا چاہتی ہے۔ جو بھی حکومت ہو گی جیسی بھی ہو گی موجودہ تو ہو گی۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ میں جس طرح یہ چاہتا ہوں کہ نوازشریف نااہل نہ ہوں۔ بالکل اسی طرح چاہتا ہوں کہ ہر لوٹا نااہل ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ نوازشریف اہل دل بھی ہو جائیں‘ وہ ہیں مگر تھوڑے سے زیادہ ہو جائیں اور اپنے اہل ہونے کے لئے منتشر اور متصادم سیاست نہ کریں۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ یہ جج مجھے نااہل نہیں کر سکتے۔ وہ اب اس مقام پر ہیں کہ یہ اہلیت ان کے لئے پریشان کن نہیں ہونا چاہئے۔ وہ اب بھی قومی اسمبلی میں نہیں مگر وہ ایک بڑے لیڈر ہیں۔ وہ لیڈر بنیں سیاستدان نہ بنیں اور اپنے چھوٹے بھائی شہبازشریف کو سمجھائیں کہ دوست بنیں حاکم نہ بنیں۔ حکومت اور سیاست بہت معمولی چیزیں ہیں‘ ہم قائداعظمؒ کو کبھی سیاستدان نہیں کہتے نہ گورنر جنرل کہتے ہیں۔ وہ ان دونوں حیثیتوں کے مالک تھے مگر ان کی حیثیت اس کے علاوہ کچھ اور ہے۔ خدا کی قسم اہل ہونے سے اہل دل ہونا بڑا اعزاز ہے۔ ہر اعزاز کا ایک راز ہوتا ہے اور ہم اب راز کو اہمیت یا ’’اہلیت‘‘ دینے کو تیار نہیں‘ ہم صاحب راز ہونے سے زیادہ اعزاز ہونے کو ترجیح دیتے ہیں‘ ہم خواب کی اہمیت نہیں دیتے۔ خواب کی تعبیر کے پیچھے اندھادھند بھاگتے رہتے ہیں‘ پھر ہانپنا اور کانپنا ہمارا مقدر بن جاتا ہے۔
نجانے کیوں مجھے یقین ہے کہ آزاد عدلیہ ہمارے کسی سیاستدان یعنی حکمران کو راس نہیں‘ پھر یہ کیا ہو رہا ہے‘ جو بھی ہو رہا ہے۔ دونوں کے لئے ٹھیک نہیں۔ جب آدمی اقتدار میں ہو یا اقتدار کے انتظار میں ہو تو پھر سارا اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ چھانگا مانگا میں اور سوات میں ابھی درخت ہیں‘ یہاں وفاداری کے قیدخانے میں رہنے والوں نے کوئی تفریح عام لوگوں یعنی ووٹروں کے لئے نہیں رہنے دی۔ میریٹ ہوٹل بھی دھماکے کا شکار ہونے کے بعد شکاریوں کے لئے کھول دیا گیا ہے‘ وہی چکر چلنے والا ہے‘ بحالی اور بیحالی کا زمانہ آنے والا ہے۔
اس کا بڑا نقصان یہ ہے کہ سیاست میں صادق اور کاذب کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اپنی حکمرانی بچانے کے لئے سیاستدان سچے جھوٹے ورکر میں تمیز کرہی نہیں سکتے۔ جب صبا صادق مسلم لیگ ق میں گئی تھی تو غلط تھی۔ یہ ق اسی صادق والا ہے۔ جب وہ مسلم لیگ (ن) میں آئی ہے تو ٹھیک ہے۔
چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کامیاب اپوزیشن کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں وہ کامیاب حکومت کرتے تھے اور وردی وردی کرتے نہیں تھکتے تھے۔ جب صبا صادق مسلم لیگ ق میں آئی تھی تو انہوں نے پہلے سے موجود اپنی ساتھی خواتین سے زیادہ پذیرائی صبا صادق کو دی۔ تب اس کے بیانات نکلوا کے اُسے دکھائے جائیں۔ اس کے اب کے بیانات کسے دکھائے جائیں‘ اس کے خیال میں دونوں ٹھیک ہیں۔ تب صبا صادق کے سچے لیڈر چودھری پرویز الٰہی تھے اور اب اس کے اصل لیڈر شہباز شریف ہیں جبکہ اس کے محبوب لیڈر خواجہ سعد رفیق ہیں۔ خواجہ صاحب کامیاب سیاستدان ہیں تو صبا صادق بھی کامیاب سیاستدان ہیں۔
خواجہ صاحب زیادہ کامیاب ہیں کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو نہ چھوڑا‘ ان کی کامیابی اسی میں ہے۔ وہ مقرر بھی اچھے ہیں۔
عورت کے لئے سب سے بڑا رشتہ اور رتبہ بیوی کا ہوتا ہے اور بیوی کو احترام سے اہلیہ کہا جاتا ہے‘ کبھی مرد کو خاوند کے علاوہ اہل نہیں کہا جاتا۔ اہلیہ اور اہلیت کے لفظوں پر غور کر لیں۔ عورتوں کو مخصوص نشستوں پر آنے کے بعد وفاداری تبدیل کرنا بڑا عجیب لگتا ہے وہ ووٹ لے کے تو آئی نہیں ہوتیں۔ یہ تو صرف پارٹی کی نوازش ہوتی ہے۔ اکثر عورتوں پر بے جانوازش کی گئی ہوتی ہے۔ نوازش سے اشارہ نوازشریف کی طرف نہیں ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ اعتماد خواجہ سعد رفیق پر کیا جاتا ہے اور خواجہ سعد رفیق صبا صادق پر اعتماد کرتے ہیں۔ صبا صادق زیادہ قابل اعتماد ہے۔ پہلے مسلم لیگ ق اور اب مسلم لیگ (ن) اس کا دفاع کر رہی ہے۔ صبا صادق کے لئے موقع ہے کہ وہ دونوں لیگوں کو متحد کرنے کی کوشش کرے۔ اس نے کہا ہے کہ میرا دفاع رانا ثناء اللہ کی بجائے ظہیر الدین چودھری کو کرنا چاہئے تو پہلے اس کا دفاع راجہ بشارت کی بجائے رانا ثناء اللہ کو کرنا چاہئے تھا۔ خواجہ سعد رفیق دھڑلے کے آدمی ہیں۔ انہوں نے نہ تو صبا صادق کی بظاہر حمایت کی نہ مخالفت کی۔ یہی سیاست ہے۔ اب تک صبا صادق نے چودھری پرویزالٰہی کو بھی ناراض نہیں کیا۔
اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ایک بار ایسی کوثی مثال قائم ہو کہ سیاستدانوں کو لوٹا بنتے ہوئے چھوٹا موٹا خوف ہونا چاہئے۔ صبا صادق نااہل ہو تو کشمالہ طارق کو بھی احساس ہو گا۔ طارق اور صادق میں ق مشترک ہے۔
صبا صادق کو فارورڈ بلاک میں کیوں نہیں لیا گیا۔ صبا صادق عطا مانیکا سے زیادہ فارورڈ ہے۔
صبا صادق نااہل ہونے سے پہلے پہلے کسی اہلیت کا مظاہرہ کرے گی۔ ایک سگریٹ نوش جو چار پانچ دفعہ سگریٹ چھوڑ چکا تھا۔ شور و غل سن کر ذرا ڈسٹرب ہوا۔ اس سے کہا گیا کہ قیامت آنے والی ہے اس نے پہلے سے اطمینان سے سگریٹ سلگھائی ’’اس سے پہلے میں ایک سگریٹ تو پی لوں‘‘
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰