نواز شریف ، شہباز شریف، چودھری نثار علی خان اور مریم نواز

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
نواز شریف ، شہباز شریف، چودھری نثار علی خان اور مریم نواز

گزشتہ روز مریم نواز کا دن تھاانہوں نے اپنی 44ویں سا لگرہ ٹوئیٹر پر منائی اس سلسلے میں کوئی باضابطہ تقریب منعقد نہیں کی لیکن ٹوئیٹر کے ذریعے پوری دنیا میں دھوم مچا دی اور دور جدید کے پیغام رساں ذریعے سے یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ 44برس کی ہو گئیں اب کو ئی انہیں ’’بچی ‘‘ تصور نہ کرے۔ ممتاز مسلم لیگی رہنما چوہدری تنویر خان کے صاحبزادے بیرسٹر دانیال چوہدری تو اسی روز اپنی باجی مریم نواز کو سالگرہ کی مبارک دینے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے اب کی بار ان کی سالگرہ کے موقع پر ان کے والد میاں نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز موجود نہ تھے۔ ’’ہیپی برتھ ڈے مریم ‘‘ ٹوئیٹرٹاپ ٹرینڈ بن گیا اس سے ان کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ مریم نواز نے اپنی 44 ویں سالگرہ پر ٹوئیٹرپراپنے پیغام میں کہا کہ ’’میری سالگرہ پر آپ سب کی خوبصورت اوردل کو چھو جانے والی نیک خواہشات اور دعائوں کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کا پیار میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، آپ پر اللہ کی رحمت ہو‘‘ بیشمارمبارکبادوں کے درمیان ایک صارف نے مریم نواز کی تعریف کرتے ہوئے ان سے یہ بھی پوچھ لیا کہ’’ آپ کی عمر کیا ہے؟۔ جس پر مریم نواز نے کہا کہ وہ 44 سال کی ہو گئیں ہیں۔ٹوئیٹرصارفین نے مریم نواز کی مختلف تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے انہیں سالگرہ کے حوالے سے خوبصورت تہنیتی پیغام بھیجے ہیں۔ وہ جرأت و استقامت کے ساتھ وقت کے ’’جبر‘‘ کے سامنے کھڑی ہیں اور اپنی علیل والدہ کی تیمارداری کرنے کی بجائے اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے احتساب عدالت کے سامنے پیش ہو رہی ہیں کسی شخص کو لیڈر بنانے کے لئے وقت کا ’’جبر‘‘ ہی کافی ہوتا ہے عدالتوں میں دھکے کھانے کے بعد لوگ لیڈر بنتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی سالگرہ کے موقع پر ایک انٹرویو بھی دیا ہے جس کی باز گشت سیاسی حلقوں میں سنی گئی ہے نیویارک ٹائمز کو دئیے گئے انٹرویو میں مریم نواز سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ ’’ شہباز شریف میرے ہیروہیں، میں اپنی زندگی سے بڑھ کراپنے چچا کوچاہتی ہوںشہبازشریف سب سے زیادہ اہلیت کے حامل ہیں لیکن خاندان کافیصلہ ہے کہ میں پارٹی کی قیادت سنبھالوں،پارٹی یاخاندان میں اختلافات کی باتیں بے بنیادہیں، یہ منقسم گھرانہ نہیںمیراعزم پختہ اور ارادے مضبوط ہیں،اورمیں موجودہ صورت حال سے پریشان نہیں ہوں،مجھے پتہ ہے حالات کا کیسے مقابلہ کیا جاتاہے،شریف خاندان میں کوئی دراڑ نہیں۔ خاندان میں اختلافات کی خبروں پر مریم کا کہنا تھا کہ ’’پارٹی یاخاندان میں اختلافات کی باتیں بے بنیاد ہیں، شریف فیملی خاندانی اقدارپربہت فخرمحسوس کرتی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ قریبی افراد کہتے ہیں سیاست میں میرا اہم کردارہے، معلوم نہیں کل مقدرمیں کیا ہولیکن مجھے عوام میں جانا ہے، سب سے پہلے میرے دادا نے مجھے خاندانی امورمیں اہم مقام دیا، دادا کے بعد والد نے بھی میری سیاسی قابلیت کوسراہا، قبل اس کے کہ ان کے انٹرویو کے مختلف معنی پہنائے جاتے انہوں نے انٹرویو کی اشاعت کے فوراً بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر وضاحت کر دی اور کہا کہ ’’ خاندان کے کہنے پر پارٹی قیادت سنبھالنے کا بیان مجھ سے غلط طور پر منسوب کیا گیا ہے ، شریف خاندان میں ایسا کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوا‘‘۔مریم نواز نے کہا ہے کہ ’’ پارٹی قیادت کی خواہش مند نہیں، ورکر کے طور پر کام کرکے خوش ہوں، نواز شریف ہی پارٹی کی قیادت کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے‘‘ ان کے اس انٹرویو سے غلط فہمیاں جنم لے سکتی تھیں لیکن انہوں نے وضاحت کر کے پارٹی میں ایک غیرضروری بحث کو وہیں ختم کر دیاہمیں مریم نواز کی بات کو تسلیم کرنا چاہیے جو انہوں نے انٹرویو کی وضاحت میں کہی ہے جب سے میاں نواز شریف کو عدالتی فیصلے کے ذریعے نااہل قرار دلوا کر اقتدار سے نکا لاگیا ہے مسلم لیگ (ن) میں قیادت کا بحران جنم لے سکتا تھا میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف کو ہی پارٹی کا صدربنانے کا فیصلہ کیا تھا جس طرح انہوں نے میاں شہباز شریف کو عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کر کے اس پر نظر ثانی کر دی اسی طرح اس خدشے کا اظہار بھی کیا جانے لگا مریم نواز کو پارٹی کا صدر بنایا جا رہا ہے سابق صدر چوہدری نثار علی خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں مریم نواز کی سربرہی قبول نہ کرنے کا اعلا ن کر کے ان کو پارٹی قیادت نہ دینے کے لئے پیش بندی کر دی تھی انہوں نے میاں نواز شریف کی قیادت میں کام کرنے کا عندیہ دے کر واضح پیغام دے دیا اور کہا کہ ’’ میاں نواز شریف کے ساتھ تو گذارہ ہو سکتا ہے اگر وہ پارٹی کے صدر نہ منتخب ہو سکے تو میاں شہباز شریف کو اپنا قائد قبول کر لیں گے‘‘ لیکن انتخابی اصلاحات ایکٹ2017ء میں شق 203کی شمولیت سے میاں نواز شریف کے دوبارہ صدر بننے کی راہ ہموارہو گئی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید پہلی بار کسی حکمران کو اقتدار سے نکالے جانے کے دو ماہ بعد دوبارہ ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کا موقع ملا ہو میاں نواز شریف نے نے دوبارہ مسلم لیگ(ن) کا صدر بن کر ان تمام قوتوں کومات کر دیا ہے جو انہیں ملکی سیاست سے دیس نکا لا دینا چاہتی تھیں لیکن ان قوتوں کو میاں نواز شریف کا دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا صدر بننا پسند نہیں جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کو ’’مائنس ون‘‘ کا فارمولہ دے دیا گیا جس پر تاحال مسلم لیگ(ن) کی قیادت کوئی فیصلہ نہیں کر سکی چوہدری نثار علی خان جو عسکری پس منظر رکھنے والے شاید واحد قد آور سیاسی رہنما ہیں جو فوج کے قریب تصور کئے جاتے ہیں وہ پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ سے لڑانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جب تک پارٹی کی اعلیٰ قیادت ان کے مشوروں پر عمل درآمد کرتی رہی انہوں نے پارٹی کو فوج سے تصام سے بچائے رکھا ہے انہوں نے آخری بار ڈان لیکس کے موقع پر جھگڑا ختم کرایا لیکن جب سے ان کو ایک کونے میں لا بٹھا نے کی کوشش کی گئی پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایسے فاصلے پیدا ہوئے جنہیں ختم کرنے میں بڑا وقت لگے گا ۔ جب سے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزرارت داخلہ کا حلف نہیں اٹھایا وہ زیادہ وقت پنجاب ہائوس یا اپنے حلقہ انتخاب میں گزارتے ہیں کبھی وہ کلرسیداں میں پریس کانفرنس کرتے ہیں ،کبھی ٹیکسلا میں اخبار نویسوں سے دل کی باتیں کرتے ہیں مجھے ذاتی طور اس بات کا علم ہے چوہدری نثار علی خان اپنے دل کی بات بہت کم لوگوں کو بتاتے ہیں وہ تنہائی پسند لیڈر ہیں مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں لیکن دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں وزارت سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے دو تین پریس کانفرنسیں کی ہیں انہوں نے کلر سیداں میں پریس کانفرنس میں بر ملا یہ بات کہی ہے کہ ’’آئی ایس آئی کے سابق چیف کا ’’را‘‘ کے سابق چیف سے جپھی ڈالنا اچھا نہیں لگا‘‘ کچھ حلقوں کو ان کی بات بری لگے لیکن وہ دھڑلے سے وہ بات کہہ دیتے ہیں جو پارٹی کیلئے سود مند ہے کسی مسلم لیگی نے ان کے بیان پر تبصرہ نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے مسلم لیگی رہنمائوں میں ان کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے انہوں نے اپنے دل کی بات کہہ دی کہ ’’حکومت کا بھارت سے دوستیاں بڑھانااچھا نہیں لگتا‘‘ ، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) آئندہ الیکشن میں متحد ہو کر میدان میں اترے گی، عزت عہدوں سے نہیں کردار سے بنتی ہے، اگر عہدوں کے پیچھے بھاگتا تو سیاسی طور پر بار بار بک چکا ہوتا، چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایک طرف تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے اور اگر مسلم لیگ (ن) میں اختلاف سامنے آتا ہے تو اس کو کرائسز کے طور پر دکھاتے ہیں، مسلم لیگ (ن) میں کوئی فارورڈ بلاک بن رہا ہے اور نہ ہی اختلاف رائے پارٹی کی تقسیم کا باعث بنے گا چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قوم، حکومت، پارلیمنٹ اور دیگر اداروں نے یکجا ہوکر پیغام دیا کہ ہم سے عزت سے بات کرو اور عزت لو، یہ وہ پیغام تھا جس سے پاک امریکہ تعلقات میں ٹھہراؤ آیا ہے، اب حکومت کا فرض ہے اس اتحاد و اتفاق پر قائم رہے۔ مسلم لیگ(ن) کے حالیہ بحران میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والے چار نام ہیں میاں نواز شریف کے سیاسی جانشین کے طور پر میاں شہباز شریف اور مریم نواز کا نام لیا جاتا رہا ہے جب کہ چوہدری نثار علی خان کی شخصیت ٹی وی اینکر پرسنز اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ہدف بنی رہی ہے انہوں نے نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان فاصلے بڑھانے کی بہت کوشش کی لیکن ان کے تمام قیافے اور اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ لال حویلی کا مکین پچھلے کئی روز سے70 مسلم لیگی ارکان کے جوگر پہن کر بھاگنے کی بات کر رہا ہے وہ چوہدری نثارعلی خان کو بھی تختہ مشق بناتا رہا ہے پہلی بار چوہدری نثار علی خان نے شیخ رشید احمد کے بیانات کا نوٹس لیا اور انہیں منہ بند رکھنے کا مشورہ دیا بصورت دیگر وہ ان کے سیاسی اوراق کھول دیں گے ۔ اس وقت مسلم لیگ کی سیاست جن چار کرداروں کے گرد گھومتی ہے اگر وہ سوچ سمجھ کر چلیں تو مسلم لیگ(ن) کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا میاں نواز شریف اس وقت اپنی زندگی کی مشکل ترین سیاسی انگز کھیل رہے ہیں سیاسی گدھ ان کی پارٹی کا شیرازہ بکھرنے کا انتظار کرر ہے ہیں اس وقت سیاسی جانشینی کا مسئلہ نہیں بلکہ حکومت اور مسلم لیگ(ن) کو ’’طوفان‘‘ سے نکال کر منزل مقصود تک پہنچانا ہے۔