”معاشی دھماکے سے پہلے کڑاکے؟“

کالم نگار  |  اثر چوہان
”معاشی دھماکے سے پہلے کڑاکے؟“

یہ درست ہے کہ پاکستان نے ”ایٹمی دھماکا“ میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں کِیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوّت بنانے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر میاں نواز شریف سے پہلے آنے والے تمام حکمرانوں نے بھی اپنے اپنے طور پر جُرا¿ت اور استقامت کا ثبوت دِیا۔ گویا ایٹمی دھماکا کرنا ”کلِّے بندے دَا کمّ نہیں سی“۔ اصل کارنامہ تو پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن کی ٹیم کا تھا۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا سلوک کِیا؟ وہی جو اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے فاتح سندھ محمد قاسم سے کِیا تھا۔ سلیمان بن عبدالملک کو محمد بن قاسم سے ذاتی عِناد تھا۔ اُس نے فاتح سندھ کو جیل میں اذیتیں دِلوا دِلوا کر مروا دیا۔
امریکہ کی خواہش تھی صدر جنرل پرویز مشرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اُس کے حوالے کردیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔ ڈاکٹر صاحب قوم کے ہیرو بن چُکے تھے۔ بھارتی حکمرانوں نے اپنے مسلمان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر اے پی جے عبداُلکلام کو صدر جمہوریہ منتخب کرایا اور ہمارے یہاں آصف علی زرداری اور پھرممنون حسین کے سر پر صدارت کا ہُما بٹھا دِیا گیا۔ کیا یہ دونوں اصحاب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مرتبے کے لوگ ہیں؟ صدرِ مملکت کا انتخاب براہ راست عوام کرتے تو نتیجہ مختلف نِکلتا۔
11مئی 2013ءکے عام انتخابات میں وفاق اور پنجاب میں بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد میاں نواز شریف 28 مئی 2013ءکو (یوم تکبیر کے موقع پر) لاہور میں ڈاکٹر مجید نظامی کے ڈیرے (ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان) پر حاضر ہوئے تو تقریب کے صدر جناب مجید نظامی حاضرین کو بتا رہے تھے کہ ”وزیراعظم نواز شریف کو ایٹمی دھماکا کرنے کی صُورت میں دھمکیاں دی جارہی تھیں اور نہ کرنے کی صورت میں ہزاروں بلین ڈالرز کی رشوت پیش کی جا رہی تھی۔ وزیراعظم مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سے دھماکا کرنے کا یا نہ کرنے کے بارے میں مشورے کر رہے تھے۔ قومی اخبارات کے ایڈیٹروں کے اجلاس میں اُن سے بھی رائے طلب کی گئی تو مَیں نے کہا۔ وزیراعظم! آپ ایٹمی دھماکا ضرور کردیں ورنہ قوم آپ کا دھماکا کردے گی۔ مَیں آپ کا دھماکا کردوں گا“۔
ڈاکٹر مجید نظامی صاحب بتا رہے تھے کہ ”چند دِن بعد وزیراعظم نواز شریف نے چاغی کے پہاڑ سے مجھے ٹیلی فون پر بتایا ”مجید نظامی صاحب! مَیں نے ایٹمی دھماکا کر کے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دِیا ہے۔ مبارک ہو!“ 28 مئی 2013ءکی تقریب میں ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کو گواہ بنا کر قوم سے وعدہ کِیا کہ میری حکومت اب معاشی دھماکا کرے گی“۔ ڈاکٹر مجید نظامی اور پاکستانی قوم نے تو یہی سمجھا تھا کہ اپنی وزارتِ عظمیٰ کے تیسرے دَور میں میاں نواز شریف غریبوں کے حق میں ”معاشی انقلاب“ لائیں گے“۔ میاں صاحب نے اپنی تقریر میں یہ بھی فرمایا تھا کہ ”اب پاکستان تبدیل ہوگا اور پاکستان کے عوام کی زندگی میں تبدیلی بھی آئے گی۔ ہر گھر میں روشنیوں کے چراغ جلیں گے“۔
ذوالفقار علی بھٹو پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے سوشلزم/ اسلامی سوشلزم کے نام پر غریبوں کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کے لئے انقلاب لانے کا وعدہ کِیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ”بھٹو ازم کے نام پر غریبوں کے حق میں ”انقلاب“ لانے کا اعلان کِیا اور اپنے 5 سالہ دورِ صدارت میں جناب آصف زرداری کے نزدیک ”بینظیر انکم سپورٹ“ ہی غریبوں کے حق میں ”اصل انقلاب“ تھا۔ جِس کے تحت غیر ملکی امداد سے چند لاکھ بیوہ اور غریب خواتین کو ایک ہزار روپے ماہوار وظیفہ مِلتا ہے اور اب اپنے فرماں بردار بیٹے کو 40 لاکھ ڈالر اُدھار دینے والے وفاقی وزیر خزانہ جناب اسحق ڈار فرماتے ہیں کہ ”ہم نئے بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں۔ ”دھماکا “ کے لغوی معنی ہیں ”کودنے کی آواز، زمین پر زور سے پاﺅں مارنے کی آواز“۔ ہاتھی پر لادنے کی توپ کو بھی دھماکا کہتے ہیں۔ یہ توپ کون چلائے گا؟ کیا جنابِ ڈار؟
اسحاق ڈار سے ایک نیوز چینل پر اینکر پرسن نے کہا کہ ”یورپی ملکوں میں دس دس پندرہ پندرہ سال اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوتا، کیا پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکتا؟“ تو جنابِ ڈار نے چاروں طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ”جی نہیں! پاکستان میں "Free Economy" ہے“۔ فری اکانومی کا مطلب ہے ”معاشی دھما چوکڑی“ تو معزز قارئین و قاریات! معاشی دھما چوکڑی میں غریبوں کے حق میں انقلاب کون لائے گا؟ اور کیسے؟ وزیراعظم نواز شریف 28 مئی 2014ءاور 28 مئی 2015ءکو ایوانِ کارکنان تحریکِ پاکستان کی یوم تکبیر کی تقاریب میں تشریف نہیں لے جاسکے۔ 28 مئی 2014ءکو چیئرمین نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ ڈاکٹر مجید نظامی صاحب حیات تھے جب انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ”ہمیں اپنے اندر وطنِ عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی نگہبانی کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے اوراپنی صفوں میں موجود اُن بھارتی شردھالوﺅں پربھی کڑی نظر رکھنا ہوگی جو مسئلہ کشمیر کو پسِ پُشت ڈال کر ہمارے ازلی دشمن بھارت سے دوستی اور تجارت کا راگ الاپ رہے ہیں“۔
ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کو بہت دُکھ تھا کہ ”ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان کے حکمران بھارت کے شردھالوﺅں (عقیدت مندوں) کی حیثیت سے بھارت سے دوستی اور تجارت کا راگ کیوں الاپ رہے ہیں؟“ 11 مئی 2013ءکے عام انتخابات کے بعد میاں نواز شریف کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ”عوام نے مسلم لیگ (ن) کو بھارت سے دوستی اور تجارت کے لئے ووٹ دئیے ہیں“۔ ڈاکٹرمجید نظامی صاحب وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے (غریبوں کے حق میں) معاشی دھماکا کئے جانے کے انتظار میں خالق حقیقی سے جامِلے۔ چیئرمین ”نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ“ کی حیثیت سے جناب محمد رفیق تارڑ اُن کے جانشین ہیں۔ جناب محمد رفیق تارڑ اُن دنوں صدرِ پاکستان تھے جب وزیراعظم نواز شریف نے ایٹمی دھماکا کِیا تھا۔ گویا جنابِ تارڑ بھی ”دھماکوی“ ہیں۔ جناب وزیراعظم نے جناب محمد رفیق تارڑ کے نام اپنے پیغام میں نوید دی ہے کہ ”میری حکومت اب معاشی دھماکا کرے گی“۔
جناب محمد رفیق تارڑ رجائیت پسند ہیں اور میاں نواز شریف اُن کے پرانے ساتھی، ممکن ہے وہ اِس ”نوید“ کو غریبوں کے حق میں معاشی انقلاب کی چھوٹی سی کِرن سمجھ لیں؟ عوامی جمہوریہ چین کے بانی چیئرمین ماوزے تنگ نے 1927ءمیں ھونان کی کسان تاریخ کے بارے میں لِکھا تھا کہ ”انقلاب کوئی دعوت طعام، مضمون نویسی، مصّوری یا کشیدہ کاری نہیں۔ یہ اِتنا نفیس، اِتنا پُرسکون، اور کریم اُلنفس، اتنا معتدل، اتنا رحم دِل، مو¿دب، محتاط اور عالی ظرف نہیں ہوسکتا۔ انقلاب تو ایک بغاوت ہے۔ ایک ایسی تشدد آمیز کارروائی جِس کے ذریعے ایک طبقہ دوسرے طبقے کا تختہ اُلٹ دیتا ہے“۔
ماوزے تنگ نے ترکے میں چند کتابوں کے سِوا کچھ نہیں چھوڑا تھا۔ قائداعظم نے اپنی زندگی میں ہی اپنی جائیداد کا ٹرسٹ بنا کر اسے قوم کے نام کردِیا تھا۔ جمہوریہ تُرکیہ کے بانی اتا تُرک غازی مصطفےٰ کمال نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ کیا معاشی دھما چوکڑی کے دور میں جب غریبوں کے فاقوں سے کڑاکے نکل رہے ہیں سرمایہ دار اورسرمایہ کار وزیراعظم نواز شریف اپنے ہی طبقے (جنہیں میاں شہباز شریف اشرافیہ قرار دیتے ہیں) کے خلاف معاشی دھماکا کر سکیں گے؟