صد حیف! پاکستان عالم عرب سے کٹ گیا

صد حیف! پاکستان عالم عرب سے کٹ گیا

میں بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حالات نے یکا یک ہمیں گھیر لیا ، ہمیں کسی منظر یا پس منظر سے آگاہی نہ تھی اور ہم اصول پسندی پر بضد ہو کر اب عالم عرب سے کٹتے چلے جا رہے ہیں۔
ہمارا فارن آفس  عقل کااستعمال کرتا اور ہمارے دفاعی اور اسٹریٹیجی کے ماہرین ہماری صحیح راہنمائی کے قابل ہوتے تو ہم سے یہ فاش غلطی نہ ہوتی جس کا ارتکاب کرنے میں ہم نے سرعت سے کام لیا۔
میں اب بھی کہتا ہوں کہ ہمیں یمن میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے تھی مگر ہمیں سعودی عرب  سے بے وفائی بھی نہیں کرنا چاہئے تھی۔ ہمیں کہنا چاہئے تھے کہ اے برادر! پورا پاکستان آپ کے ساتھ ہے، ہماری فوجی قوت آپ کے زیر کمان ہے، مگر ہم ساتھ ہی سمجھا سکتے تھے کہ یمن کے مسئلے کے حل کے لئے فوری جنگ کا رستہ نہ اختیار کیا جائے اور مجھے یقین ہے کہ جو سعودی عرب اب جنگ بندی پر آمادہ ہو چکا ہے، وہ ہماری بات کو وزن دیتا مگر ہم نے پہلے تو سعودیہ کی آواز پر لبیک کہنے سے انکار کیا پھر کہا کہ مسئلے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے، ہم نے دانشمندی کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ حماقت کا ارتکاب کیا، میرے خیال میں وزیر اعظم کو جلد بازی میں پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنے کے بجائے قوم کا ذہن تیار کرنا چاہئے تھا۔وہ صاف کہتے کہ ٹھیک ہے سعودیہ کے مجھ پر بہت احسانات ہیں لیکن پاکستان اور پاکستانی قوم پر اسکے احسانات تو شمار ہی نہیں کئے جا سکتے۔
اصل میں ہم نے غلطی اس وقت کی جب دو سال قبل سعودیہ نے ہمیں چپکے سے اربوں ڈالر دان کر دیئے، سعودیہ کی کوشش تھی کہ پاکستانی قوم اسے احسان کے طور پر نہ لے، اس لئے اس نے وہ راستہ اختیار کیا کہ لینے والے ہاتھ کو دینے والے ہاتھ کی خبر بھی نہ ہو۔احسان کا اصل طریقہ تو یہی ہے مگر اس مرحلے پر بھی ہماری حکومت نے بلنڈر کیا اور اربوں ڈالر کی اس سوغات پر یوں بحث چھڑ گئی جیسے سعودیہ نے راتوں رات اسٹیٹ بنک آف پاکستان پر ڈاکہ ڈال لیا ہو، ہمارے میڈیا نے سعودیہ کے لتے لینے شروع کر دئے اور یہ دورکی کوڑی تلاش کی گئی کہ یہ پیسہ بغیر مطلب کے نہیں ہے۔ اب یہ تو میڈیا کے بقراط ہی جانتے ہیں کہ سعودیہ کو جو ضرورت دو سال بعد پڑی ، اس کے لئے اتنی پیشگی ادائیگی کیوں کی گئی، آج کی دنیا تو خریدو فروخت کا بازار ہے، پیسہ ہر چیز ہر وقت خرید سکتا ہے ۔ اور اگر کسی نے ہماری طرح تہیہ کر رکھا ہو کہ پیسہ بھی ہضم کر لینا ہے اور سودا بھی نہیں دینا تو یہ کوئی نئی قسم کا بازار ہے جس کے مہاجن ہمی ہیں۔
بہرحال بات کہنے کی یہ ہے کہ عالم اسلام میں اس وقت پاکستان کی فوجی قوت ایک مسلمہ امر ہے، ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا ایک دنیا سے لوہا منوا لیا، اور اس طرح منوا لیا کہ امریکی وزیر خارجہ سے لے کر چینی سفیر تک جی ایچ کیو میں حاضری دینے لگے ، میں دوسرے لوگوں کی طرح یہ نہیں کہتا کہ فوج نے متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے لیکن یہ تو مانیئے کہ اگر کوئی ادارہ اپنا آپ منوالیتا ہے تو پوری دنیا اس کے سامنے جھک کر سلام کرتی ہے چاہے آپ نے ڈینگی پر ہی قابو پا کر نہ دکھا دیا ہو یا مختصر عرصے میں لاہور کی میٹرو چلا کر دکھا دی ہو۔
پاکستان کی اس دفاعی قوت کو امریکہ مانتا ہے، چین مانتا ہے، روس مانتا ہے، نیٹو کے ممالک مانتے ہیں، اس کامیابی کے پیش نظر پاکستان خطے میں ہی نہیں عالمی سطح پر بھی ایک قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے مگر سعودیہ کا ٹیسٹ کیس آیا تو ہم نے پہلا موقع ہی ضائع کر دیا۔براہ کرم اس کے لئے مجھے نہ کوسا جائے ، میرے کالموں پر پارلیمنٹ، حکومت اور جی ایچ کیو فیصلے نہیں کرتے، وہ سب اپنا ذہن اپلائی کرتے ہیں، اپنی اپنی سوچ اور فہم کے مالک ہیں۔میں نے تو چند اصولی باتیں کی تھیں مگر میں نے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کو ویٹو نہیں کیا، نہ ویٹو کرنے کا اختیار میرے ہاتھ میں ہے،  میرے بس میں ہوتا تو میں اڑ کر نجران کے بارڈر پر پہنچ جاتا، جہاں سعودی فوجی جوان اور افسر شہید ہو رہے ہیں ،میں ان کے سامنے ڈھال بن جاتا۔
مجھے لوگوں نے بتایا کہ نواز شریف کے ساتھ باقی سیاسی پارٹیوں نے ہاتھ کیا ہے اور انہیں اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے اور ملک کے محسن سعودیہ کو منہ دکھا سکیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ہم نے اپنے ساتھ گناہ عظیم کا ارتکاب کیا ہے، ہم عالم اسلام کے دفاعی، سیاسی امام بن سکتے تھے، مگر ہم  بد قسمتی سے بر وقت اور صحیح فیصلوں کی قدرت نہیں رکھتے تھے۔
اب عالم عرب نے تو اپنے لئے ہاتھ پائوں مارنے تھے، جیسے ہی سعودیہ کا مسئلہ کھڑا ہوا، عالم عرب کے راہنمائوں نے بیک آواز سعودیہ کی حمائت کا اعلان کیا،شرم الشیخ میں ہنگامی اجلاس ہوا، مشترکہ عرب فورس کھڑی کرنے کا فیصلہ ہو گیا،یہ دو ماہ پہلے کی بات ہے ، اس فیصلے کو عملی شکل دینے کے لئے مسلسل سوچ بچار جاری رہا، آخر چند روز پہلے عرب افواج کے سربراہوں نے مشترکہ فوج کی تشکیل کے لئے ایک مسودے کی منظوری دے دی ہے، اس کے مطابق کوئی سے تین ملک بھی اس معاہدے میں شامل ہو جائیں تو یہ فوج وجود میں آجائے گی اور ان کی مشترکہ کمان تشکیل پا جائے گی، تمام فیصلے دو تہائی اکثریت سے ہوں گے،اور یہ مشترکہ فوج عرب ممالک میں کسی بھی جگہ خطرے کا مقابلہ کرے گی ۔ مزید براں ایرانی حمائت یافتہ گروپوں کے چیلنج کا بھی مل کر جواب دیا جائے گا۔اس مسودے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ عرب ممالک کو پہلا اور آخری خطرہ ایران سے محسوس ہو رہا ہے، یہ خطرہ کسی وہم کاتیجہ تو نہیں ہو سکتا، اگر تمام عرب ممالک کے فوجی سربراہان یہ بات کر رہے ہیں تو میں حقیقت کا عنصر ضرور شامل ہوگا۔اب یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ تمام عرب فوجی سربراہوں کے دماغ چل گئے ہیں اور ایک ہم عقل و دانش کے ٹھیکے دار ہیں۔
پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کی وجہ سے اب مصر کو قائدانہ کردار مل گیا ہے۔ مصری فوج بہر حال مضبوط فوج ہے مگر اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت پاکستان سے کسی طور لگا نہیں کھاتی، مصری فوج نے اسرائیل سے تمام جنگیں ہاری ہیں مگر پاک فوج بھارت کے خلاف ہر جنگ میں ملک کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی ہے، اب تو ایٹمی اور میزائل پروگرام کی وجہ سے پاکستان ، بھارت کو ترکی بہ تر کی جواب دے سکتا ہے۔عالم عرب میں جو کردار مصری فوج نے موقع پا کر سنبھال لیا ہے، یہ پاکستان کے حصے میں آنا چاہئے تھا مگر ہم ٹرین مس کر چکے ہیں، اور اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔ اب ہمارے گن امریکہ گائے گا، چین گائے گا، روس گائے گا۔ نیٹو بلاک گائے گا مگر زہے افسوس، مسلم ممالک خاص طور پر عرب دنیا سے ہم یکا یک کٹ گئے ہیں ، چند لمحوں میں جو  وسیع خلیج حائل ہو گئی ہے، اس کو پاٹنے کے لئے عشرے لگ سکتے ہیں او ر وہ بھی اسی صورت میں جب ہم موجودہ حماقتوں کا اعادہ نہ کریں۔ ور یہ ہم سے ہو نہیں سکتا۔