جعلی ڈگریاں

کالم نگار  |  جاوید صدیق
جعلی ڈگریاں

ہمارے طالب علمی کے زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی تعلیمی سند پڑھے بغیر ‘ محنت کئے بغیر پیسے دے کر خریدی جا سکتی ہے۔ یہ بات ساٹھ کی دہائی کے آخر اور ستر کی دہائی کی ہے۔ اس زمانے میں کوئی ایسی خبر بھی کبھی پڑھنے کو نہیں ملی کہ کسی سرکاری افسر ‘ اہل کار ‘ استاد ‘ منتخب رکن اسمبلی یا کسی جج کی تعلیمی اسناد جعلی ہیں۔ پھر ستر کی دہائی کے آخر میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور معزول وزیراعظم کو گرفتار کر کے ان پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا تو سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس صفدر شاہ جنہوں نے بھٹو مرحوم کے حق میں فیصلہ دیا تھا ان کے بارے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ان کی ایف اے کی سند جعلی ہے۔ جسٹس شاہ ملک چھوڑ کر چلے گئے اور ان کا انتقال لندن میں ہوا۔ خدا جانے مرحوم جج صاحب کی سند درست تھی یا نہیں یا انہیں بدنام کرنے کی کوشش تھی۔ اسی کی دہائی میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ امتحانات دینے والے طلباء کو نقل کرنے کی سہولت دی جانے لگی ہے۔ یہ خرابی آہستہ آہستہ پھیلتی گئی اور وہ وقت بھی آیا جب یہ خبریں اخبارات میں شائع ہونے لگیں کہ امتحانی مراکز کے سودے ہو رہے ہیں یعنی جس ادارے میں میٹرک‘ ایف اے‘ ایف ایس سی‘ بی اے یا ایم اے کے امتحانات منعقد ہوتے تھے وہاں امتحان دینے والے طلباء اور طالبات کو نقل کرانے کے عوض امتحانی مرکز کے سپرنٹنڈنٹ اور نگرانی پر مامور عملہ کو بھاری رقمیں  ادا کی جاتی تھیں‘ امتحان دینے والوں کو  سوالات کے جوابات باہر سے لکھ کر اندر بھجوائے جانے لگے۔ یہ بھی ہونے لگا کہ امتحان دینے والے امیدوار کی جگہ کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ امتحانی کمرے میں بٹھا کر پرچے حل کرائے  جاتے تھے۔ ہمارے کئی لیڈروں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی جگہ کسی دوسرے قابل طالب علم یا استاد کو بٹھا کر اس سے  پرچے حل کرائے اور سند حاصل کر لی۔
نقل کرانے کا یہ رجحان حد سے بڑھا تو پھر بغیر پڑھے تعلیمی اسناد گھر بیٹھے ملنے لگیں ۔ میٹرک ‘ ایف اے بی اے‘ ایم اے کے علاوہ پیشہ ورانہ تعلیم کی اسناد بھی فروخت ہونے لگیں۔ اس جرم میں تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں کے بعض اہلکار شریک ہوگئے۔  نقل کرنے کے لئے موبائل فون اور دوسرے برقی آلات استعمال ہونے لگے۔جب یہ جرم بھی عام ہوا تو پھر جعل سازوں نے ایسے ادارے قائم کر لئے جو مختلف سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیمی اسناد جعلی طور پر بنا کر فروخت کرنے لگے۔ جس ملک میں مہارت سے جعلی کرنسی نوٹ چھاپ کر چلائے جا سکتے ہوں وہاں جعلی تعلیمی اسناد بنا کر فروخت کرنا مشکل کام نہیں۔
جب جنرل مشرف کے دور میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا رکن بننے کے لئے بی اے کی ڈگری ہونے کی شرط لگا دی گئی تو کئی سیاسی لیڈروں نے جعلی ڈگریاں لینا شروع کر دیں۔ جعلی ڈگری رکھنے والے جو ارکان نااہل قرار دئیے جا چکے ہیں وہ دندناتے پھرتے ہیں۔ ایک رکن جنہیں جعلی ڈگری رکھنے کے الزام میں ڈس کوالیفائی کیا گیا وہ ضمنی انتخاب جیت کر پھر اسمبلی میں پہنچ گئے۔
جب چھان بین شروع کی گئی تو پتہ چلا کہ کئی منتخب ارکان کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ جعلی ڈگری ہولڈر کئی ارکان اسمبلی اب اس جرم میں نا اہل بھی قراردئیے جا چکے ہیں۔ جب سرکاری ملازمتیں بکنے لگیں تو جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کی چاندی ہو گئی۔ انہوں نے مال دے کر سرکاری ملازمتیں حاصل کر لیں۔ اب تو کئی سرکاری محکموں سے وقتاً فوقتاً یہ خبریں آتی ہیں کہ اعلیٰ عہدے پر فائز کسی سرکاری افسر کی ڈگری جعلی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز کئی افسروں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہو چکی ہیں۔ ہمارے کئی پی ایچ ڈی حضرات پر بھی یہ الزامات لگ چکے ہیں کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ پورا یا جزوی طور پر چرایا ہے۔ کچھ حلقے تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ ہسپتالوں میں کئی ڈاکٹر اور سرکاری محکموں میں کام کرنے والے انجنیئرز جعلی ڈگریوں پر کام کر رہے ہیں۔ بعض وکلاء کے بارے میں دعوے کئے جاتے ہیں کہ ان کی ڈگریاں بھی مشکوک ہیں۔ صحافت کے شعبہ سے وابستہ کئی صحافیوں کی ڈگریاں بھی جعلی ہوسکتی ہیں۔ اگر سرکاری اور نجی اداروں کے کرتا دھرتا اپنے ملازمین کی ڈگریوں کی پڑتال کرائیں تو اصل  حقیقت سامنے آ سکتی ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہو چکا ہے کہ کسی سرکاری آفیسر‘ یا اعلیٰ عہدیدار کی گفتگو سن کر یا اس کی تحریر پڑھ کر شک ہونے لگتا ہے کہ موصوف یا موصوفہ اس منصب پر اپنی اہلیت یا صلاحیت کی وجہ سے فائز نہیں ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ ہمارے ایک دوست کی رائے یہ ہے کہ کہ پاکستان کے سرکاری اداروں اور نجی شعبہ میں قائم اداروں کی نااہلی اور اچھی کارکردگی نہ ہونے کی وجہ جہاں کرپشن ہے وہاں جعلی تعلیمی اسناد بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔
ان دنوں جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرنے والے ایک ادارے کا بڑا چرچا ہے۔ روزانہ اس کے بارے میں خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ ادارہ جعلی ڈگریوں سے حاصل ہونے والی بے پناہ کمائی کو سفید کرنے کے لئے  ٹی وی چینل بھی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس نے بڑے جید صحافیوں کی خدمات بھی حاصل کی تھیں۔ یہ ادارہ اب قانون کی گرفت میں آ رہا ہے لیکن ملک کے طول و عرض میں جعلی تعلیمی اسناد خرید کر سرکاری اور نجی اداروں میں ملازمتیں حاصل کر کے جو افراد ملک کا بیڑا غرق کر رہے ہیں ان کاکون احتساب کرے گا ؟