ایٹم بم سے ہم تک، جھنڈا چادر اور دوپٹہ

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
ایٹم بم سے ہم تک، جھنڈا چادر اور دوپٹہ

یوم تکبیر کی اہمیت کا اندازہ لگائیں کہ میرے تیسرے کالم کا آغاز بھی اس کے تذکرے سے ہو رہا ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام جو یوم تکبیر کی تقریب ہوتی ہے وہی بڑی تقریب ہے۔ یہ واقعی بڑی اور موثر تقریب تھی۔ اس تقریب میں نواز شریف کا پیغام بھی شاہد رشید نے پڑھ کر سنایا۔ صدر رفیق تارڑ نے صدارت کی اور گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ مہمان خصوصی تھے۔
شام کو ایوان اقبال میں ایک زبردست تقریب کے مہمان خصوصی مسلم لیگ کے ایم این اے حمزہ شہباز تھے۔ اسے ایک نیم سرکاری تقریب کہا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن سرکاری جماعت ہے۔ حمزہ شہباز کے پاس سرکاری عہدہ نہیں ہے مگر ان کی حیثیت اس سے بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کو کالا باغ ڈیم کی طرح سازش کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ کالا باغ ڈیم کوکیوں سازش کا شکار ہونے دیا گیا؟ اس سازش کا سراغ لگایا جائے۔ سازش اور سیاست میں فرق مٹتا جا رہا ہے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ ملک کو ایٹمی قوت بنانے والی قیادت ہی ملک کو معاشی ٹائیگر بنائے گی۔ یہ تو اچھی بات ہے مگر کالا باغ ڈیم بنا کے انرجی دھماکہ بھی کیا جائے۔ حمزہ جوان آدمی ہیں۔ وہ ہمت کریں اور ایسی صورتحال بنا دیں کہ کالا باغ ڈیم کے لئے راہ ہموار ہو جائے۔ اس کے بعد معاملہ خود بخود خوشگوار ہو جائے گا۔ علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آیا ہے مگر اس میں غلامی بھی ہے اور استادی بھی ہے۔ اس کا پاکستانی سیاست کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ ضرورت نئی سیاست کی ہے۔ نیا پاکستان بنانے والے بھی نئی سیاست نہیں کر سکے۔ عمران بھی روایتی سیاست کا حصہ بن گئے۔ حمزہ شہباز تو پیداوار ہی روایتی سیاست کی ہیں۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
حمزہ تو جوان ہیں مگر نواز شریف اور شہباز شریف اتنے پیر نہیں ہیں۔ البتہ اب پیر صاحبان سیاست میں ہیں۔ گورنر بھی اور وزیراعظم بھی رہے ہیں۔ ان کے مریدوں اور ووٹرز میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سرکاری عہدوں سے کبھی سیاسی پیروں کی عزت میں اضافہ نہیں ہوا مگر مشائخ عظام کے لئے میرے دل میں عزت ہے کہ قائداعظم کو جب برصغیر کے کئی علماءنے کافراعظم کہا تو پیر جماعت علی شاہ اور دوسرے مشائخ کرام نے قائداعظم کا ساتھ دیا۔
اب بھی غیرسیاسی پیران کرام پاکستان اور نظریہ پاکستان کے پوری طرح حامی ہیں۔ اس کے لئے میرے ذہن میں ایک بہت بڑی روحانی شخصیت پیر سید کبیر علی شاہ ہیں۔پیر صاحب ہر سال 12 ربیع الاول کو جشن میلاد کا افتتاح مجید نظامی صاحب سے کرواتے تھے۔ نظامی صاحب لاہور کے خیابان چورہ شریف میں تشریف لے جاتے تھے۔ پیر صاحب نے ایک بہت بڑا اجلاس الحمرا II میں نظامی صاحب کے اعزاز میں کیا تھا جس میں ان کی دستار بندی کی گئی تھی۔ پگڑی کے ساتھ یہ تصویریں آج بھی برادرم شاہد رشید کے دفتر میں موجود ہیں۔ یہ شاندار تقریب پیر صاحب کی چادر اوڑھ تحریک کے تسلسل میں تھی۔ اب تک لاکھوں چادریں خواتین میں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ یہ تحریک جنرل مشرف کے اس بیان کے بعد شروع کی گئی کہ پاکستان میں عورتیں نیکریں پہنیں گی۔ میرا اعزاز ہے کہ اس حوالے سے پہلا کالم میں نے لکھا تھا۔
بات یوم تکبیر کے تذکرے سے شروع ہوئی تھی۔
یوم تکبیر صرف مسلم لیگ ن کی سرگرمی ہو کے رہ گئی ہے۔ لاہور میں کئی تقریبات مسلم لیگ ن کی ہوئیں۔ ایک تقریب میں ایم پی اے خواجہ عمران نذیر اور ایم این اے پرویز ملک نے خطاب کیا۔ جبکہ یوم تکبیر ایک قومی دن کی طرح منایا جانا چاہئے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی کے لئے بھٹو صاحب نے سوچا تھا تو پیپلز پارٹی کے جیالے اس کا کریڈٹ کیوں نہیں لیتے۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ایٹم بم کے لئے کام شروع کیا مگر اب ڈاکٹر صاحب کا نام واجبی طور پر لیا جاتا ہے۔ جنرل ضیاءکے زمانے میں یہ کام مکمل ہوا۔ ایٹم بم بن گیا تھا۔ دھماکے کرنے کا شرف نواز شریف کو ملا۔ وہ اپنے اس کریڈٹ کو یاد رکھیں۔ اس کریڈٹ کو کریڈیبلٹی بنائیں۔ پاکستان کے سب لوگوں کو اس اعزاز کی یاد میں شریک کریں۔ یہ بات سیاسی طور پر بھی ان کے لئے اچھی ہو گی۔
ایٹمی دھماکہ کے بعد معاشی دھماکہ بہت ولولہ انگیز ہے۔ مگر کالا باغ ڈیم بنا کے انرجی دھماکہ بھی کریں۔ کیا کوئی سیاسی دھماکہ بھی ہونا ہے۔ اس پر غور کریں۔
آخر میں ایک پنجابی شاعرہ تسنیم تصدق کا ذکر کہ وہ حلقہ¿ تصنیف ادب کے ساتھ بڑے عرصے سے متعلق ہیں۔ شعر و ادب اور لکھنے والوں کے لئے بڑے تخلیقی جذبے سے سرگرم رہتی ہیں۔ ان کا پنجابی شعری مجموعہ شائع ہو کر آنے والا ہے۔ مجھے اس کتاب کے نام نے بہت متاثر کیا۔ ”دوپٹہ“۔ یہ نام کئی کیفیتیں ذہن میں لاتا ہے۔ ایک لفظ کے نام معنویت والے ہوں تو اچھے لگتے ہیں۔ تسنیم تصدق جدید لہجے کی شاعرہ ہیں۔ وہ اپنے رکھ رکھاﺅ میں ایک ماڈرن خاتون ہیں۔ جو زندگی کی مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہیں۔ میرے خیال میں دوپٹہ عورت کی عزت و تکریم میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے حسن و جمال کو بھی دوبالا کر دیتا ہے۔ جو بات ممتاز مفتی نے بانو قدسیہ کے لئے لکھی ہے۔ جدید و قدیم کا سنگھم ہی خواتین حضرات کو سربلند کرتا ہے۔
”بانو قدسیہ اندر سے قدیم اور باہر سے جدید ہے۔“
پرانی روایت اور نئی حکایت سے وابستگی ہی عورت کو ممتاز کرتی ہے۔ ہر عورت کو اس بات پر غور کرنا چاہئے۔ فیصل آباد کی ایک شاعرہ کے شعری مجموعے کا نام بہت پسند ہے۔ ”ہمیشہ۔“ ہمیشگی اور وابستگی میں کیا قدر مشترک ہے۔