کس کی ہے یہ آواز؟

صحافی  |  رفیق ڈوگر

یہ ہو کیا رہا ہے؟انسان انسان کے ساتھ کیا کررہا ہے اور مسلمان مسلمان کے ساتھ کیا کررہا ہے؟ یہ دنیا اور یہ ہمارا وطن عزیز جا کدھر رہے ہیں یا لے جائے کدھر کو جارہے ہیں؟ سوچیں اور اس خبر پر غور کریں ’’کولمبو 20 جون: امریکی ریلیف آرگنائزیشن CARE انٹرنیشنل کے سٹاف کے 2 ارکان کو یکم دسمبر 2006ء کو سری لنکا کے سیکرٹری دفاع کو بم دھماکے میں ہلاک کرنے کے منصوبے میں شامل ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سیکرٹری دفاع گوٹا بایا کو ہلاک کرنے کیلئے جس وین میں بم نصب کیا گیا تھا وہ این جی او CARE کی ملکیت ہے اور اس کے سٹاف کے 2 ارکان دھرما دھرن اور کانان وہ وین تامل ٹائیگر کے زیر کنٹرول علاقہ میں سے CARE کے دفتر سے کولمبو لائے تھے وین بھی پولیس کے قبضہ میں ہے۔ یہ خبر ایک انگریزی اخبار نے کولمبو میں اپنے نمائندے کے حوالے سے شائع کی تھی اتنی اہم خبر بین الاقوامی سطح پر چوکس میڈیا کے کسی نمائندے کو کسی نیوز ایجنسی کو بھی معلوم تھی؟ معلوم ہوتی تو ساری دنیا میں اس پر غورو شور نہ ہورہا ہوتا؟ اگر معلوم نہیں تھی تو کیوں نہیں تھی؟ کیا امن کے قیام و استحکام کیلئے سرگرم عالمی میڈیا اتنی اہم خبر سے بے نیاز ہو سکتا ہے؟ ہم انتظار کرتے رہے کہ کسی اور حوالے سے بھی اس خبر کو پڑھنے والوں تک پہنچایا جاتا ہے یا نہیں لیکن تادم تحریر عالمی میڈیا اس سے بے خبر ہے یا ہم عالمی میڈیا کی خبرداری سے غافل ہیں اور مسلسل سوچ رہے ہیں کہ وہ انٹرنیشنل سطح پر انسانوں کو ریلیف پہنچانے والی این جی او اس منصوبے میں شامل کیسے ہوگئی ہوگی اگر ایسی انٹرنیشنل ریلیف کی شہرت والی امریکی این جی او کے سٹاف اور وین کو بم دھماکوں کے منظم منصوبوں میں شامل کیا جاسکتا ہے تو باقی این جی اوز پر اعتماد کہاں تک کیا جاسکتا ہے؟ ریلیف کے بینر کے نیچے دہشت گردی؟ یہ کیا ہورہا ہے دنیا میں؟ اسی دوران ہم نے ایک اور خبر بھی پڑھی تھی۔ افغانستان میں مقیم القاعدہ کے کسی ابو الیزید نامی رہنما نے الجزیرہ ٹیلیویژن کو دیئے خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’موقع ملا تو ہم پاکستان کے ایٹمی ہتھیار امریکہ کے خلاف لڑائی میں استعمال کریں گے‘‘ یہ وہی بات ہے جو امریکہ کے صدر سے لیکر کسی بھی امریکی این جی او کے وین ڈرائیور تک سب کہتے رہتے ہیں کہ ’’طالبان اور القاعدہ والوں کو موقع ملا تو وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار امریکہ کے خلاف استعمال کریں گے‘‘ اسی ’’استعمال‘‘ کو روکنے کے نام پر امریکہ اور اس کے سارے اتحادی ہزاروں انسانوں اور مسلمانوں کو مار مروا چکے ہیں اور مار مروا رہے ہیں ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ابو الیزید قبلہ کو امریکی درندوں کی آواز اور منصوبوں میں زور پیدا کرنے کی مجبوری کیا تھی؟ وقت رواں میں ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں جو آپریشن جاری ہیں امریکہ اور اس کے سارے اتحادی اسے ملک کے دیگر قبائلی علاقوں تک پھیلانے پر سارا زور صرف کررہے ہیں اسی ایٹمی حملہ کے امکان کے مکمل خاتمہ کیلئے وہ کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں چھپے ہوئے القاعدہ والے اور سرگرم طالبان پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرکے ہمارے خلاف استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں اس لیے ان کا مکمل خاتمہ لازمی ہے تاکہ تمہارے ایٹمی ہتھیار بھی بچ جائیں اور ان سے ہم پر کوئی حملہ بھی کرنے کو موجود نہ رہے اسی مؤقف کے حوالے سے وہ ہمارے علاقوں پر ڈرون حملے کررہے ہیں معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں املاک برباد کررہے ہیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آسکتے ہیں یا نہیں یہ الگ بات ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بھی القاعدہ والا صلیب پوش سامراجیوں کے اس مؤقف اور منصوبے کو مضبوط بنانے اور جائز ثابت کرنے کیلئے اس مرحلہ پر کوئی ایسی بات یا اعلان کرسکتا ہے؟ اس انٹرویو سے پاکستان کے سب قبائلی علاقوں میں سوات اور مالاکنڈ جیسے آپریشن کرنے کے حق میں پاکستانی اور عالمی رائے عامہ ہموار ہوئی ہے یا مخالفت میں؟ ایسی بات اور اعلان تو کوئی عام سوجھ بوجھ کا بندہ بندی بھی نہیں کرسکتے۔ القاعدہ والے تو عالمی فہم و شعور والے بتائے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ان کا کوئی لیڈر بارک حسین اوباما کی آواز میں آواز ملائے کہ ہاں وہ ٹھیک ہی روتا ہے ہم تو واقعی وہی کرنا چاہتے ہیں جس کا وہ رونا رو رہا ہے۔ پیغام کیا ہے اس انٹرویو میں؟ یہی ناکہ بچنا چاہتے ہو اپنے ایٹمی ہتھیار بچانا چاہتے ہو تو وہی کرنا ہوگا تمہیں جو اوباما اور صدر آصف علی زرداری کہتے ہیں۔ نکلتی ہے کوئی اور سوچ کی راہ اس کے علاوہ؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پھر یہ ممکن کیسے ہوگیا کہ الجزیرہ والے افغانستان میں موجود اور محفوظ ان القاعدہ لیڈران تک سلامتی کے ساتھ پہنچ بھی گئے ان کا انٹرویو کرکے واپس بھی آگئے اور امریکہ اور اس کے ہوشیار اور خبردار اداروں میں سے کسی کو پتہ ہی نہ چل سکا؟ کیا اس آپریشن میں بھی کوئی امریکی ریلیف ادارہ تو شامل نہیں تھا جو سب کو ایسا ریلیف فراہم کردیتا ہے؟ القاعدہ والوں کو جب بھی جیسا بھی کوئی پیغام دینا ہو اپنے دوستوں اور دشمنوں کو الجزیرہ سے رابطہ میں انہیں کبھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ یہ القاعدہ والوں کی مہارت ہے‘ الجزیرہ والوں کا کمال لازوال ہے یا کسی CARE انٹرنیشنل کے ریلیف پروگرام کا حصہ ہے؟ اگر آپ میں سے کسی کی سمجھ بوجھ میں کچھ آئے تو براہ کرم رہنمائی فرمائیں جیسے امریکہ کیلئے
سب سے بڑا خطرہ خود امریکہ ہے ویسے ہی ہمیں تو القاعدہ کیلئے بھی سب سے بڑا خطرہ خود القاعدہ ہی دکھائی دینے لگا ہے اور درمیان میں ہم انسان اور مسلمان بے چارے بے گناہ پھنسے ہوئے ہیں۔ اس نازک مرحلہ پر اس اعلان سے فائدہ کسے پہنچا ہے اور اس کا سارا نقصان کس کے حصہ میں آرہا ہے؟ مجھے تو ایسے محسوس ہونے لگا ہے جیسے القاعدہ والوں نے کچھ پر تو ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کر بھی دیا ہے جس کے سبب نہ سوچ قابو میں رہی ہے نہ ہمت ساتھ دے رہی ہے۔ جائیں تو کہاں کریں تو کیا؟