شوکا رنگ باز، پانجہ اور عزیزیؔ !

صحافی  |  آفتاب اقبال

شوکت عزیز جیسی ہستیوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ہمارا دوست عزیزی ناہنجار ٹھیک ہی کہتا ہے، ہم واقعی ایک چغد قوم ہیں کہ مشرف اور ’’شوکے رنگ باز‘‘ جیسے لوگ ہمارے ساتھ ہر قسم کے مخول شخول کر کے آج یورپ میں بیٹھے جوانیاں مان رہے ہیں اور ہم ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ شوکت عزیز میں دیگر لاتعداد خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ وہ ہر اچھے اور ماہر سرکاری اہلکار کی طرح ہر متوقع حکمران کے ساتھ یاری دوستی نکال لیتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا، موصوف اپنے آخری ایام وزارت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ بے پناہ عقیدتمندی ظاہر کرنے لگے تھے حتیٰ کہ دبئی میں مقیم اپنے چند دوستوں کی وساطت سے بی بی کی خدمت میں حاضر بھی ہوئے اور کہا کہ بی بی! چونکہ ڈیل کے تحت مشرف اور سٹیبلشمنٹ نے آپ اور نوازشریف کو پاکستان آنے ہی نہیں دینا لہٰذا آپ کو پاکستان میں ایک ایسے فرنٹ مین کی ضرورت ہوگی جو سٹیبلشمنٹ اور امریکہ دونوں کے لئے قابل قبول ہو، اس لئے آپ مجھے آشیرباد دیں کیونکہ میں آپ کے نمائندے کی حیثیت سے بطور وزیراعظم ’’نوکری‘‘ جاری رکھنے کو تیار ہوں۔
خیر، بی بی نے تو اس فِدویانہ سی آفر کا جواب نہ دینا تھا نہ دیا مگر کان میں بھنک پڑتے ہی چودھری صاحبان نے ’’رنگ باز‘‘ کا پتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے صاف کرنے کا عزم کر لیا اور پھر فقط چند ماہ کے اندر اندر انہیں ان کے دوچار سوٹ کیسوں سمیت وہاں بھیج دیا جہاں سے آئے تھے۔ یہ الگ بات کہ مشرف کی دیگر باقیات کی طرح اب چودھری صاحبان بھی اسی طرف گامزن ہیں جہاں سے آئے تھے کہ ہماری ذاتی اطلاعات کے مطابق حامد ناصر چٹھہ اور ہمایوں اختر خان نے گروپ بندی کر کے چودھری صاحبان کو مسلم لیگ ق کی کھڑپینچی سے فارغ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ اس پلان کی ساری ڈرائینگ ’’انجینئر‘‘ پرویز مشرف نے تیار کی ہے کیونکہ ملکی سیاست کا جو حشر ہو چکا ہے اس میں موصوف بھی اپنا لْچ تلنا چاہتے ہیں۔
خیر، شوکت عزیز نے آج کل یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ’’نوازشریف کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات ہیں‘‘۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے موصوف نے کہا ہے انہوں نے ’’اپنے دور میں معاشی اصلاحات کر کے معیشت مستحکم کی‘‘ اور یہ کہ ’’گھر والوں کے اصرار پر سیاست کو خیرباد کہا‘‘۔ اس حوالے سے پہلی گزارش یہ ہے کہ نوازشریف کے ساتھ آپ کے ذاتی تعلقات کی بنیاد صرف اور صرف یہی ہوگی کہ آپ اندر خانے انہیں مشرف دور کی ’’تباہ اور سیاہ کاریوں‘‘ سے آگاہ کرتے ہوں گے کہ ہر اچھے ’’کارپوریٹ کلرک‘‘ کی طرح آپ کو اس فن پر بھی بڑا عبور حاصل ہے کہ آپ لگائی بجھائی خوب کر لیتے ہیں۔
سیاست کو خیرباد کہلوا کر آپ کے گھر والوں نے آپ کی دْم بچا لی ہے ورنہ یہ کسی بھی وقت حالات کی ’’کِڑکی‘‘ میں پھنس سکتی تھی۔ اس لئے آپ صرف یہی سمجھیں کہ آپ کے گھر والوں نے آپ کے ساتھ عظیم نیکی کی ہے کہ آپ کو سیاست سے نکال لیا ہے۔ ویسے دوران اقتدار آپ نے اپنی شاموں اور راتوں کو جس انداز سے بسر کیا، اگر اس کے بعد بھی آپ کے گھر والے آپ کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیںتو یہ ان کی فیاضی اور وضعداری ہے۔ ورنہ انہیں آپ کی شبانہ روز ’’مصروفیات‘‘ پر کْڑھتے ہم نے خود دیکھ رکھا ہے۔ اور جہاں تک تعلق ہے معیشت کو مضبوط کرنے کا تو اس سے بڑی بیہودگی شاید اور کوئی نہ ہو کہ آپ بجائے شرمندہ ہونے کے، اس ترقی معکوس کو سچ مچ کی خوشحالی سمجھنے لگے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہماری یہ ساری سیاسی و معاشی زبوں حالی صرف اور صرف پرویز مشرف کی کوتاہ بینی کے سبب ہے اور اس کارِ ذلالت میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں۔ بہرحال، عزیزی ناہنجار کا قیمتی مشورہ یہ ہے کہ چونکہ زرداری صاحب کے ہوتے سوتے تو کسی نے احتساب وغیرہ کا نام بھی نہیں لینا البتہ ان کے جاتے ہی دیگر لاتعداد فائلوں کے ساتھ ساتھ ’’شوکے رنگ باز‘‘ کی فائل بھی نکلوائی جائے اور ان کو بہرصورت پاکستان واپس لا کر دیگر مروّجہ ’’بدسلوکیوں‘‘ کے علاوہ لاہور کے تھانہ ریس کورس میں کم از کم ایک عدد پانجہ ضرور لگوایا جائے۔
چنانچہ، موصوف کو آئندہ انٹرویوز میں بڑا بول بولتے وقت محتاط رہنا چاہئے کہ وقت کسی کا لحاظ نہیں کرتا کہ وہ سنگدل اور بے رحم ہوتا ہے!!
٭٭٭٭٭٭٭٭