سفیر‘ وزیر شذیر مگر ہماری تقدیر

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ہم نے ہمیشہ اس بات پر تنقید کی کہ فلاں آدمی کو کسی ملک میں صرف اس لئے سفیر بنا دیا گیا کہ اس پر نوازش ہائے بے جا کرنا مقصود تھا۔ نوازش ہائے بے جا میں بے جا کے لفظ پر بھی غور کریں مگر لفظ ’’ہائے‘‘ پر غور نہ بھی کریں تو وہ اپنا پورا مقصد اور معنی خود بخود واضح کرتا ہے۔ ویسے نوازش بھی ہمارے سیاسی سرکاری اور حکومتی معاملوں میں سفارش کے قریب تر ہے اور سفارش تو ہوتی ہی وہی ہے جو ناجائز ہو۔ ہمارے ہاں تو جائز کاموں میں بھی سفارش ضروری بلکہ بہت ضروری ہوتی ہے۔ آج کل رشوت اور سفارش ایک چیز ہو چکی ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی سفیر لگائے جاتے ہیں کہ ہر طرف ان کی مخالفت میں شور اٹھتا ہے مگر یہ مخالفت برائے مخالفت ہوتی ہے۔ جو بات جینوئن ہو تو اس کی حمایت میں لکھنا اتنا ہی بڑا کلمہ حق ہوتا ہے جتنا مخالفت میں لکھنا کلمہ حق ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں ان دونوں صورتوں کو کلمہ ناحق بنا دیا گیا ہے کیونکہ کرپٹ ظالم نالائق لوگ سمجھتے ہیں کہ حق وہی ہے جو ہمارے حق میں ہے۔ ایسے میں حق ناحق کی تمیز ختم ہو گئی ہے میں نے پچھلے کسی کالم میں لکھا تھا کہ کسی کے حق کے لئے لکھنا کسی کے حق میں لکھنے سے بہتر ہے تو اس پر کئی کتابوں کی مصنف محترم اور معزز خاتون بشریٰ تارڑ نے اپنی پسندیدگی کا فون کیا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ کوئی خاتون اتنی باریک بینی سے باتوں کا مطالعہ کرے تو یہ ہمارے لئے حیرت اور حوصلے کی بات ہے۔ کسی دوسرے ملک میں سفیر کو وزیر کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں جو وزیر شذیر ہیں وہ تو بڑی بیکار مخلوق ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں آنے کے لئے صرف امیر ہونے کی شرط ہے۔ وزیر شذیر ہونا امیر سے امیر کبیر ہونے کے لئے ہوتا ہے اور اس کے لئے ہمارے ملک میں ہر طرح کی جائز ناجائز کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے سفیر بھی وزیر شذیر کی طرح کی کوئی چیز ہوتے ہیں۔ وہ ملک سے باہر بھی وہی کچھ کرتے ہیں جو ملک کے اندر کرتے ہیں۔ میرا بیوروکریسی کے بارے میں اچھا خیال نہیں ہے۔ وہ اس ملک کے لئے فلاحی و تعمیری کاموں میں دلچسپی لیں اور خلق خدا کو ذلت اور اذیت سے دوچار کرنا بند کریں۔ افسران پر حکمران سے بھی زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ حکمران تو آتے جاتے رہتے ہیں۔ افسران مستقل حکمران ہیں۔ حکم پر عمل درآمد کرنا ان کا کام ہے اور وہ ایسا حکم نہ ماننے کے پابند ہیں جو غلط ہو اور لوگوں کے خلاف ہو۔ وہ سول افسر ہیں اور سول سرونٹ بھی ہیں۔ کچھ افسران ایسے ہیں جنہیں واقعی افسران کہا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد جہاں زیب خان گریڈ بیس میں ہیں ان کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے مگر وہ پنجاب میں سیکرٹری لائیو سٹاک ہیں۔ ایک شاعر خوش نوا صفدر سلیم سیال لائیو سٹاک کی تعمیر و ترقی میں خدمات کے حوالے سے اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے شعبے کے حوالے سے جہاں زیب خان کی تعریف کی ہے۔ انہیں فرانس میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ فرانس میں بہت عرصہ پاکستان کے لئے بہت مفید اور اہم کام کرتے رہے ہیں۔ انہیں فرانسیسی زبان پر عبور حاصل ہے ورنہ ایسے لوگ بھی سفیر لگائے گئے جنہیں اپنی قومی زبان بھی پوری طرح نہیں آتی۔ کسی ملک میں سفیر کو اگر وہاں کی زبان آتی ہو تو وہ اپنے ملک کی نمائندگی زیادہ بہتر اور موثر انداز میں کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر جہاں زیب خان پانچ سال تک فرانس میں تجارتی مشن کے سربراہ رہے۔ ہمارے ملک میں آج کل ایڈ اور ٹریڈ کی بات ہوتی ہے اور فرانس کے ساتھ سول ایٹمی معاہدے کی بات ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرانس میں اقتصادی اور سیاسی حلقوں میں مقبول ہیں ان کا تعلق فارن سروس سے نہیں۔ ایسے سفیروں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کا تعلق فارن سروس سے نہیں بلکہ ان کا تعلق تو سروس سے بھی نہیں۔ وہ سروس کرتے نہیں سروس کرانے میں ایمان رکھتے ہیں اگرچہ ایمان کے ساتھ بھی ان کا تعلق نہیں ہوتا۔ سول سروس کے آغا شاہی‘ اکبر ایس احمد اور مرزا قمر بیگ کے علاوہ بھی کئی افسران سفیر رہ چکے ہیں۔ ہماری صحافتی برادری کی ملیحہ لودھی‘ عطاء الحق قاسمی‘ واجد شمس الحسن اور حسین حقانی بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ جن جرنیلوں کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت نہیں ہوتی انہیں سفیر بنا کر کسی نہ کسی ملک میں بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ سفارت خانے کو اسی طرح چلاتے ہیں جیسے مارشل لاء کے بعد ملک چلایا جاتا ہے۔ بہت کم سفیر متعلقہ ملک کے کلچر اور روایات کا علم رکھتے ہیں۔ جہاں زیب سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی نہ اس کی ضرورت ہے مگر دوست ان کا ذکر اچھی طرح کرتے ہیں۔
آخر میں ایک سچا واقعہ کہ کسی ملک میں سفارت کاروں کا اجتماع تھا۔ اپنے اپنے ملک کا قومی ترانہ سنانے کی فرمائش ہوئی۔ ہمارے کسی سفارت کار کو قومی ترانہ آتا نہ تھا۔ پریشانی کے عالم میں ایک سفارتی افسر نے کہا کہ مجھے ایک پنجابی گیت آتا ہے اجازت ہو تو سنا دوں۔ یہاں لوگوں کو پنجابی کہاں آتی ہو گی۔ اس نے جو گیت سنایا وہ ہماری اجتماعی سرکاری نفسیات کی غمازی کرتا ہے۔ع
لارا لپہ لائی رکھنا لارا لپہ لائی رکھنا