کھر ہائوس سے ایوان صدر تک

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

غلام مصطفی کھر کہہ رہے ہیں تو کچھ بات تو ہے۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت سے پہلے کہہ دیا تھا کہ وہ قتل ہو جائیں گی اور وہ قتل ہو گئیں کھر صاحب نے بہت وثوق سے کہا تھا کہ کراچی کے دھماکے تو ایک دھمکی ہیں۔ وہ راولپنڈی میں قتل ہوں گی۔ راولپنڈی پنجاب میں ہے۔ کھر صاحب نے ہمیشہ پنجاب کی سیاست کی۔اب انہوں نے نواز شریف سے شروع کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پنجاب میں پھانسی دی گئی تھی۔ پھر ان کا جسد خاکی سندھ بھیجا گیا۔ اس کا بھی کھر صاحب کو پتہ تھا۔ وہ بڑے پتے کے آدمی ہیں۔ انہیں کوئی تو یہ باتیں بتاتا ہے۔ لگتا ہے کہ کوئی ایک ہی شخص ہے جو انہیں یہ ساری معلومات دیتا رہتا ہے۔ وہ کھر صاحب کا ہم عمر ہو گا۔ نجانے اس نے شادیاں کتنی کی ہوں گی۔ وہ بھٹو صاحب سے لڑ پڑے تھے۔ تب بھٹو صدر تھے۔ صدر بھٹو کے لئے ان کے خیالات بالکل ایسے ہی تھے جو صدر زرداری کے لئے ہیں مگر ایسی باتیں انہوں نے صدر مشرف اور صدر ضیاء کے لئے نہ کی تھیں۔ وہ صدر تھے اور جنرل بھی تھے۔ جرنیلوں کے خلاف بات کرنا ان کے لئے ایک غیر سیاسی حرکت ہے اور وہ ایسی حرکات و سکنات سے اجتناب کرتے ہیں۔بے نظیر بھٹو نے کھر صاحب کا اعتبار کبھی نہ کیا۔ اعتبار تو ان پر بھٹو صاحب کا بھی ختم ہو گیا تھا۔ ان پر اپنی ساری بیویوں کا ایک ایک کرکے اعتبار ختم ہو گیا۔ وہ بار بار صدر زرداری کو للکارتے ہیں کہ تم اپنی بیوی کے قاتلوں کو ابھی تک بے نقاب نہیں کر رہے ہو۔ کوئی ان سے کہنے والا نہیں کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ’’قاتلوں‘‘ کو بے نقاب نہیں کر سکے ان کی اکثر سابقہ بیویوں نے شادی کر لی ہے۔ ان کی ایک سابقہ بیوی اس آدمی کی بیوی ہے جن کے بڑے بھائی کے وہ آج کل بہت دوست ہیں۔
وہ ان کے ساتھ لندن سے پاکستان آئے تھے۔ احتیاطاً لارڈ نذیر کو بھی ساتھ لے کے آئے تھے۔ اسلام آباد ائرپورٹ پر وہ دونوں نظر نہ آئے۔ مگر ان کے سامنے نواز شریف کو دھکے دئیے گئے اور ان کو باتھ روم میں جانے پر مجبور کیا جبکہ اس وقت انہیں باتھ روم جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ پھر ان کے سامنے نواز شریف کو سعودی عرب جانے والے طیارے میں بٹھایا گیا۔ وہ ان کے ساتھ بیٹھ سکتے تھے مگر وہ ائرپورٹ سے نکل کے جس آدمی کے پاس جا کر بیٹھ گئے تھے‘ اس کا نام نواز شریف کو معلوم ہے۔ اس کے باوجود دونوں کی دوستی قائم ہے۔نواز شریف ایک محب وطن بڑا لیڈر ہے۔ کھر صاحب نے تو ایک بار کہا تھا کہ میں بھارتی ٹینک پر بیٹھ کر پاکستان آئوں گا جبکہ مجید نظامی نے صدر جنرل ضیاء کی طرف سے بھارت جانے کی دعوت پر کہا تھا کہ اگر آپ پاکستانی ٹینک پر بیٹھ کر بھارت جا رہے ہیں تو میں آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں۔میں یہ دل سے سمجھتا ہوں کہ صدر زرداری کی حکومت شہید بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب کرے۔ انہیں قرار واقعی سزا دلوائے صدر زرداری کہتے ہیں کہ وہ صرف میری بیوی نہ تھی میری لیڈر بھی تھی۔ اس کے بعد صدر زرداری پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
شہید بے نظیر بھٹو کے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو غلام مصطفی کھر کے لیڈر تھے۔ انہوں نے اپنے لیڈر کی اس طرح بے چارگی میں پھانسی پر کیا کیا؟ انہیں معلوم ہے کہ بھٹو کے اصل قاتل کون ہیں پھر بھی وہ ان کو بے نقاب کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بھٹو کی پھانسی کو جج بھی عدالتی قتل کہتے ہیں۔ انہیں بھی پتہ ہے بھٹو کے قاتل کون ہیں مگر وہ ان کا نام لینے کے لئے تیار نہیں۔ممتاز بھٹو کو بھی بھٹو صاحب نے اپنی دوستی کے دائرے سے باہر نکال دیا تھا۔ بھٹو فیملی کا آدمی ہوتے ہوئے انہوں نے بھٹو صاحب کی موت پر خاموشی اختیار کی۔ ممتاز بھٹو اور مصطفی کھر ایک ہی زبان بول رہے ہیں اور دونوں کو معلوم ہے کہ وہ کس کی زبان بول رہے ہیں۔ ممتاز بھٹو کہتے ہیں کہ مرتضی بھٹو کے قاتل ہی بے نظیر بھٹو کے قاتل ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جو ذوالفقار علی بھٹو کے قاتل ہیں وہی بے نظیر بھٹو کے قاتل ہیں۔ جن لوگوں نے لیاقت باغ پنڈی میں پہلے وزیراعظم کو گولی مروائی تھی وہی تیسرے وزیراعظم کو گولی مروانے والے تھے۔
اس وقت ملک میں فوجی حکومت نہیں ہے‘ سیاسی حکومت ہے۔ جسے جمہوری حکومت بھی کہا جا سکتا ہے جیسی بھی ہے ایک منتخب حکومت ہے۔ اسے ہمیشہ سیاستدانوں نے خود خراب کیا بلکہ خود بخود خراب کیا۔ میری گزارش ہے کہ وہ انتظار اور اعتبار سے کام لیں کچھ تو سیاست چلے۔ جمہوریت چلے‘ کھر صاحب اب سیاست چھوڑ دیں تو ان کے لئے بھی اچھا ہو گا ان کے پاس آج کل کوئی کام نہیں۔ وہ اگلی شادی بھی ابھی نہیں کر رہے ورنہ سیاست سے انہوں نے وہی سلوک کیا جو انہوں نے اپنی بیویوں کے ساتھ کیا ہے۔ جوش ملیح آبادی نے کہا کہ اردو زبان میری لونڈی ہے تو کہا گیا کہ آپ نے زبان سے سلوک بھی وہی کیا ہے۔ سیاستدان بات کریں۔ دن کو رات نہ کریں کہ یہ رات بڑی لمبی ہو گئی ہے۔ نہ ہم سو رہے ہیں نہ جاگ رہے ہیں۔ سیاستدان جب اقتدار میں آتے ہیں تو ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔ وہ اپوزیشن میں ہوں تو پھر بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جو لوگ اب اپوزیشن میں ہیں جب یہ کسی پوزیشن میں آ جائیں گے تو وہی کچھ کریں گے جن پر آج ان کو اعتراض ہے۔ اقتدار والے اختلاف والے بن جائیں گے تو وہ بھی وہی کچھ کریں گے جن پر آج ان کو اعتراض ہے۔ سو اعتراض نہ کریں ایک دوسرے کو ناراض نہ کریں۔ کچھ تو سوچیں کہ جرنیل دس دس سال حکومت کرتے رہتے ہیں اور سیاستدان دو سال بھی نہیں نکال سکتے۔!