ٹڈیاں اور ٹڈی دل

صحافی  |  رفیق ڈوگر

ہم کیا تھے اور آج کہاں کھڑے ہیں۔ برصغیر کے مسلمان غلام تھے‘ منتشر تھے‘ مایوس تھے‘ نہ کوئی نظریہ تھا‘ نہ منزل۔ مسلمانوں کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے ایک قوم کے حوالے سے‘ ان کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہوتی تھی۔
٭… پھر ایک اہل فکر و درد نے انہیں ایک نظریہ اور منزل سے آگاہ کیا۔
٭… ایک قائد نے انہیں اس نظریہ‘ اس منزل کے حصول کیلئے متحد کیا۔
٭… اس قائد نے انہیں اس منزل تک پہنچا دیا آزادی کی منزل تک ۔
٭… ہم آزاد ہو گئے ایک ملک والے بن گئے۔
٭… اللہ نے ہمیں کتنی بڑی نعمت سے نوازا تھا ! ان قوموں سے پوچھو ان کا حال دیکھو جن کے پاس آزادی اور اپنے ملک کی نعمت نہیں۔
ان سے جو آزادی اور ملک کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں۔
ایک اہلِ دل نے لمبی آہ کھینچی ’’وہ مجھے پوچھتے تھے بوسنیا والے‘ فلسطین والے کہ قومیں جس نعمت اور آزادی و خود مختاری کیلئے اپنے جان و مال قربان کرتی ہیں تم اس نعمت اور اپنی آزادی کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہو؟ ہمیں دیکھو ہمارا حال دیکھو اور اپنے حال پر غور کرو۔ تمہیں ہو کیا گیا ہے؟ تم کیسی قوم ہو؟‘‘
اور اگر آج کوئی ہم سے پوچھ لے کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم کیسی قوم ہو؟ تو ہم کیا جواب دیں گے؟ کیا جواب دے سکیں گے؟ اس کے سوا کہ ہماری آزادی اور خودمختاری کی تازہ فصل پر ٹڈی دل نے حملہ کر دیا تھا۔ خدام کے ٹڈی دل نے۔ آزادی دلانے والے‘ ایک ملک دلانے والی قیادت کے اٹھ جانے کے بعد ہم اپنے کو اپنی آزادی اور ملک کو اس ٹڈی دل سے بچا نہیں سکے تھے۔ ٹڈی دل لہلہاتی کھیتیاں چٹ کر جاتا ہے سب جانتے ہیں مگر وہ اس فصل پر حملہ کرتا کیسے ہے؟ اپنے ایک لیڈر کی قیادت میں ہر کہیں اور ہر جگہ ٹڈی دل حملہ اسی طرح کرتا رہا ہے۔ کیا کرتا ہے اور اس دل میں شامل سب ہی پیٹ پرست اور پیٹ پوجا والے ہوتے ہیں ان کے سارے نظم و ضبط سارے اتحاد کا واحد مقصد واحد اصولِ اتحاد ایک ہی ہوتا ہے۔ پیٹ پوجا۔
آج کے دن ملک کے طول و عرض میں اہلِ وطن ‘ اہلِ ایمان اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوں گے۔ ایک بار پھر دعائیں کریں گے آئیں آج ہم سب دعائوں کے ساتھ ساتھ سر جھکا کر اللہ کو حاضر و ناظر جان اور مان کر اپنا اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم بھی خدانخواستہ کسی ’’دل‘‘ کی کوئی ’’ٹڈی‘‘ تو نہیں؟ ہمارا کوئی عمل‘ کوئی سوچ‘ کوئی اصول‘ نعمتِ آزادی و خودمختاری کو نقصان تو نہیں پہنچا رہا‘ نقصان تو نہیں پہنچائے گا؟ ہم بھی اللہ کے حضور کسی ٹڈی دل کی ٹڈی ہونے کے جرم میں پکڑے تو نہیں جائیں گے؟
قوم نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام نے ملک و قوم کی اسمبلی کے ارکان منتخب کئے تھے اور وہ ٹڈیاں بن گئے تھے۔ مشرق و مغرب کے الگ الگ دل کی ٹڈیاں جو اپنے اپنے پیٹ کی پوجا کے سبب اپنے اپنے دل کے لیڈر سے پوچھنے کو بھی تیار نہیں ہوتی تھیں کہ یہ وہ جمہوریت نہیں جس کا علم اُٹھا کر ہم نے الیکشن جیتا تھا‘ یہ وہ جمہوریت تو نہیں جو ملک اور اس کے عوام کیلئے ہوتی ہے ان کے اتحاد اور فلاح کیلئے ہوتی ہے یہ تو تمہاری ذاتی خواہشوں اور حرص و ہوس کے خواب پورے کرنے اور ملک و قوم کو برباد کرنے کی سازش ہے جس کا تم پرچار کر رہے ہو۔ کہا تھا کسی دل کے کسی رکن اسمبلی نے اپنے لیڈر سے؟ پوچھا تھا کسی نے؟ کیوں نہیں پوچھا تھا؟ قوموں کے مقتدر اداروں کے ارکان تو ایسے نہیں ہوا کرتے قومیں جنہیں اپنے اوپر حکمرانی کیلئے منتخب کریں وہ تو کبھی ان کے ملک توڑ دینے والی ’’جمہوریت‘‘ کو تسلیم نہیں کیا کرتے مگر کسی بھی ٹڈی دل کی ٹڈیاں ہمیشہ ہر جگہ اپنے دل لیڈر کے ڈسپلن کی پابندی کیا کرتی ہیں کہ ان کا اتحاد پیٹ پوجا کیلئے ہوتا ہے۔ وہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے ٹڈی دل ہمارے قائد کا وہ پاکستان چاٹ گئے تھے جو اس مفکر کی آرزو اور برصغیر کے مسلمانوں کے ایثار و قربانی کی قوت سے مسلم لیگ نے حاصل کیا تھا اور پھر اس مسلم لیگ پر بھی تو ٹڈی دل نے حملہ کر دیا تھا۔ ایک نے نہیں قسم قسم کے ٹڈی دلوں نے تو پھر ہے اس ملک میں کوئی ویسی مسلم لیگ ؟ اس مسلم لیگ جیسی جس نے ایک نظریے کی بنیاد پر وہ پاکستان حاصل کیا تھا جسے غیر مسلم لیگی ٹڈی دل چاٹ گئے تھے؟ کتنی مسلم لیگ نام والی پارٹیاں اور قیادتیں ہیں؟ پوچھتا ہے ان میں سے کوئی خاص و عام اپنے کسی قائد سے کہ ہماری مسلم لیگ ویسی کیوں نہیں؟ اس جیسی جس نے برصغیر کے منتشر مسلمانوں کو اکٹھا کر لیا تھا ایک ملک حاصل کر لیا تھا۔ وہ جو ٹڈی دل اس پاکستان کو چاٹ گئے تھے ان دونوں کے لیڈر بھی تو فوجی آمریت سے نجات دلا کر ملک کو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی راہ راست پر ڈالنے کے عزم راسخ کے ہی نعرے لگاتے رہے تھے اور پھر اپنی اپنی ہوس اور حرص کے محل تعمیر کرنے چل پڑے تھے۔ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کھڑے بھی ہیں؟ اور سبب ؟ اٹھارہ فروری سے پہلے والے نعرے اور جمہوریت اور قانون کی حکمرانی؟ ملک میں کتنی اسمبلیاں ہیں‘ کتنے ہیں ان اسمبلیوں کے ارکان؟ کیوں نہیں مطالبہ کرتے وہ اپنے دل لیڈروں سے وہ پہلے والے وعدے اور عہد پورے کرنے کا؟ کیوں نہیں اٹھاتے وہ آواز ڈرون حملوں کی تباہی و بربادی کے خلاف؟ قوم نے انہیں اسی لئے منتخب کیا ہوا ہے؟ تنخواہوں کیلئے الائونسوں کیلئے مراعات اور جو ہاتھ آئے چٹ پٹ کرانے کرنے کیلئے؟ کتنے مختلف ہیں وہ ان سے جنہیں 1970ء میں مشرق اور مغربی پاکستان کے عوام نے منتخب کیا تھا؟ ان سے جو ٹڈیاں ہوتے تھے۔ پیٹ پرست ٹڈیاں اور اصول؟ ہوتا ہے کسی ٹڈی دل کا کوئی اصول کھیتیاں چاٹ جانے کے سوا؟ تو پھر کیا کریں؟ عہد کہ ہم اسی راہ راست پر قائم رہیں گے جس پر چلنے والوں نے ہمارے لئے ملک اور آزادی حاصل کئے تھے۔ اسی راہ پر چلتے ہوئے ہم اس اپنے ملک اور آزادی کا دفاع کریں گے۔ ہر ٹڈی دل سے۔ اور کسی بھی دل کی کسی بھی ٹڈی کو کبھی بھی کسی کھیت اور فصل کے دفاع کی فکر نہیں ہوا کرتی۔