اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

کالم نگار  |  نعیم احمد
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حضور پاک حضرت محمد مصطفیؐ نے فرمایا تھا: حسین منی وانا من الحسین (ترجمہ: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں(۔ دنیا نے اس حدیث پاک کی عملی تشریح واقعۂ کربلا میں دیکھی ۔ نواسۂ رسول کریم امامِ عالی مقام حضرت حسینؓ نے اپنے اعلیٰ و ارفع کردار کی بدولت اپنے نانا جان کے دین مبین کی آبرو اور توقیر پر حرف نہ آنے دیا‘ جان قربان کرکے دنیا پر ثابت کردیا کہ جن اہل اسلام کے سینے نور ایمان سے لبریز ہوں‘ انہیں وقت کے ظالم و جابر حکمران اپنی اطاعت پر کبھی مجبور نہیں کرسکتے۔ آپؓ نے اپنے خونِ پاک سے دینِ اسلام کے شجر کی آبیاری کی اور اپنے بے مثال کردار سے اسے پروان چڑھایا۔ آپ نے نوع انسانی کو فرعونی و نمرودی قوتوں سے ٹکرا جانے کا حوصلہ بخشا۔ آپؓ کا کردار ہر اس انسان کے لئے مشعلِ راہ ہے جو حق و باطل کی آویزش میں حق کے ساتھ ہے۔ یہ آویزش ازل سے جاری ہے اور روز محشر تک رہے گی‘ چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی برسر پیکار رہے گا۔
کربلا کا واقعہ ظلم و استبداد‘ ناانصافی‘ تکبر اور خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنے کے عمل کے خلاف ایک عظیم الشان جدوجہد کی علامت ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی اس جدوجہد اور قربانی کے اثرات انسانی زندگی پر تاقیامت مرتب ہوتے رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جب کبھی‘ جہاں کہیں ظلم و استبداد کے خلاف کوئی تحریک اٹھتی ہے تو اس کے پس پردہ سیدنا امام حسینؓ کی حق گوئی اورفلسفۂ شہادت کار فرما ہوتا ہے۔ آپؓ نے حق و انصاف کی خاطر جان دے دی مگر یزیدیت سے مصالحت گوارا نہ کی۔ آپؓ کی شہادت جہاں اہلِ اسلام کے لئے سراپا الم ہے‘ وہاں پیکرِ عزم و استقلال بھی ہے۔ یہ واقعہ اگر ہمیں آبدیدہ کرتا ہے تو جابر قوتوں کے سامنے ثابت قدم رہنے کا بھی سبق دیتا ہے‘ استحصالی طاقتوں کے خلاف عزم اور طاقت بھی عطا کرتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مسلمانوں کو حق کی سربلندی کی خاطر محض باتوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ برسر میدان رسمِ شبیری ادا کرنی چاہیے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریمؓ شیر خدا کا فرمان ہے کہ اچھا انسان وہ ہے جس کے اعمال اچھے ہوں وگرنہ اچھی باتیں تو برے لوگ بھی کرلیتے ہیں۔ درحقیقت ایمان کردار ہی نام ہے‘ گفتار کا نہیں۔ امام عالی مقامؓ نے اپنے کردار سے جو شمع فروزاں کی ہے‘ اس کی ضوفشانی ہمارے قلوب کو ہمیشہ منور کرتی رہے گی۔ محرم الحرام کے اس مقدس مہینے میں ہمیں آپؓ کے اسوۂ مبارک کی روشنی میں اپنے اعمال کا بغور جائزہ لینا چاہیے کہ آیاہم عصر حاضر کی یزیدی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب اخروی زندگی میں ہماری کامیابی کا پیمانہ ہے۔ واقعۂ کربلا نے دین اسلام کو حیاتِ نو عطا کی۔ اسی لئے تو مولانا محمد علی جوہر نے فرمایا؎
قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اس موضوع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایک فکری نشست ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں منعقد کی جس کے کلیدی مقرر معروف اینکر پرسن اور مذہبی سکالر انیق احمد تھے۔ عالمی شہرت یافتہ قاری سید صداقت علی نے انتہائی خوش الحانی سے اللہ بزرگ و برتر کے کلام پاک کی تلاوت کی سعادت حاصل کی جبکہ ممتازنعت خواں حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے نہایت پرسوز لہجے میں امام عالی مقامؓ کی منقبت پیش کی۔
تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ باطل سے ٹکر لینا ایمان کی روح ہے ۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے طفیل دین اسلام کے دشمنوں کے مذموم عزائم ہمیشہ کے لئے خاک میں مل گئے۔ رسول کریمؐ کے ہر امتی کا فرضِ اولین ہے کہ اسوۂ حسینؓ کی پیروی کرے اور باطل کے روبرو کبھی سر نہ جھکائے‘ چاہے ساری دنیاوی طاقتیں اس کے ہمراہ ہوں۔ انیق احمد کا انداز تکلم ان کے پروگرام ’’پیامِ صبح‘‘ کی مانند بڑا دل کش اور من موہ لینے والا تھا۔ وہی آواز‘ وہی لہجہ‘ حاضرین کو اختتامی فقرے تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ ان کا خطاب قرآنی آیات‘ احادیث پاک اور صاحب نہج البلاغہ کے اقوال سے مزین تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ امام عالی مقامؓ اوصافِ رسولِ خدا کے امین تھے۔ ان کا پاک نام تاقیامت زندہ و تابندہ رہے گا جبکہ یزید پر تاقیامت لعنت بھیجی جاتی رہے گی۔ عہد حاضر میں جو لوگ ظالم ہیں‘ وہ یزیدیت پر مبنی زندگی بسر کررہے ہیں اور جو مظلومین کی مدد کرنے والے ہیں‘ وہ حسینیت پر زندہ ہیں۔ ہمیں اپنے فکر و عمل کا ناقدانہ جائزہ لے کر اس امر کا تعین کرنا چاہیے کہ ہم امام حسینؓ کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں یا خدانخواستہ گروہ ِیزید میں شامل ہیں۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری محترم شاہد رشید نے انجام دیتے ہوئے کہا کہ ایسی نشستوں کے انعقاد کا
بنیادی مقصد اشاعتِ اسلام ہے۔ پاکستان کا آزاد وجود چونکہ اسلام کا مرہون منت ہے‘ لہٰذا دین اسلام کی عظیم شخصیات کے افکار و کردار کو اجاگر کرنا ٹرسٹ کی سرگرمیوں میں سرفہرست ہے۔ نشست کے اختتام پر معروف کشمیری رہنما مولانا محمد شفیع جوش نے دعا کرائی۔ نشست میں بیگم مہناز رفیع‘ اکرم چودھری اور خالد یعقوب نے بطور خاص شرکت کی۔