کشمیر سے کومٹ منٹ، قائد اعظم سے حافظ سعید تک

کشمیر سے کومٹ منٹ، قائد اعظم سے حافظ سعید تک

مجھے یہ کالم اسی ساعت لکھنا چاہئے تھا جب ہائی کورٹ نے حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع سے انکار کر دیا تھا اور حافظ صاحب رہا ہو گئے تھے۔ ان کی نظر بندی کے دوران میں دو مرتبہ ان پر کالم لکھ چکا ہوں ۔ میرے لئے حافظ سعید کی رہائی تو ایسے ہی تھی جیسے کسی نے میرے مرشد مجید نظامی کو نظر بند کر رکھا ہو اور ان کی رہائی عمل میں آ جائے۔مگر میری بد قسمتی ہے کہ حافظ سعید کے ارد گرد میرا کوئی ایسا طرف دار نہیں جو مجھے یہ خوش خبری احاطہ عدالت سے سناتا۔ میں حافظ سعیدکی رہائی کی خوشی بر وقت منانے سے محروم رہا۔ حافظ سعید مجھے اس لئے محبوب ہیں کہ وہ میرے مرشد مجید نظامی کی طرح کشمیر کاز کے ساتھ مخلص ہیں، یہ وہی کاز ہے جس کے ساتھ اس ملک کے بانی حضرت قائد اعظم مخلص تھے اور انہوںنے تو فرط جذبات میں کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔
حافظ سعید کی رہائی پر بھارت ناخوش ہے اور اس نے ایک طوفان بد تمیزی برپا کر رکھا ہے۔ اس رہائی سے امریکہ بھی ناخوش ہے کہ وہ بھارت کے ہاتھوںمیںکھیل رہا ہے اور اس کی خوشنودی کے لئے پاکستان پر برس رہا ہے کہ حافظ سعید کو کیوں رہا کیا۔
حافظ سعید اس سے پہلے بھی بھارتی الزامات کے بعد قید ہوتے رہے اور رہا ہوتے رہے، دوسرے لفظوںمیں وہ پاکستان میں بھارتی قیدی تھے مگر پاکستان کی عدالتوںنے ان کے ساتھ انصاف کیا یا یوں کہہ لیجئے کہ بھارت ہماری عدلیہ کے سامنے حافظ صاحب کے خلاف کوئی ٹھوس اور قابل اعتماد ثبوت پیش نہ کر سکا۔بھارت کو تو کل بھوشن یادیو کے سلسلے میں بھی پاکستانی عدالتوں پر اعتماد نہیں ہے، اسی لئے وہ ا س کاکیس عالمی عدالت میں لے گیا ہے جہاں ہم مریل انداز میں اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔ کل بھوشن کے لئے ہم ہر نخرہ برداشت کر رہے ہیں، اس کی بیوی آ کر مل جائے، اس کی ماں آ کرمل جائے، بس ابھی ہم نے یہ نہیں کہا کہ جس طرح کشمیر سنگھ کو لے گئے تھے، اسی طرح واہگہ بارڈر پر کل بھوشن کو بھی آ کر لے جاﺅ۔حافظ سعیدکا گناہ کیا ہے، حافظ سعید کا ہر وہ گناہ ہے جو بھارت اس کے سر تھوپ دے، بھارت کے ان الزامات پر ہم بھی آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں اور ہمارے ہاں بھی ا یک بڑا طبقہ حافظ سعید کو بھارت میں دہشت گردی کا مجرم گر دانتا ہے۔ حافظ سعید کا بڑا جرم یہ ہے کہ وہ کشمیر کا نام لیتا ہے ۔جیسے شاعر نے کہا تھا کہ” اکبر نام لیتا ہے خدا زمانے کا اس میں“ مگر کشمیر کا نام لیوا اکیلا حافظ سعیدہی نہیں، میرے مرشد ان سے بھی بڑھ کر کشمیر کی آزادی کے حامی تھے۔ انہوںنے تو یہ پیش کش کی تھی کہ انہیں ایک ایٹمی میزائل کے ساتھ باندھ کر جموں چھاﺅنی پر داغ دیا جائے۔ انہوںنے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کشمیریوں کے حامی پاکستانیوںکو دہشت گردسمجھا جاتا ہے تو وہ بھی ایسے ہی ایک دہشت گرد ہیں، کسی کو انہیں پکڑ کر گوانتا نامو بے میں لے جا کر پنجرے میں بند کرنے کا شوق ہے تو وہ اپنا شوق، بصد شوق پورا کر لے۔کشمیر کی آزادی کے حامی مجاہداول سردار عبدالقیوم خان بھی تھے، ان کا دعوی تھا کہ بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف پہلی گولی چلانے کا اعزاز انہیں ملا تھا۔ دیوار برلن کے انہدام کے بعد دنیا میں تبدیلی کی تیز رفتار ہوا چلی تو نوائے وقت نے الحمرا ہال میں ایک بہت بڑے سیمینار کا اہتما م کیا جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات مہمان خصوصی تھے، اس وقت تک کشمیر میں نوجوان آزادی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور روز قربانیاں دے رہے تھے،۔ سردار سکندر حیات نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے تاریخی جملہ کہا کہ اب نہیںتو کبھی نہیں۔ کے ایچ خورشید سے بارہا ملاقاتیں ہوتی رہیں، وہ قائد اعظم کے سیکرٹری تھے ا ور کشمیری بھی، وہ آزادی کشمیرکے لئے بے پناہ تڑپ رکھتے تھے۔
پاکستان نے تحریک آزادی کی حمایت میں لشکر روانہ کئے تو بھارت نے اپنی فوجیں پاکستان کے بارڈر پر لگا دیں۔ بھارت ہمیشہ کشمیر میں شکست سے بچنے کے لئے پاک سرحد پر جتھہ بندی کر دیتا ہے، یہ ا سکی پرانی عادت ہے، پینسٹھ میں آپریشن جبرالٹر شروع ہوا اور پاک فوج اکھنور کے دروازے تک پہنچی تو بھارت نے جنگ چھیڑ دی۔ بہر حال جب بھارت نے پہلے پہل یہ حرکت کی تو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان نے مکا لہراتے ہوئے بھارت کو خبر دار کیا کہ و ہ مزید جارحیت سے باز رہے اور بھارت کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے تھے۔
قائد اعظم وہ رہنما ہیں جنہوںنے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا، وہ جانتے تھے کہ کشمیری مسلمان آزادی کے فارمولے کے تحت پاکستان کا حصہ تھے، انہیں یہ بھی علم تھا کہ پاکستان کو سیراب کرنے والے تمام دریا کشمیر سے آتے ہیں جن پر ہماری زراعت اور معیشت کاا نحصار ہے، اس لئے بھی یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہو نا چاہئے۔
قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد جس سول منتخب حکمران نے کشمیر کی آزادی کی بات ببانگ دہل کی وہ پہلے منتخب وزیر اعظم بھٹو تھے ، انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کے لئے ایک ہزار سال تک جنگ کریں گے۔ بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل ضیا مارشل لا ڈکٹیٹر بن بیٹھے اور کشمیر کا مسئلہ پس پردہ دھکیل دیا گیا مگر انہی کے دور میں منتخب ہونےو الے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اس مسئلے کے حل پر بار بارا صرار کیا۔پاکستان کی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے کنٹرول لائن کا دورہ کرتے ہوئے عالم وارفتگی میں اپنا دو پٹہ ہوا میں لہرایااور آزادی! آزادی! کے نعرے لگائے۔
نائن الیون سے پہلے تک پاکستان کی کئی تنظیمیں جہاد کشمیر میں عملی مدد کر رہی تھیں۔ اس موقع پر صدر کلنٹن مختصر وقت کے لئے پاکستان آئے اور انہوںنے ایک نشری خطاب میں دھمکی دی کہ جدید دور میں جنگ کے ذریعے سرحدیں تبدیل نہیں ہو سکتیں مگر جنرل مشرف نے جوابی تقریر میں کہا کہ کنٹرول لائن کے دونوں طرف کشمیری آباد ہیں اس لئے وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لئے جہاد کرنے والوں کو روکنے پر قادر نہیں ہیں مگر انہی مشرف صاحب نے نائن الیون کے بعد امریکی دباﺅ پر کشمیر کے جہاد کو دہشت گردی کہہ ڈالا اور جو لوگ کنٹرول لائن پار کر رہے تھے، ان پر سخت پابندیاں عائد کرد یں ، ان پابندیوں کا شکار حافظ سعید بھی ہوئے جو لشکر طیبہ کے سربراہ تھے اورجماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم حزب المجاہدین بھی کشمیر میں جہاد کے قابل نہ رہی، بھارت نے موقع کا فائدہ ا ٹھاتے ہوئے کنٹرول لائن پر خاردار باڑ لگا لی جس میں ہر وقت بجلی دوڑتی ہے،اس باڑ کو پار کرنا کسی انسان تو کیا چیونٹی تک کے لئے ممکن نہیں، اس کے باوجود اگر کوئی حافظ سعید کو جہاد کشمیر میں اب بھی ملوث سمجھتا ہے تو وہ جھوٹا شخص ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ حافظ سعید کی خواہش ضرور ہے کہ کشمیر آزاد ہو اور بانی پاکستان کے فرمان کے مطابق اس شہہ رگ کی حفاظت کی جائے، وہ ا س مقصد کے لئے عملی اقدامات تو نہیں کر سکتے لیکن کشمیریوں کوا خلاقی مدد ینے سے انہیں دنیا کا کوئی قانون نہیں روکتا۔ ہم فلسطینیوں کی آزادی کے بھی حق میں ہیں، ہم نے انگولا کی آزادی کی حمائت بھی کی اور چین کی آزادی کے بعد پاکستان پہلا ملک ہے جس نے اسے تسلیم کیا۔بہر حال بھارت کو یہ بھی گوارا نہیں کہ حافظ سعید کشمیریوں کی اخلاقی حمائت بھی کریں ۔ بھارت ان کو خاموش کروا کر اپنے جبر اور ظلم کی پردہ پوشی چاہتا ہے۔بھارت کو کبھی کبھار اپنے پروپیگنڈے کی وجہ سے حافظ سعید کے خلاف یہ کامیابی مل جاتی ہے کہ انہیںنظر بند کرا دے تاکہ ان کی زبان بھی بند ہو جائے اور وہ بھارتی فوجی جارحیت کا پردہ چاک نہ کر سکیں۔پاکستان میں کون ہے جو بھارت کے دباﺅ کو برداشت نہیں کر سکتا ۔ وہ جو بھی ہے،وہ ہمیشہ کے لئے حافظ سعید کو زنجیریں پہنانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اور یقین رکھئے حافظ سعید بھی کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حق آزادی سے دست بردار نہیں ہو سکتے،اسلئے نہیں ہو سکتے کہ قائد اعظم اس حق سے دست بردار ہونے کو تیار نہ تھے، میرے مرشد مجید نظامی اس حق سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھے ، حافظ سعید کی نظربندی کا خاتمہ ایک نیک شگون ہے اورا س سے کشمیریوں کے میرے جیسے کمزور بہی خواہوں کے حوصلے بھی بلند ہوتے ہیں، کشمیر میں حریت کانفرنس، آزادی کی علامت ہے تو پاکستان میں حافظ سعید کشمیر کی آزادی کی تابناک علامت ہیں۔خداانہیں ہمت عطا کرے کہ وہ دنیا کے سامنے دلیل ا ور منطق کے ساتھ کشمیر کا کیس پیش کریں اور وہ دن ان کی زندگی میں آئے جب کشمیر پاکستان میں آ شامل ہو۔ اس روز سعید کا میں شدت سے منتظر ہوں۔میرے مرشد مجید نظامی کی روح کو بھی چین ملے گا۔