استعفیٰ اور استثنیٰ!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
استعفیٰ اور استثنیٰ!

منظو روسان اب نامنظور وسان بنتے جارہے ہیں۔ اب وہ بہتر بیانات دے رہے ہیں ۔ وہ خوشخبری سنانے کی کوشش کرتے ہیں تو کام خراب ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ زاہد حامد کچھ عرصہ پہلے استعفیٰ دے دیتے توحالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ اب آئندہ حکومتوں کو بھی دھرنوں کی وجہ سے جانا پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دھرنے دھڑن تختہ بن جائیں گے۔ ہمارے ہاں استعفیٰ دینے کا رواج نہیں ہے ہمیں صرف نکالا جاتا ہے اور ہم جلسوں میں کہتے رہتے ہیں مجھے کیوں نکالا؟
یہ تو نوازشریف کے لئے بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اگر استعفیٰ دے دیتے تو نااہل بھی نہیں ہوتے۔ پہلے لوگ ان کی ”اہلیتوں“ سے ”فائدے“ اٹھاتے تھے۔ آج کل اُن کی ”نااہلیتوں“ سے فائدے اٹھا رہے ہیں۔ کہتے تھے کہ اب شہباز شریف قیادت سنبھال لیں گے۔ اس قسم کے بیانات بھی دئیے گئے تھے ۔ خود نوازشریف نے ایسی ہی باتیں کی تھیں۔
میرا خیال ہے اس بات کو جسٹس شوکت صدیقی توہین عدالت کے طور پر نہیں لیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف یہ دھرنا ختم کرانے کا حکم دیا تھا۔ آرمی چیف ایگزیکٹو کا حکم ماننے کی بجائے ثالث کیسے بن بیٹھے۔ کسی کو سیاست کرنے کا شوق ہے تو استعفیٰ دے کر آئے۔ فوج نے قانون توڑنے والوں اور نافذ کرانے والوں میں معاہدہ کرادیا۔ اس پر دستخط کرنے والے فوجی افسر کا کورٹ مارشل کیا جائے۔
احسن اقبال نے معاہدے کو افسوسناک قرار دے دیا ہے جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ میری زندگی کا کچھ نہیں پتہ۔ ”مارا جاﺅں یا لاپتہ ہوجاﺅں“۔ یہ الفاظ جسٹس صدیقی کہتے ہیں۔
طلال چودھری نے بڑی بے دردی سے کہہ دیا کہ وردی والے کو حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔ اس کے ساتھ آرمی چیف کی بڑی تعریف ہو رہی ہے کہ ان کی وجہ سے صورتحال سنبھل گئی۔ آرمی چیف دلچسپی نہ لیتے تو کام بہت خراب ہوتا ۔
دوسری طرف چیف ایگزیکٹو وزیراعظم کی بے نیازی کی بات کی گئی ہے کہ وہ ریاض سعودی عرب چلے گئے چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ وزیراعظم کے لئے ریاض کانفرنس ضروری تھی یا ملک کی اندرونی صورتحال؟ اور فوج کو کیوں بلایا گیا۔ یہ بات اسمبلی میں بتائی جائے۔ کسی کو اعتماد نہیں لیا گیا۔
انہوں نے یہ بڑی صراحت سے کہا کہ وزیر داخلہ کے خلاف توہین عدالت لگ سکتی ہے تو میں اب انہیں پارلیمان کی توہین کا نوٹس بھی جاری کروں گا۔ توہین عدالت کا قانون ہے تو پھر توہین پارلیمان کا بھی ہونا چاہئے۔ میں بہرصورت جمہوریت کا دفاع کروںگا۔ چیئرمین سینٹ نے وزیراعظم پر بھی ملکی صورتحال میں عدم دلچسپی کا الزام لگایا ہے۔ اس حد تو ٹھیک ہے کہ موجودہ متنازعہ صورتحال میں وہ اسی طرح بے نیاز ہیں جس طرح دوسرے معاملات میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک جملہ کہ ہمیں ہر دفعہ نکالا جاتا ہے ہم کبھی خود بھی نکلیں۔ اس بات پر بھی غور کریں کہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں تین روز تک بیٹھے ہوئے کیا کرتے رہے۔ مرکزی وزیر قانون تو مستعفی ہو گئے۔ صوبائی وزیر قانون کب یہ نیک کام کریں گے۔
موجودہ صورتحال میں آرمی چیف کا کردار قابل تحسین اور جرا¿ت مندانہ ہے، دھرنے کے قائد خادم حسین رضوی نے کہا کہ آرمی چیف کے ضامن بننے پر معاہدہ کیا اور دھرنا ختم ہوا مگر رانا ثناءاللہ کہتے ہیں کہ ”آرمی چیف کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے“ جبکہ ان کے لیڈر نوازشریف کا لانگ مارچ بھی جنرل کیانی نے رکوایا تھا۔ جنرل کاکٹر نے صدر اسحاق اور وزیراعظم نوازشریف کے درمیان مصالحت کرائی۔ اب عدالتی کارروائی کیلئے بہت معترف ہونے والے بتائیں کہ ملک میں کئی مارشل لا لگے اور عدالتوں نے ہی ان کو ہر طرح کا جواز فراہم کیا۔
رانا صاحب کہتے ہیں کہ ان کے استعفیٰ کا کوئی مطالبہ نہیں ہوا جبکہ کئی بار ان کے استعفیٰ کے مطالبے سنے گئے۔ آجکل وزیرقانون وزیر داخلہ سے بھی اہم ہو گیا ہے۔ صوبائی حکومت صرف وزیر قانون پر بھروسہ کرتی ہے مگر ماڈل ٹاﺅن میں ڈاکٹر طاہر القادری کے دس گیارہ بندوں کے قتل کا الزام بھی وزیر قانون پر ہے۔
وزارت قانون کا نام اب وزارت لاقانونیت ہونا چاہئے۔ وفاق میں بھی جب الزام وزیر قانون پر آیا ہے انہیں استعفیٰ دینا پڑا ہے مگر رانا صاحب بڑے مضبوط اور طاقتور آدمی ہیں۔ وہ انشاءاللہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ انہیں استثنیٰ مل جائے گا بہت جلد استعفیٰ اور استثنیٰ میں فرق بھی مٹ جائے گا۔