پسپائی رسوائی جگ ہنسائی

پسپائی رسوائی جگ ہنسائی

جشن منائیں کہ 6 نومبر کو لاہور سے شروع ہونے والا تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارواں ختم نبوت کا دھرنا 21 روز فیض آباد انٹر چینج پر جاری رہنے کے بعد پیر کواختتام پذیر ہوگیا۔ فیض آباد انٹر چینج سمیت جڑواں شہر میں تمام بند راستے کھول دئیے گئے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے استعفیٰ دیدیا ہے جسے وزیر اعظم نے منظور کر لیا ہے، وزیر قانون کے استعفیٰ کے بعد حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں۔ 6نکاتی معاہدے کے تحت مذہبی جماعت زاہد حامد کے خلاف کوئی فتوی جاری نہیں کریگی، راجہ ظفر الحق رپورٹ 30دن میں منظر عام پر لائی جائیگی، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، تین دن تک مذہبی جماعتوں کے تمام کارکنوں کو رہا کر دیا جائیگا، دھرنے پر حکومتی ایکشن کیخلاف 30 دن کے اندر انکوائری کرکے ذمہ داروں کا تعین بھی کیا جائیگا، سرکاری و غیر سرکاری املاک کا تمام نقصان وفاقی و صوبائی حکومتیں پورا کریں گی۔ معاہدے کے بعد کراچی، پشاور، ملتان سمیت دیگر شہروں میں دھرنے پر بیٹھے کارکن منتشر ہوگئے،مارکیٹیں کھل گئیں، گڈز ٹرانسپورٹ بحال ہوگئی اور سامان کی ترسیل شروع ہوگئی ہے۔خوشیاں منائیں کہ حکومت نے تاریخ کا تھرڈ کلاس معاہدہ سائن کر دیا ہے۔حکومت کی اس سے زیادہ پسپائی رسواءجگ ہنسائی اور کیا ہو گی کہ جس فوج کو “روک سکتے ہو تو روک لو “جیسے متکبرانہ تیر نچھاور کئے جاتے تھے اخیر اسی کو ثالثی بنا کرایک ہولناک خانہ جنگی سے جان چھڑانا پڑی۔ اور جس عدلیہ کی توہین کو سیاست سمجھا جا تاتھا ،فوج مخالف ریمارکس پر اب وہی عدلیہ اچھی لگنے لگی ؟۔ معاہدے میں اس بات کا اعتراف کیاگیاہے کہ یہ تمام معاہدہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انکی نمائندہ ٹیم کی خصوصی کاوشوں کے ذریعے طے پایا جس کیلئے ہم انکے مشکور ہیں کہ انہوں نے قوم کو ایک بہت بڑے سانحہ سے بچا لیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے معاہدے اور فوج کی ثالثی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت کسی آرمی افسر کا ثالث بننا کیسا ہے، کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں، فوجی افسر ثالث کیسے بن سکتے ہیں، یہ تو لگ رہا ہے کہ ان کے کہنے پر ہوا، ریاست کے ساتھ کب تک ایسے چلتا رہے گا۔۔۔ دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے فیض آباد دھرنا مظاہرین سے معاہدے کو افسوسناک باب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنے کا اختتام نا خوشگوار ہے اور نہ ہی اس پر فخر کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ معاہدہ نواز حکومت کی پسپائی اور ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آئی۔ حکومت محض اقتدار کے مزے لینے کے لئے ہوتی ہے۔ دھرنے نے ثابت کر دیا کہ اس ملک پر قبضہ کرنا مشکل نہیں۔ عوام فوج کا احترام کرتے ہیں۔ فوج چند جرنیلوں کا نام نہیں۔فوج لاکھوں جوانوں کا نام ہے۔ہمارے وہ جوان جو ملک و قوم کے دفاع کے لئیے جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔ جانیں قربان کر رہے ہیں۔ فوج ثالث نہ بناءجاتی تو یہ خوفناک دھرنا حکومت سمیت بہت کچھ لپیٹ لےجاتا۔لال مسجد آپریشن کے اس وقت کے وکیل اور آج کے جج شوکت صدیقی صاحب کے ریمارکس نے نواز حکومت کی جہاں کھل کر بے عزتی کی وہاں فوج مخالف جملوں سے نواز شریف کو راحت بھی پہنچاءہے۔ اندر بیٹھ کر بات کرنے اور باہر میدان فساد سے نبٹنے میں بڑافرق ہے۔ فساد کو بالآخر ردالفساد کے مجاہدین نے ہی رکوایا۔ورنہ وزیر داخلہ سمیت پوری حکومت کانپ رہی تھی۔ عوام کی عدالت میں اپنا مقدمہ لے جانے کے شوقین جب عوام پر مشکل گھڑی آئی تو سب رفو چکر ہو گئے۔ ساری منصوبہ بندی مارشل لا کو دعوت دینے کے لئے بنائی گئی تھی لیکن سیاسی شہادت کے آرزومند وں کی یہ آخری آرزو پوری نہ ہو سکی۔ ذلت و رسوائی جب عرش پر لکھ دی جائے تو فرش والے بے بس ہوجاتے ہیں۔

٭٭٭٭٭