”پاکستان کے شایانِ شان....پاک فوج!“

کالم نگار  |  اثر چوہان

11اکتوبر 1947ءکو افواجِ پاکستان سے خطاب کرتے ہُوئے حضرت قائدِاعظم ؒ نے فرمایا تھا۔ ”اگر ہم جنگ میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فوق اُلبشر محنت اور جدوجہد کرنا ہوگی۔ یہ ذاتی ترقی، عہدے اور مرتبے حاصل کرنے کا وقت نہیں ہے۔ یہ وقت ہے تعمیری کوشش کا، بے لوث جدوجہد کا اور مستقل مزاجی سے فرض شناسی کا!“۔ بانی پاکستانؒ نے 66 سال پہلے ہی پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے لئے جو لائحہ عمل متعّین کر دِیا تھا، اُس کی روشنی میں نئے چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے جانشین جنرل راحیل شریف کو اپنی ذمہ داریوں کو بطریقِ احسن پورا کرنا ہوگا۔
آئین کے مطابق یہ وزیرِاعظم نواز شریف کی صوابدید تھی(اور ہے) کہ وہ اپنی عقل و دانش کی روشنی میں فوج کے دو اعلیٰ ترین عہدوں پر جنہیں وہ مناسب خیال کریں ان کا تقرر کریں۔ جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرتے وقت بھی وزیرِاعظم نواز شریف نے کئی سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کِیا تھا۔ اُن سے قبل وزیرِاعظم ذوالفقار بھٹو نے بھی جنرل ضیاالحق کا تقرر کرتے ہوئے یہی کیا تھا۔ جنرل ضیاالحق نے اپنے مُحسن کو تختہ دار پر پہنچا دیا تھا اور جنرل پرویز مشرف بھی اپنے مربی کو صِرف جلاوطن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جنرل ضیاءالحق ناگہانی موت کا شکار ہُوئے لیکن جنرل پرویز مشرف، پُورے پروٹوکول کے ساتھ رُخصت ہُوئے، لیکن تقدیر اُنہیں پھِر گھیر کر پاکستان لے آئی۔ وہ نئے سرے سے مُلک فتح کرنے کے لئے واپس آئے لیکن نشانِ عبرت بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیرِاعظم بھٹو اور وزیرِاعظم نواز شریف (پاک فوج کے سربراہوں کے تقرر کے معاملے میں) مردم شناس نہیں تھے۔ اِس طرح کا قصوروار تو رومن ڈکٹیٹر جولیس سیزر کو بھی ٹھہرایا گیا، جو اپنے دوست جرنیل بروٹس کی سازش سے قتل ہُوا تھا۔ مرزا غالب نے کہا تھا....
”ڈرتا ہُوں آئینے سے، کہ مردم گزِیدہ ہُوں“
حکومت چلانے کے سِلسلے میں حکمرانوں کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ بہرحال لیفٹننٹ جنرل راحیل شریف کو جنرل کے عہدے پر ترقی دیئے جانے اور اُنہیں چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرنے کا مُلک بھر میں خیرمقدم کیا گیا ہے۔ وہ پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ”نشانِ حیدر“ حاصل کرنے والے میجر عزیز بھٹی شہید کے بھانجے اور میجر شبیر شریف شہید کے بھائی ہیں۔ جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کو وراثت میں اِس طرح کا اعزاز حاصل نہیں ہُوا تھا۔ جنرل راحیل سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کا نام مزید روشن کریں گے۔ ”پیغمبرِ انقلاب“ نے مملکتِ اسلامیہ کے نامور جرنیل حضرت خالد بن ولیدؓ کو ”سَیف اللہ“ یعنی اللہ تعالیٰ کی تلوار کے خطاب سے نوازا تھا لیکن 636ءمیں رومیوں کے خلاف جنگِ یرموک کے دوران خلیفہ دوم حضرت عُمر بن خطابؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو برطرف کرکے اُن کی جگہ حضرت ابوعبیدہ بن جرّاحؓ کو لشکرِ اسلام کا سپہ سالار مقرر کر دیا تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے مملکت کے خلاف بغاوت نہیں کی تھی۔
”سالارِ بَیت اُلحرام“ حضرت نبی کریم کا لقب ہے۔ جنرل راحیل شریف اُس وقت سالارِ ارضِ پاک بنائے گئے ہیں جب ارضِ پاک کو بیرونی دشمنوں کی نسبت اندرونی دشمنوں سے زیادہ خطرہ ہے۔ جنرل راحیل شریف کو یاد ہوگا کہ مئی 2013 کے عام انتخابات سے 11دِن قبل 30 اپریل کو اُن کے پیشرو جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اسلام آباد میں یومِ شُہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہم عظیم قربانیوں کے باوجود اُس منزل سے دُور ہیں جِس کا خواب علّامہ اقبال ؒ اور قائدِاعظم ؒ نے دیکھا تھا“۔ جنرل کیانی نے یہ بھی کہا تھا کہ ”دہشت گردی اور شِدّت پسندی ایک ناسُور ہے اور اگر ایک گروہ پاکستان کے آئین اور قانون سے بغاوت کرتے ہُوئے اپنے غلط نظریات ہم پر مسلّط کرنا چاہے اور اِس مقصد کے لئے خونریزی کو جائز سمجھتا ہو بلکہ ریاستِ پاکستان جمہوری عمل اور بے گناہ شہریوں کے خلاف ہتھیار بند ہو جائے تو اُن کا قلع قمع کیوں نہیں کیا جائے گا؟“۔
وزیرِاعظم نواز شریف، طالبان اور دوسرے دہشت گردوں سے مذاکرات کے حق میں تھے (اب بھی ہیں) یہی وجہ تھی کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں پاک فوج نے۔”دہشت گردی اور شدت پسندی کے ناسُور کو جڑ سے اُکھاڑنے اور پاکستان کے آئین اور قانون سے بغاوت کرنے اور اپنے غلط نظریات کو ہم پر مسلّط کرنے کے لئے خونریزی کرنے والوں اور ریاستِ پاکستان جمہوری عمل اور بے گناہ شہریوں کے خلاف ہتھیار بند گروہوں کے خلاف آپریشن نہیں کیا، امکان یہی ہے کہ حکومت اور طالبان کے متوقع مذاکرات نہیں ہوں گے اور اگر ہُوئے تو ناکام ہو جائیں گے۔ اِس لئے کہ طالبان مذاکرات سے قبل دہشت گردوں کی رہائی فاٹا سے پاک فوج کی واپسی اور پاکستان میں اپنی مرضی کے مطابق شریعت کے نفاذ پر اڑے ہُوئے ہیں۔ ایسے حالات میں علامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کی وارث کہلانے والی مسلم لیگ ن کی حکومت جو بھی فیصلہ کرے، پاکستان کی مسلح افواج کو اُس کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔
جنرل راحیل شریف کے عِلم میں ہوگا کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں پاک فوج کے 8ہزار افسران اور جوان اور 42 ہزار معصوم اور بے گناہ شہری شہید ہو چکے ہیں، لیکن امیر جماعتِ اسلامی سیّد منور حسن سمیت دہشت گردوں کے حمایتی دوسرے مذہبی گروہوں کے قائدین پاک فوج کے شہیدوں کو بھی ”شہید“ نہیں سمجھتے جبکہ وزیرِاعظم نواز شریف نے 12نومبر کو جی ایچ کیو کا دورہ کرکے پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ”پاک فوج کے غازی اور شہید ہمارے مُحسن ہیں فوج کے افسران اور جوان ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کر رہے ہیں اور ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کو قربان کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے“۔
قومی اور بین الا قوامی میڈیا میں جنرل راحیل شریف کی شخصیت، پیشہ ورانہ صلاحت، معتدل مزاجی اور اعلیٰ کارکردگی کی تعریف کی جا رہی ہے، جو اُن کے لئے فی الحقیقت اعزاز ہے۔ مَیں اس موقع پر جنرل صاحب کی خدمت میں 13 اپریل 1948 کو پاکستان کی بری فوج سے خطاب کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔ قائدِاعظمؒ نے پاک فوج کے ہر افسر اور ہر جوان سے کہا تھا ”کبھی نہ بھولئے کہ اتحاد میں برکت ہے۔ اپنی رجمنٹ پر فخر کیجئے۔ اپنی کور اور اپنی ڈویژن پر فخر کیجئے۔ اپنے پاکستان پر فخر کیجئے، نہ صِرف فخر بلکہ خود کو اس پر وقف کر دیجئے۔ پاکستان آپ پر اعتبار کرتا ہے۔ پاکستان آپ پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان آپ کو اپنا محافظ سمجھتا ہے۔ اس کے اعتماد کو ضُعف نہ پہنچائیے۔ خُود کو اس کے شایانِ شان ثابت کرکے دکھائیے“۔