نیشنل عوامی پارٹی کو اختلافات اور دھڑے بندی کا سامنا

ایم ریاض  ........بیوروچیف پشاور

عوامی نیشنل پارٹی کے بانی ولی باغ خاندان میںاختلافات کے نتیجہ میں بیگم نسیم ولی خان اوراسفندیارولی خان کے صف آراء ہونے کے بعداے این پی کولگنے والے دھچکے کے اثرات تادیرزائل نہ ہوسکیںگے بیگم نسیم ولی خان کی مخالفت خودانہیں کوئی فائدہ دے یانہ دے سکے اسفندیارولی خان اوران کے ہم خیال رہنمائوںکونقصان ضروردے رہی ہے۔خدائی خدمت گارتحریک سے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)،نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی(این ڈی پی)اوربالآخرعوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)کانام اختیارکرنے والی سیاسی جماعت کومختلف مراحل پراندرونی اختلافات اوردھڑے بندی کا سامنا کرنا پڑا اوراس سلسلہ میںسب سے شدیداختلاف2005کے دوران اس وقت سامنے آیاجب اے این پی کا بانی خاندان(ولی باغ)کواندرونی اختلاف سے دوچارہواجس کی خاص بات یہ تھی کہ سیاسی میدان کے اس معرکہ میںاس جماعت کے بانی (ولی باغ)خاندان کے ا فرادایک دوسرے کے مقابل صف آراء تھے 1977میں بھٹو حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک سے خارزارسیاست میںقدم رکھنے والی بیگم نسیم ولی خان کوپارٹی کی صوبائی صدرکی حیثیت سے اس مخالف محاذکاسامناتھاجس کی قیادت ان کے سگے بھائی سابق وفاقی وزیرمواصلات اعظم خان ہوتی اورسوتیلے بیٹے پارٹی کے مرکزی صدراسفندیارولی خان کررہے تھے جس میںبیگم نسیم ولی خان کومات ہوئی 2008کے عام انتخابات کے بعدوفاقی سطح پرپیپلزپارٹی سے اتحادمیںاس وقت کے صدرآصف علی زرداری نے اے این پی کوصوبہ کی اسمبلی میںسب سے زیادہ نشستیںحاصل کرنے کی وجہ سے صوبہ میںحکومت سازی کی دعوت دی تواعظم ہوتی کے صاحبزادے امیرحیدرخان ہوتی کووزیراعلی نامزدکیاگیاجوپارٹی کے مرکزی صدراسفندیارولی خان کے سگے بھانجے ہیںاے این پی 2013تک کے پانچ سالوںمیںصوبہ کی حکمران اوروفاقی حکومت میںحصہ داررہی اس عرصہ میںحکمرانی کے مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ اے این پی کے وزراء اوررہنمائوںپرصوبہ کے وسائل لوٹنے کے الزامات کی بازگشت سنائی دیتی رہی مئی2013کے عام انتخابات میںاے این پی کواپنی تاریخ کی بدترین شکست کی خفت اٹھاناپڑی۔ اپنے دورحکومت میںمبینہ امریکہ نوازپالیسیوںکے الزامات کی وجہ سے عسکریت پسندتنظیموںکی شدیدمخاصمت کے باعث اے این پی کوصوبہ کے سینئروزیراورمتعددارکان اسمبلی سمیت 7سوسے زائدرہنمائوںاورکارکنوںکی جانوںسے ہاتھ دھوناپڑے اسی مخاصمت میںپارٹی کے مرکزی صدراسفندیارولی خان کواپنی رہائش گاہ پرایک خودکش بم دھماکہ کے بعدنہ صرف صوبہ بلکہ اپنے آبائی ضلع چارسدہ میںبھی عوامی رابطوںاور سیاسی سرگرمیوں کو انتہائی محدود کرنا پڑا اس تمام صورتحال میںاے این پی کے رہنما اور دیرینہ کارکن مایوسی اور اضطراب میں مبتلا رہے اس دوران ولی باغ خاندان میںایک بار پھر اختلافات نے جنم لیا۔ اعظم ہوتی کے اپنے بیٹے سابق وزیراعلی امیرحیدرہوتی اپنے ماموں اسفند یار ولی خان کے دفاع میںمورچہ زن ہوکراپنے والدکے الزامات کومستردکرنے لگے اور ابھی خاندان کے اندریہ سیاسی لڑائی جاری تھی کہ 2005 میں پارٹی کی صوبائی صدارت سے سبکدوش ہونے والی بیگم نسیم ولی خان نے بھی اسفندیار کے خلاف میدان عمل میںاترنے کااعلان کیا۔ پارٹی کے معاملات میںان کی واپسی کامقصداے این پی کی اصل شکل میںبحالی ہے۔ بیگم نسیم ولی خان کے اقدام کے اثرات اوران کے اقدام کے ان کے حق میںمثبت ومنفی پہلوئوںپرمتضادآراء کااظہارکیاجارہاہے صوبہ کے سیاسی مبصرین ایک ایسے وقت پرجب پارٹی کی رکنیت وتنظیم سازی کیلئے اے این پی کی تمام تنظیمیںتوڑی جاچکی ہیںبیگم نسیم ولی خان کی دھواںداربیان بازی اے این پی کیلئے ایک بڑادھچکاقراردے رہے ہیںکیونکہ ماضی کے برعکس اس باراے این پی کے اندراختلاف پارٹی کے اندراختلاف سے زیادہ اس کے بانی خاندان کے ارکان میں اختلافات کاشاخسانہ ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ بیگم نسیم ولی خان کے اسفند یار ولی خان کے خلاف صف آراء ہونے اوران کی جانب سے صوبہ کے ساتھ ساتھ کراچی اوربلوچستان کے پشتون علاقوںمیںدیرینہ پارٹی کارکنوںسے رابطوں (یا رابطوں کے عزم )کاخودبیگم نسیم ولی خان کوکوئی فوری فائدہ پہنچے یانہ پہنچے پارٹی میںاسفندیارولی خان اوران کے حامی قائدین کودھچکاضرورلگاہے۔