نواز شریف کے راحیل شریف۔۔۔!

دنیا بھر کے عوام اپنی فوج کے سربراہان کے ناموں سے لاعلم ہوتے ہیں،کون آیا کون گیا ،ان کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی جبکہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں فوجی سپہ سالار وںکے آنے جانے سے کھلبلی مچ جاتی ہے۔ان کے جانے پر شکر ادا کیا جاتا ہے اورآنے والے پر دعائے جاحت پڑھی جاتی ہے۔جنرل پرویز کیانی پاکستان کے پہلے جرنیل ہیں جنہوں نے ’’شب خون‘‘ سے پرہیز کیا اور عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔سابقہ حکومت بھی ان سے راضی تھی اوران کی مدت جرنیلی میں توسیع کر دی ،وزیر اعظم نواز شریف بھی ان سے خوش ہیں مگرتو سیع نہ کر سکے،اس کی وجہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہیں۔ چیف جسٹس نے بحال ہوتے ہی حکومتوں کو وخت ڈال دیا۔پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات کا باعث رہے ،وہ الگ بات ہے کہ زرداری حکومت نے بھی عدلیہ کو مشکل وقت دیا۔ 
نواز حکومت کے ساتھ عدلیہ کی بے مروتی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، میاں نواز شریف کے لئے (نرم گوشہ) والی غلط فہمی بھی دور ہو گئی ۔نواز حکومت چیف جسٹس کی ریٹائر منٹ کے دن گن رہی ہے ،ان کی توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔میاں نواز شریف نے واشنگٹن میں دوران ملاقات کہا تھا کہ جنرل کیانی کو توسیع نہیں دی جا سکتی ورنہ’’ اوروں‘‘ کو بھی توسیع دینا پڑے گی ، ہم نے توسیع کا راستہ بند کر دیا ہے۔پاکستان میں جرنیلوں کے آنے جانے سے مراد حکومتوں کا آنا جانا لیا جاتاہے۔ جنرل کیانی کے تشریف لے جانے سے بہت  عرصہ پہلے ہی ’’بریکنگ نیوز‘‘ چلنا شروع ہو گئی تھیں ۔ نئے سپہ سالار کے انتخاب سے متعلق سیاسی و صحافتی نجومیوں نے ناموں کی فال نکالنا شروع کر دی تھی مگر تمام ’’ٹیوے‘‘ غلط ثابت ہوئے۔ جنرل کیانی چلے گئے ہیں، نئے آرمی چیف آگئے ہیں اور چیف جسٹس بھی جا رہے ہیں۔نواز شریف نے راحیل شریف کا پر تپاک استقبال کیا اور لیفٹینٹ جنرل راحیل شریف پاک فوج کے نئے سپہ سالار مقرر کر دئے گئے۔ملک کے حساس عہدوں میں تقرریوں سے متعلق نیویارک میں بیگم کلثوم نواز نے کہا تھا کہ نواز قابلیت اور تجربے کو فوقیت دے رہے ہیں ،ہمیں نظریاتی افراد کی ضرورت ہے جو پاکستان کو قائد اعظم ؒ کا پاکستان بنا سکیں ،اس سلسلہ میں ہم مشاورت کو ویلکم کرتے ہیں۔جنرل راحیل شریف کا انتخاب نواز شریف خاندان کی باہمی مشاورت سے عمل میں لایا گیا۔اہم فیصلوں کی مشاورت میںخاندان کے علاوہ افراد کی شمولیت کے بارے میں کھوج لگانا بے فضول ہے،ہر سیاسی پارٹی کے پاس دو چار ہی نو رتن ہوتے ہیں،وہی ان کے مشیران ہوتے ہیں اور وہی ان کے رازدار ہیں،انہیں اٹھا کر کبھی ادھر لگا دیا جاتا ہے اور کبھی ادھر لگا دیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کو وزارت دفاع اور وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو وزیرقانون و انصاف کا اضافی چارج دے دیا گیاہے۔چیف جسٹس پاکستان نے لا پتہ افراد کیس میں وزیر دفاع کو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی ،چونکہ یہ وزارت بھی وزیراعظم پاکستان کے پاس تھی لہذا انہوں نے یہ قلمدان خواجہ آصف کو دے دیااور خود کو سپریم کورٹ جانے سے بچا لیا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری پاکستانی تاریخ میں وہ چیف جسٹس ہیں جو ریٹائر منٹ کے بعد بھی اس ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوں گے۔عدلیہ میں ایک نظام سیٹ کر دیا گیا ہے جو کسی حد تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا البتہ تقرریوں اور ترقیوں میں ڈنڈی ماری جاتی رہے گی۔اس ملک کی فوج اوربیورو کریسی کے حالات بھی مختلف نہیں۔تقرریوں اور ترقیوں میں ہائی لیول پر لابنگ کی جاتی اور اس سلسلے میں افسران کی بیگمات اہم کردار ادا کرتی ہیں۔جسٹس تصدق جیلانی کو نیا چیف جسٹس مقرر کیا جا رہاہے، اچھی شہرت سنی ہے،امید ہے منصفی کا حساس عہدہ پوری ذمہ داری کے ساتھ نبھائیں گے۔ ہم اپنے ایک کالم میں میاں صاحب کو ’’استخارہ‘‘ کا مشورہ دے چکے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کے انتخاب سے پہلے استخارہ ضرورکر لیں کہ یہ وہ دو عہدے ہیں جن پر حکومت کے پانچ سال منحصر ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے آرمی چیف بنائے جانے پر کچھ حلقوں میں تحفظات پائے جا تے ہیں ۔ شریف خاندان کو ماضی میں جو ہاتھ لگ چکے ہیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے شریف خاندان نے اپنی ٹیم میںایک اور’’ شریف ‘‘شامل کر لیا۔نواز شریف کو امید ہے کہ جنرل شریف مشرف نہیں بنیں گے ۔جنرل راحیل شریف میجر محمد شریف کے گھر پید اہوئے ۔جنرل راحیل کی والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ شہید  کی ماں ہیں اور آج اللہ تعالیٰ نے انہیں سپہ سالار کی ماں ہونے کے اعزاز سے بھی نواز دیا ۔جنرل راحیل شریف ملک کے دفاع کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے نشان حیدر کا اعزاز پانے والے شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی تقرری کے بارے میں تحفظات کا شکار طبقے کا کہنا ہے کہ آرمی کے چیف کے انتخاب میں نواز شریف کی پسندو ناپسند کو بڑا دخل رہاہے تاہم جنرل ہارون اسلم کو نظر انداز کرکے یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ میاں صاحب کو 1999میں ’’کو‘‘ کرنے والی مشرف ٹیم یاد ہے۔ جنرل ہارون اس وقت ملٹری آپریشن ڈائریکٹوریٹ میں کام کرنے والے چھ بریگیڈئرز میں سے ایک تھے۔ نواز شریف کی راحیل شریف سے مصافحہ کی رنگین تصویر دیکھی۔ خدا کرے اس بار میاں صاحب کا اندازہ درست ثابت ہو ۔