نشان حیدر کے جلو میں نیاآرمی چیف

خون کی ایک طویل لکیر ، بدر و احد اور کربلا کی شفق رنگوں رفعتوں کو چھوتی ہوئی، برکی اور سلیمانکی کے نئے رزم ناموں کا عنوان ٹھہری تو نشان حیدر کہلائی، ایک نہیں دو نشان حیدر جس کے ماتھے پر روشن ستارہ بن کر چمک رہے ہوں تو اس کے مقدر میں ارض پاک کا نیا آرمی چیف بننا لکھ دیا گیا تھا۔اور تقدیر کا لکھا کون بدل سکتا ہے۔
جنرل راحیل شریف ایک ایسے وقت میں دفاع وطن کی کمان سنبھال رہے ہیں جب ملک میں ایک قوم کا وجود مکمل خطرے میں ہے، یہ ملک دو قومی نظریئے کی بنیاد پر بنا تھا اور اب اسی بنیاد پر کلہاڑا چلایا جا چکا،امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے باہمی گٹھ جوڑ نے ہماری قومی یک جہتی کو پارہ پارہ کر دیا ،امن کے گماشتے، بھارتی را اور امریکی سی آئی اے کی داشتائیںمذموم ایجنڈے کو آگے بڑھا نے میں مصروف ہیں، ہمارے وزیر اعظم فخر سے کہتے ہیں کہ وہ ویزہ فری بر صغیر چاہتے ہیں۔ہمارا میڈیا امن کی آشا کا راگ الاپ رہا ہے اور ہمارے قلمکار ، شاعر، نقاد اور دانشوراس نظریئے کو بڑھاوا دے رہے ہیں کہ ادب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، وہ کئی کئی دنوں کی کانفرنسیں ایسے ہال میں کرتے ہیں جو الحمرا کے نام سے موسوم ہے، الحمرا ہماری تاریخ کا فخریہ باب تھا لیکن اسے ذلت کی علامت کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ہمارے چینلز پر میرا سلطان کی ردا چاک کی جا رہی ہے، یہ ہمارے زوال کی علامات ہیں جن کی نمائش سے نئی نسل کو اپنے اسلاف سے گمراہ کیا جا رہا ہے۔میں بھارتی فلموں اور ڈراموں اور کارٹونوں کی بات نہیں کرتا کیونکہ ان کے ذریعے جوباریک کام کیا جانا تھا ، وہ مکمل ہو چکا، اب کھیل اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ہم خوش ہیں کہ امریکہ اس خطے سے شکست فاش کھا کر واپس جا رہا ہے۔ مگرہماری آنکھیں اس انجام کو دیکھنے سے قاصر ہیں جوہماری نظریاتی پژ مردگی کی وجہ سے ہمارے گلے کا طوق بننے والا ہے۔ایک خدا ، ایک کتاب، ایک رسول پر ایمان رکھنے والے نئے خدائوں، نئی کتابوں اور نئے فرقوںکے حوالے سے تقسیم ہو چکے ہیں اور اس بنیاد پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں، جس کے ذہن میں دین کی جو تشریح آتی ہے، وہ اس کو نافذ کرنے کے لئے لٹھ اٹھا لیتا ہے، جہاد کا پرچم لہرا دیتا ہے۔صد حیف! جن قوتوںنے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی، وہ آج برہنہ ہو کر ملک کا خدا نخواستہ کریا کرم کرنے میں سرگرم ہیں۔
نئے سپاہ سالار کو آنے والی جنگ کسی سومنات یا پلاسی یا وزیرستان کے میدان میں نہیں، لوگوں کے ذہنوں میں لڑنی ہے اور جیت کر دکھانی ہے۔میجر شبیر شریف نشان حیدر نے دشمن کو اسکے مورچے کے سامنے للکارا اور میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر نے دشمن پر وار کرنے کے لئے ذاتی حفاظت کے تمام اصولوں کو پس پشت ڈال دیا مگر ان کی شجاعت کی روایات کے علم بردار جنرل راحیل شریف کو ایک نئے اکھاڑے میں اترنا ہے اور یہ ہے نظریاتی جنگ کا محاذ۔یہ لڑائی یک سوئی مانگتی ہے، یک جہتی مانگتی ہے،اور جذبہ صادق مانگتی ہے۔دشمن نے ہماری سوچ پر وار کیا ہے، وہ ہمارے نظریئے کو باطل ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، وہ ہمارے ایمان کو متزلزل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عام آدمی کے نزدیک اس وقت مسئلہ ہے امن مذاکرات کا ، اس وقت مسئلہ ہے، امریکی انخلا کا، اس وقت مسئلہ ہے افغان مستقبل کو طے کرنے کا۔مگرمجھے ظاہری مسائل سے کیا سروکار۔ میری نظر تو ان خطرات پر مرکوز ہے جو ظاہری مسائل کی تہہ میں ہیں ، جو سرطان کی طرح ہمارے جسد قومی میں سرائت کر رہے ہیں ، جو اندر ہی اند رہمیں کھوکھلا کر رہے ہیں۔اور اگر دشمن ہمیں دھوکا دینے میں کامیاب ہو گیا تو وہ وقت دور نہیں جب ہم خدا نخواستہ اس کے قدموں میں سرنڈر پر مجبور ہو جائیں گے اور وہ ہمارے سروںکے ڈھیر پر اپنا تخت سجائے گا۔ہلاکو اور چنگیز ہمارا یہ حشر کر چکے، امریکی اور نیٹو فورسز نے مسلمانوں کو ملکوں ملکوںاجتماعی قبروں میں دھکیلا۔ڈرٹی بموں سے چھیدا، کروز میزئلوں سے چھلنی کیا۔
کبھی غور کریں کہ لیبیا میں کیا ہوا، وہاںامریکہ، نیٹو اور اسلام پرستوںنے مل کر قذافی کا تختہ الٹا، ایک نیٹو طیارے کے میزائل نے قذافی کا بدن چھلنی کیا۔ شام میں تو یہ کھیل سب کی نظروں کے سامنے ہے، شامی اسلام پرستوں کو امریکہ اور نیٹو ممالک اسلحہ اور ڈالر فراہم کر رہے ہیں،یہاں روس کے صدر پوتن کو دخل دینا پڑا ،ورنہ امریکہ بذات خود جارحانہ یلغار کرنے والا تھا۔پہلی افغان جنگ میں امریکہ اور ساری دنیا نے سووئت روس کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے اسلام پسندوں کو جہاد میں جھونکا مگر اب دوسری افغان جنگ میں امریکہ اور اسلام پسند آمنے سامنے ہیں۔ مصر میں اسلام پسندوں کے خاتمے کے لئے امریکہ وہاں کی فوجی حکومت کا ساتھ نبھا رہا ہے ،کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کہیں تو امریکہ اور اسلام پسند ایک مفاد پراکٹھے ہیں اور کہیں ان میں بعد اور دشمنی ہے۔اصل کھیل یہ ہے کہ عالم اسلام کو انتشار کا شکار کیا جائے۔
 پاکستان میں فوج ہی وہ آخری حصار ہے جو اس ایٹمی قوت کے ملک کی محافظ ہے چنانچہ ساری توجہ اس فوج کے خلاف مرکوز ہے، اس کے شہیدوں کے مقابلے میں کتوں کی شہادت کے فتوے دیئے جارہے ہیں، ہم اگر اپنے غازیوں اور شہیدوں کو قرون اولی کے غازیوں اور شہیدوں سے نسبت دیتے ہیں تو فون، ایس ایم ایس وغیرہ کے ذریعے ہمارا ناطقہ بند کر دیا جاتا ہے۔ آج ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ قوم کو فوج سے دور کر دیا گیا ہے، فوج کے جنازوںمیں سیاسی اور مذہبی لیڈر شرکت سے گریز کرتے ہیں ، حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملے کا ماتم ہمارا وزیر داخلہ خود کرتا ہے لیکں جنرل ثنااللہ نیازی کی شہادت پر ایک آنسو بہتا دکھائی نہیں دیتا، لا پتہ افراد کے نوحے پڑھے جاتے ہیں اور جن فوجیوں یا پاکستانیوں کی گردنیں کاٹی جاتی ہیں، وہ بھی ا ن کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد اور ان کا نوحہ خواںکوئی ایک بھی نہیں۔
یہ ہے وہ منظر نامہ جب دنیا کی ایک بہترین ، تربیت یافتہ ، ایٹمی اسلحے سے لیس اور پروفیشنل آرمی کی قیادت جنرل راحیل شریف کو سونپی جا رہی ہے، جنرل راحیل شریف کے ہاتھ میں پوری قوم کا مقدر ہے۔ان کا چنائو اس وجہ سے نہیں کیا گیا کہ حکمران ان کی وفاداری پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرسکیں بلکہ اس چنائو کا ایک ہی مقصد ہے کہ پوری قوم اپنے سپاہ سالار پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کر سکے۔
 میجر عزیز بھٹی نشان حیدر اور میجر شبیر شریف نشان حیدر کے خون کے صدقے ،قوم اپنے وجود کا تحفظ مانگتی ہے، اپنی آزادی کے تحفظ کی طلبگار ہے، اپنے اقتدار اعلی کے دفاع کا تقاضا کرتی ہے۔اور اس نظریئے کی سلامتی چاہتی ہے جس پر پاکستان کی عمارت استوار کی گئی اور جسے ویزہ فری اعلانات اور امن کی آشائو ں اور ان کے گماشتوں کی کانفرنسوں سے حقیقی خطرہ درپیش ہے۔