” دو ماہ پہلے۔۔ میری کزن تھی!“

کالم نگار  |  اثر چوہان

1960ءکی دہائی میں،اندرون بھاٹی دروازہ کے، سیّد فضل حسین شاہ عُرف۔پھجی شاہ کے نام سے ۔” پھجی شاہ دا تھیٹر “۔پنجاب بھر میں بہت مشہور تھا ۔جب بھی کسی ضلعی ہیڈکوارٹر پر، میلہ مویشیاں لگتا ،پھجی شاہ وہاں اپنا تھیٹر لے جاتے ۔اُس تھیٹر نے پنجابی کے بہت سے فنکاروں(گلوکاروں اور اداکاروں) کو مُتعارف کرایا۔ اُن میں سے کئی، ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے اور جب ٹیلی وژن آیا تو ٹیلی وژن سے۔ اور پھر فلمی دُنیا میں بھی۔” پھجی شاہ دا تھیٹر“۔ کے مقابلے میں کئی اورتھیٹر میدان میں آئے، پھر زیادہ معاوضہ مِلنے پر، شاہ صاحب کے تربیت یافتہ اور متعارف کرائے گئے فنکار، اُن تھیٹروں سے وابستہ ہو گئے۔ جب بھی کہیں میلہ مویشیاں لگتا تو وہاں کے تھیٹروں میں، عین وقت پر پتہ چلتا کہ کون سا فنکار ،کِس تھیٹر میں ہے؟ پھر سیّد فضل حسین شاہ صاحب کی زندگی میں ہی، اُن کا تھیٹر اُجڑ گیا تھا ۔شاہ صاحب کئی سال ہُوئے وفات پا چکے ہیں۔
ائر مارشل (ر) ایم ۔اصغر خان کی تحریکِ استقلال۔ 1979ءمیں۔( جب صدر جنرل ضیاالحق نے ،عام انتخابات کرانے کا اعلان کِیا تھا)۔ بہت بڑی سیاسی جماعت تھی ۔بڑے سیاسی قد کاٹھ کے لوگ، اُس کے عہدیدار تھے،لیکن ائر مارشل صاحب کی زندگی میں ہی اُن کی جماعت بکھر گئی۔ تحریکِ استقلال سے وابستہ کئی لوگ ،وزیرِاعظم ، وفاقی و صوبائی وزراءبنے اور کئی دوسرے حکومتی عہدوں پر فائز رہے،لیکن تحریکِ استقلال کو، بحیثیت جماعت اقتدار نہیں مِل سکا ۔سیاسی جماعتیں بنتی اور بگڑتی رہی ہیں اور ایک جماعت کے لوگ دوسری جماعت میں شامل ہوتے رہے ہیں ۔11مئی2013ءکے عام انتخابات سے پہلے، الیکشن کمِشن آف پاکستان کے پاس۔227 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ تھیں ،لیکن انتخابات کے نتیجے میں ، مسلم لیگ ن۔ وفاق ،پنجاب اوربلوچستان میں ،تحریکِ انصاف ۔خیبر پختونخوا میں اور پاکستان پیپلز پارٹی ۔سندھ میں حکومت بنا سکی ہیں ۔ایم کیو ایم ،جمعیت عُلماءاسلام اور چھوٹی چھوٹی دوسری جماعتیں پریشر گروپس کی شکل ہیں جو اقتدار میں حِصّہ بقدر جُثّہ حاصل کرنے کے لئے متحرک ہیں۔
 ہماری ایک تاریخی روایت کے مطابق ۔ہماری ایک بہت بڑی شخصیت کو، آئے دِن، شادیاں کرنے کا شوق تھا۔ اُن کو خود بھی یاد نہیں تھا کہ انہوں نے کب اور کتنی شادیاں کی ہیں۔ ایک بار ہُوا یوں کہ جب وہ، ایک چشمے کے پاس سے گزرے ، تووہاں کچھ خواتین پانی بھر رہی تھیں۔ انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہُوئے کہا کہ ۔” مَیں فلاں ابنِ فلاں ہوں ۔ اگر تم میں سے کوئی ،میرے ساتھ شادی کرنے کو تیار ہُو تو، میں حاضر ہُوں “۔ تمام خواتین ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگیں ۔پھر ہر ایک نے،اُن بڑی شخصیت کو بتایا کہ۔” حضور !۔ ہم سب باری باری آپ کے نکاح میں رہ چکی ہیں “۔ ہمارے یہاں بھی اکثر سیاستدانوں کو یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ کِس کِس سیاسی جماعت کے عہدیدار اور رُکن رہے ہیں اور کِس کِس جماعت کے امیدوار بن کر ، انتخاب جیتتے یا ہارتے رہے ہیں ؟۔ یہ بات انہیں میڈیا والے بتاتے ہیں۔
مختلف جماعتوں ،بلکہ مختلف اُلخیال جماعتوں کے اتحاد بھی ۔” اصولوں کی بنیاد پر“۔ بنتے اور ٹوٹتے ہیں ۔ساحر لدھیانوی نے اپنی محبوبہ سے کہا تھا کہ۔۔۔
” تُو مجھے ،چھوڑ کے ، ٹھکرا کے بھی، جا سکتی ہے
 تیرے ہاتھوں میں ، میرا ہاتھ ہے ، زنجیرنہیں“
وعدوں اور بعض اوقات، قرآنِ پاک پر، قسمو ں کے باوجود ،سیاسی اتحاد ٹوٹ جاتے ہیں ،اِس لئے کہ کسی بھی سیاسی اتحاد میں شامل سیاسی جماعت کے ،ہاتھوں میں زنجیر اور پَیروں میں بیڑیاں نہیں ڈالی جاتیں۔مرزا غالب ، حالانکہ سیاستدان نہیں تھے اور نہ ہی اقتدار کے طالب ،لیکن انہوںنے، اقتدار میں حِصّہ نہ مِلنے پر ،اتحاد توڑنے والی سیاسی جماعت کے لئے، ایک شعر کہا تھا جو، آج بھی سب کے لئے مشعلِ راہ ہے ۔ فرمایا۔۔۔
” وفا کیسی ،کہاںکا عِشق ،جب سر پھوڑنا ٹھہرا؟
 تو پھر، اے سنگ دِل ،تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو؟“
وفاق اور چاروں صوبوں میں حکومت سازی اور اتحادی سیاست بھی۔” اصولوں کی بنیاد پر“۔ ہُوئی اور اب صدرِ پاکستان کے انتخاب پر بھی۔Nine Zero۔پر مسلم لیگ ن کے صدارتی امیدوار ،جناب ممنون حسین ، اُن کے متبادل امیدوار ،جناب اقبال ظفر جھگڑا اور وفاقی وزیر خزانہ ،جناب اسحٰق ڈار کا جانا ، خوب ہے ۔ اِس موضوع پر بھی مرزا غالب نے کہا تھا ۔۔۔
” حاجت بُری بلا ہے کہ، غالب سا ، تُند خُو
 منت کش ِ عدو ، سرِ بازار ہو گیا !“
ایم ۔کیو۔ ایم نے، غیر مشروط طور پر ،مسلم لیگ ن کی حمایت کر دی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے، شریف برادران کا تیسرا بھائی بننے کا اعلان کر دیا ہے ۔مولانا فضل الرحمٰن۔ ہر دور میں حکومتی پارٹی کے اتحادی ہوتے ہیں ،اِس بار بھی ۔50سال پہلے بہاولپور کے معروف شاعر ظہور نظر کی ایک غزل کا یہ مصرع بہت مقبول ہُوا تھا کہ ۔۔۔
” زندگی سے ، چَین پا کر ، بھی نہ پایا ہم نے چَین
 زندگی بھی ، آپ کی مانند ، ہرجائی رہی“
اِس سے بہت پہلے۔ بیسوی صدی کے بین الاقوامی ادب کی ایک دیو قامت شخصیت ۔خلیل جبران اپنی تخلیق ۔"The Mad Man" ۔ (پاگل) ۔ میں ۔” زندگی اور عورت“۔ کے عنوان سے ،دو دوستوںکا مکالمہ لِکھتے ہیں ۔” یار!۔ دیکھو! وہ عورت ، اُس شخص سے بغل گِیر ہو رہی ہے اور کل ،بالکل اِسی طرح ،مجھ سے لِپٹی ہُوئی تھی “۔ دوست نے جواب میں کہا ۔اور کل مجھ سے لِپٹی ہوگی !۔ در اصل وہ زندگی ہی کی طرح ہے ،جِس پر سب کا قبضہ ہے اور موت کی طرح وہ، ہر ایک کو تسخیر کر لیتی ہے۔اور پھر ابدیت کی طرح ،ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے“۔خلیل جبران تو خیر ،شاعر ،ادیب ،مصّور اور مُصلح ہونے کے ساتھ ساتھ فلسفی بھی تھے ،لیکن دَورِ حاضر کا واقعہ یا لطیفہ یہ ہے کہ۔ایک دوست نے اپنے دوست سے پوچھا ۔” یار ! کل تمہارے ساتھ وہ لڑکی کون تھی؟“۔ دوسرے دوست نے جواب دیا ۔”وہ میری ۔" Cousin" ۔(کزن)۔ تھی!“۔ پہلے دوست نے مُسکرا کرکہا ۔” اچھا !۔دو ماہ پہلے ،وہی لڑکی میری کزن تھی!“۔