یہ لگژری ٹیکس کیا ہے.... بابو جی؟؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

آج صبح دس بجے ہی ملازم نے آ کے بتایا کہ محلے کے کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔کہاں ہیں؟باہر کھڑے ہیں۔الٰہی خیر.... میں باہر نکل آئی محلے والے بھی بڑے شاہانہ مزاج کے ہوتے ہیں، جب تک ان کے ذاتی مفاد اور ذاتی آرام پر زد نہ پڑے تو کبھی نہیں آتے۔میں باہر نکلی، سلام دعا کے بعد سب کو اندر لے آئی۔ان میں سب سے معمر بزرگ ہیں انہیں سب حاجی میاں کہتے ہیں۔ وہ محلے کے معاملات پر کڑی نظر بھی رکھتے ہیں۔جی فرمائیے-- ان کے بیٹھتے ہی میں نے پریشان لہجے میں پوچھا۔بی بی۔ ہم باقاعدہ تمہارا کالم پڑھتے ہیں، پچھلے ہفتے تم نے بجلی چوری اور ٹیکس نادہندگان پر خوب لکھا تھا اور ہم نے تمہارا کالم فوٹو سٹیٹ کرا کے ساری گلی میں بانٹا تھا۔شکریہ جی۔آرام سے ہماری بات سنو: یہ حکومت جب سے آئی ہے نئے ٹیکس لگانے کی نوید دے رہی ہے۔ میں جس گھر میں رہتا ہوں وہ چار کنال کا ہے میں نے یہ زمین 1969ءمیں خریدی تھی جبکہ یہاں جنگل بیابان تھا اور زمین پانچ ہزار روپے فی کنال مل رہی تھی۔ میرے چار بچے ہیں، دو بیٹیاں اور دو بیٹے۔ میں نے سوچا تھا انہیں ایک ایک کنال پر گھر بنا دوں گا بدلتے وقت کے ساتھ میرے سب بچے باہر چلے گئے ہیں، اب میں اکیلا اس گھر میں رہتا ہوں، رہتا کیا ہوں، میں تو گویا چوکیدار ہوں ایک بیٹا آسٹریلیا میں ہے اور دوسرا امریکہ میں ہے بس میرے اخراجات کے لئے تھوڑے سے پیسے بھیج دیتے ہیں۔ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے اس گھر کا ٹیکس نہ دیا ہو اب حکومت کی طرف سے اچانک اس قدیم گھر پر دس لاکھ روپے لگژری ٹیکس کا نوٹس آ گیا ہے۔ سارا گھر بند پڑا ہوا ہے میں تو ایک کمرے میں رہتا ہوں۔  سنیئے محترمہ: دوسرا ہمسایہ بولا۔ یہ صرف حاجی میاں کا قصہ نہیں ہے یہ ہر اس رہائشی کا قصہ ہے جس نے سستے زمانے میں زمین لے کر گھر بنا لئے تھے۔ اب ہم سے ان گھروں کے اخراجات سنبھالے نہیں جاتے اتنا زیادہ ٹیکس کہاں سے دیں۔صابر صاحب ایک جنرل سٹور کے مالک ہیں جھٹ بولے۔ جی اس میں لگژری کیا ہے۔؟یہ گھرتو مصیبت بن چکے ہیں خاندانی وضع داری ہے کہ بیچ نہیں سکتے۔ ہمسایوں کے جنریٹر شور مچاتے ہیں بجلی پانی اور گیس نہ ہونے کے باوجود ہم سب شرفاءہر ماہ اپنے یوٹیلٹی بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔یہ کس قسم کی حکومت ہے ایک نوجوان محمد عاطف بولا کہ اتنی پرانی اور قدیم پراپرٹی پر ٹیکس لگا رہی ہے کیا ان کے پاس اسحاق ڈار کے علاوہ کوئی بندہ نہیں ہے جو انہیں سمجھا سکے کہ بہت سی جائیدادیں اور کوٹھیاں وراثت میں چلی آ رہی ہیں بزرگ مر کھپ گئے۔ اولادوں نے نشانیاں بنا کے سنبھال رکھی ہیں۔ لگرژی ٹیکس تو عام طور پر نئی جائیداد کی خرید اور فروخت کے وقت لگایا جاتا ہے گھر بیٹھے بوڑھے اور بیمار لوگوں کو بے سکون کرنے کے لئے نہیں لگایا جاتا۔مسز گل افراز یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں فوراً بولیں اور بہت سی چیزیں جن پر ٹیکس لگنا تھا کیا سب بڑے گھروں میں پی ایم ایل این کے مخالفین رہتے ہیں جو انہوں نے تاک کر انہیں نشانہ بنایا ہے۔آپ مجھے بولنے کا موقع دیں گے میں نے آہستہ سے کہا۔جی سارا وقت آپ اسمبلیوں میں بولتے ہیں پھر بھی آپ کا بولنے سے دل نہیں بھرتا۔ ایک نوجوان جو غالباً سٹوڈنٹ لگتا تھا اونچی آواز میں بولنے لگا۔اچھا.... میں نے ہنس کر کہا پہلے آپ سب اپنا غصہ گلہ نکال لیں مگر یہ سب مجھے کہنے سے کیا فائدہ۔؟ نہ اب میں پارلمینٹ میں ہوں اور نہ اس قانون میں میرا کوئی لینا دینا ہے۔آپ اسمبلی میں ہوں یا نہ ہوں آپ ہماری آواز ہیں، ہمارا نمائندہ ہیں ہم بے سکون ہیں، پیٹ بھر کر روٹی نہیں مل رہی زندہ رہنے کے لئے بجلی نہیں مل رہی، بچوں کو پالنے کے لئے گیس اور پٹرول نہیں مل رہے کیا یہ حکومت ہمارے ماں باپ کی نشانیاں ہمارے آبائی گھر ہم سے چھیننا چاہتی ہے۔ آخر ان کو اتنی عقل کیوں نہیں کہ ایک پیریڈ مقرر کر لیں مثلاً 2000ءکے بعد یا 2010ءکے بعد جو بڑے گھر بنائے گئے ان کو لگژری کی کیٹیگری میں لائیں کئی بیوائیں ایسی ہیں کہ کئی شادیاں کر کے ارب پتی بنی بیٹھی ہیں ان کو ٹیکس کی چھوٹ دے دی کئی سہاگنیں ایسی ہیں کہ چادر کے تلے گھر کی آبرو بچا کے بیٹھی ہیں، نہ بیٹے ان کی کفالت کرتے ہیں نہ بیٹیاں مدد کرتی ہیں کیا قرض لے کر ٹیکس ادا کریں پھر قرض سے بچنے کے لئے یہی گھر بیچ دیں۔ اور پھر آپ ان بیورو کریٹس کو نہیں جانتے۔ حکومت ناکام ہو کر چلی بھی جائے گی مگر یہ لوگوں کا لہو نچوڑتے رہیں گے.... کوئی تو معیاد مقرر کرنی چاہیے تھی۔سنیں- میں نے کہا- میری بات سنیں- میں بھی آپ لوگوں میں شامل ہوں اور آپ لوگوں کا درد سمجھتی ہوں مگر آپ کو یاد ہوگا جب گزشتہ اسمبلی نے بیسویں ترمیم کی تھی تو صوبے کے اندر ٹیکس لگانے کا اختیار....بند کریں جی یہ ترامیم کی بات.... باقی بھی تو ہیں تین صوبے ان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔مگر پنجاب کی حکومت نے آتے ہی مختلف ٹیکسز لگا کر اپنے عوام کا لہو نچوڑنے کا آغاز کر دیا ہے۔ جی ایس ٹیکس بڑھ گیا ، بینکوں میں کٹوتی بڑھ گئی بجلی مہنگی ہو گئی۔ نہ کوئی رقم جمع کرے نہ کوئی رقم نکلوائے۔اپنے اخراجات لگژری انہوں نے کم نہیں کئے اب آرام آرام سے نئی وزارتیں بنا رہے ہیں، نئے اتحادی کیا فی سبیل اللہ بن جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہر ایک کو خوش کرنے کے لئے اسے وزارت دیں گے۔ ان کو سارے پنجاب کا سروے کرانا چاہیے۔ پٹوار خانے کی مدد سے کہ کونسا بڑا گھر کب بنا تھا اور اس وقت زمین کی کیا قیمت تھی ۔ بی بی میری زمین ایک لاکھ کی آئی تھی اور سارا گھر اور ٹیکس بھی ادا کر رہا ہوں۔ اب اس بڑھاپے میں، میں دس لاکھ روپے کہاں سے لاو¿ں اور کیسے ٹیکس ادا کروں۔ ورنہ اس سفید سر کے ساتھ اپنی بے عزتی کرواو¿ں --؟اتنے میں کہیں سے چیختی چلاتی بُوا غضب آرا کمرے میں داخل ہوئی بواءغضب آرا ہمارے محلے کی بہت ہی دلچسپ اور ہر دلعزیز شخصیت ہیں یہ ہمیشہ ہر دور میں جیتنے والی پارٹی کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہیں اور علی الاعلان کہتی ہیں۔ ہمیشہ ہوا کے رخ چلنا چاہیے یہ گھر سے چلی تو پی ٹی آئی کے ساتھ تھیں واپس آئیں تو پی ایم ایل این کے ٹینٹ سے برآمد ہوئیں۔ سب پر طائرانہ نظر ڈالی ہم نے کہا بواءآج آپ اس لگژری ٹیکس کے بارے میں دیانت دارانہ رائے دیجیئے گا۔ ہاں.... ہاں سب چلا اٹھے۔ آرام سے بیٹھ گئیں اور بولیں۔ ایک کہاوت ہے کہ ایک عقلمند تھا وہ کہتا تھا میں تین لیمو سے تین گلاس سکنجیں کے بنا لوں گا لوگوں نے اسے لیمو دیئے اس نے تین گلاس بنا دیئے اتنے میں ایک اور آدمی آیا وہ بولا میں ان نچڑے ہوئے لیموو¿ں سے آپ کو پورا جگ سکنجین کا بنا دوں گا۔ انہوں نے اس کے آگے جگ رکھ دیا۔ تھوڑی دیر میں اس نے نچوڑے ہوئے لیموو¿ں کو اس طرح نچوڑا کہ واقعی جگ سنکجین کا بن گیا۔ اچھا- سب لوگوں کا منہ کھلا رہ گیا۔وہ کون تھا بھئی.... وہ آپ کا وفاقی وزیر خزانہ تھا۔!