آم چوسنے کا موسم

کالم نگار  |  سعید آسی

 لوگ بہت غصے میں ہیں۔ سنا ہے کہ پارٹی کے اندر بھی سخت اضطراب ہے، حیرانگی کے ساتھ صدمے کا اظہار بھی ہو رہا ہے۔ ”یہ کیسے ہو سکتا ہے“۔ ”یہ کیوں ہوا“۔ ”ارے یہ کیا کر دیا“ انگلیاں اٹھ رہی ہیں، زبانیں کھل رہی ہیں۔ دفاع کے لئے کوئی ڈھنگ کی دلیل نظر نہیں آ رہی۔ مگر بھائی صاحب۔ یہی ہماری سیاست کے چلن ہیں۔ یہی ہمارے سیاسی اصول ہیں اور یہی اصولوں کی سیاست ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ چور اور کھلے دروازوں سمیت تمام دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں کہ اپنی سہولت کے لئے کل کو کسی چور، ڈاکو، راہزن کو راہبر بنانا پڑے تو اس میں کسی قسم کی دقت محسوس نہ ہو۔ مگر جناب۔ سیاست کے ان زریں اصولوں کا سکہ صرف ہمارے ملک میں ہی چلتا ہے ورنہ تو جمہوریت جن ممالک کا اوڑھنا بچھونا ہے وہاں ایک ووٹ کی اکثریت سے حکومت کی ٹرم پوری کر لی جاتی ہے۔ کسی کی حکومت کو گرانے اور کسی دوسرے کی حکومت بنانے کے لئے کسی رکن اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل نہیں کرائی جاتیں۔ کسی کو خوف و تحریص سے اقتداری پلڑے میں نہیں جھونکا جاتا۔ کسی کے ناز نخرے نہیں اٹھائے جاتے۔ کسی کو چھانگا مانگا اور مری میں عیاشی کے چکمے میں مقصد کے حصول تک محبوس نہیں رکھا جاتا۔ جمہوریت کے اس ”حُسن“ کے جلوے تو بس ہماری دھرتی پر ہی نظر آتے ہیں۔ اسی لئے ہم بُری سے بُری جمہوریت کو بھی اچھی سے اچھی آمریت سے بہتر گردانتے ہیں کیونکہ اس ”جاپ“ میں گرنے والے دانے کسی فائدے اور کسی مطلب براری کی نوید بنے ہی نظر آتے ہیں۔ گذشتہ روز ”وقت نیوز“ کے لائیو پروگرام ”نیوز لاﺅنج“ میں شریک تھا تو مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم متحدہ کی سیاسی مفاداتی ہتھ جوڑی پر لائیو کالرز کا غصہ اور جذباتی ردعمل دیدنی تھا۔ یوں محسوس ہوا کہ ملک کا کوئی بھی دردمند شہری وقتی سہولتوں کی اس سیاست کو پسند نہیں کرتا۔ پھر ایسے کیسے ہو جاتا ہے کہ جن اصولوں کی پاسداری کی خاطر مسندِ اقتدار کو پاﺅں تلے روند کر عوام کے سامنے دعویٰ کیا جائے کہ ہمیں اقتدار سے محروم ہونا اور اپوزیشن میں بیٹھنا قبول ہے مگر ہم کسی آمر کی باقیات کو اپنی صفوں میں قبول نہیں کریں گے۔ اسی دعوے سے یو ٹرن لے کر اقتداری سہولت کی خاطر ان سارے نیکو کاروں کو اپنے آنگن میں سمیٹ لیا جائے جو ماضی قریب تک میں آپ کے دعوﺅں کے مطابق بدکرداروں کے زمرے میں شامل تھے۔ پروگرام کے میزبان احتشام الرحمان نے مجھے متوجہ کیا کہ اگر اس سٹیج پر حکمران مسلم لیگ ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ شامل نہ کرتی تو صدارتی انتخاب کا شاید ایک آئینی تقاضہ پورا نہ ہو پاتا کیونکہ سندھ اسمبلی بھی صدارتی انتخاب کا حلقہ¿ انتخاب ہے۔ اگر صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں ووٹ نہیں ڈالتی تو یہ حلقہ¿ انتخاب مکمل نہیں ہو سکتا اور اس طرح صدر کا الیکشن متنازعہ ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے حکمران مسلم لیگ کو اس مجبوری کی بنیاد پر ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کی کڑوی گولی نگلنا پڑی ہو۔ یقیناً یہ دلیل ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد کا جواز بنائی جا سکتی ہے۔ مگر یہ دلیل تو سہولتوں والی اقتداری سیاست کو اور بھی تقویت پہنچاتی ہے۔ اگر آپ نے اپنے دعوے کے مطابق اصولوں پر کسی قسم کی ماضی میں مفاہمت نہیں کی اور ایسی ہی کوئی مفاہمت آئندہ بھی نہ کرنے کا آپ نے عوام کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے تو پھر اصولوں کو نہیں، سہولتوں کو قربان کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ایک یہ دلیل بھی تو پورے شدو مد کے ساتھ پیش کی جاتی ہے جو حکمران مسلم لیگ کے خیر خواہ ایک محترم کالر نے بھی گذشتہ روز وقت نیوز کے لائیو پروگرام میں پیش کی کہ تھوڑا سا جمہوریت کو دم تو لینے دیں۔ اسے پاﺅں پاﺅں چلنے تو دیں۔ ابھی سے لٹھ لے کر اس کے پیچھے نہ پڑ جائیں۔ پھر آپ اس دلیل کو بنیاد بنا کر جمہوریت کو چلائے رکھنے کی کوشش کریں۔ آپ نے پچھلے پانچ سال پیپلز پارٹی کو جمہوریت کو سبوتاژ نہ ہونے دینے کے نام پر باسہولت حکمرانی کرنے دی۔ فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر کے لوٹ مار گروپ کو ”انھّی“ مچانے کا پورا موقع فراہم کیا تو آج جمہوریت کو چلنے دینے کے اس چکمے کے تحت آپ کی پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتداری سہولت بن سکتی ہے۔ آپ کوشش کرتے اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی متفقہ امیدوار پر متفق ہو جاتے۔ ان سے رضا ربانی کی قربانی دلوا دیتے یا اپنے ممنون کو قربان کر دیتے۔ اس طرح پیپلز پارٹی کی جانب سے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کی نوبت نہ آتی اور آج صدارتی حلقہ انتخاب مکمل نہ ہونے کے جس خدشے نے آپ کو ایم کیو ایم کا حلیف بننے پر مجبور کیا ہے۔ اس کی شاید نوبت ہی نہ آتی۔ بھئی آپ ماضی قریب میں کیمرے کی آنکھوں سے دکھائے گئے مناظر میں اپنی باہمی چھینا جھپٹیوں کو قوم کی نظروں سے کیسے اوجھل کر سکتے ہیں اور اس سارے معاملے میں پرنٹ میڈیا کے صفحات تو تاریخ کے ریکارڈ پر شامل ہیں۔ یہ تاریخ مسخ کرنے کے لئے بھی صدیاں درکار ہوں گی جبکہ یہ سارے معاملات تو ابھی قوم کے ذہنوں میں بھی تر و تازہ ہیں۔ تو جناب چلیں  میں تو شکوہ لب پہ لاتا ہی نہیںاور کس کس کی زباں روکو گے تم؟ان سارے معاملات کا تقاضہ تو یہی ہے کہ آپ اپنے بتائے گئے زریں سیاسی اصولوں پر کاربند رہتے۔ چنگیز خاں اور ہلاکو خاں کو شہید کہلانے کا موقع فراہم نہ کرتے اور قوم میں سرخرو ہو جاتے۔ مگر بھائی صاحب۔ آپ کو تو جمہوریت کو پاﺅں پاﺅں چلانا ہے۔ سو راہزن بھی آپ کا دم بھرتے، ساتھ چلتے ماضی والی آمرانہ اقتداری سہولتوں کا اب آپ کے پلّو سے بندھ کر تسلسل برقرار رکھیں گے تو کیا مضائقہ ہے۔ پھر سابقین میں کون سے کیڑے پڑے ہوئے تھے۔ آپ آئینی ماہرین سے مشاورت کر کے صدارتی حلقہ¿ انتخاب کے بارے میں حقیقی پوزیشن تو معلوم کر لیتے۔ اگر پیپلز پارٹی کے بائیکاٹ سے سندھ اسمبلی کا حلقہ انتخاب مکمل نہیں ہوتا تو وہ آپ کے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد سے بھی مکمل نہیں ہو گا کیونکہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی سنگل میجارٹی پارٹی ہے۔ اس کے ووٹ باہر نکلنے سے سندھ اسمبلی ادھوری ہی رہے گی کیونکہ ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر آپ سندھ اسمبلی میں اکثریت میں تو نہیں آ گئے جبکہ ایم کیو ایم سے اتحاد کے باعث آپ کو سندھ اسمبلی میں فنکشنل لیگ کا جھٹکا بھی لگ گیا ہے۔ سو جناب آپ کے اس اتحاد سے سندھ اسمبلی میں صدارتی حلقہ¿ انتخاب کی پوزیشن تبدیل نہیں ہو جائے گی کیونکہ اس حلقہ¿ انتخاب کا سنگل میجارٹی پارٹی کے فیصلہ پر ہی دارو مدار ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ آپ اپنے صدر کے امیدوار پر انہیں قائل کر لیتے یا ان کا امیدوار اڈاپٹ کر لیتے۔ اس سے فرینڈلی سیاست کی چھاپ لگتی مگر کم از کم آپ کا اصولوں کی سیاست کا بھرم تو برقرار رہتا۔ مگر ہماری جمہوریت میں تو اقتداری سہولت ہی بہترین اصول ہے۔ عوام ایسے ہی جھنجٹ میں پڑے رہتے ہیں کہ اچھے بُرے میں کیسے تمیز کریں۔ آپ نے جمہوریت کے میٹھے پھل کھانے ہیں تو جناب آم چوسیں۔ گٹھلیاں نہ گنیں۔ یہ آم چوسنے کا ہی موسم ہے۔