وزیرِاعظم کا گرِیبان پکڑنے کی خواہِش ؟

کالم نگار  |  اثر چوہان
وزیرِاعظم کا گرِیبان پکڑنے کی خواہِش ؟

علّامہ اقبالؒ نے اپنے دَور میں کہا تھا  ؎
’’یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں؟
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری‘‘
بابا بُلّھے شاہ قصوری القادریؔ نے اپنے دَور میں کہا تھا کہ  ؎
’’چُپ کر دڑ وَٹّ جا نہ عِشق دا کھول خلاصا
پگڑی لتّھ جاوُ گی سارے جگّ دا ہو جاوُ ہاسا‘‘
پاک بھارت جنگ کے بعد 10 جنوری 1966ء کو سوویت یونین کے وزیرِاعظم الیکسی کو سِیجن نے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیرِاعظم لال بہادر شاستری کو طلب کِیا اور ’’اعلانِ تاشقند‘‘ پر دستخط کرا لئے۔ پاکستان میں ’’اعلانِ تاشقند‘‘ کے خلاف مظاہروں کا سِلسلہ شروع ہو گیا تو صدر ایواب خان کے حُکم سے پورے مُلک میں اپوزیشن لیڈروں اور کارکنوں کی گرفتاریاں زور پکڑ گئیں۔ اِس پر عوامی شاعر حبیب جالبؔ نے کہا تھا کہ  ؎
’’اعلانِ تاشقند کئے جا رہا ہُوں مَیں
جو بولتا ہے بند کئے جا رہا ہُوں مَیں‘‘
سابق صدر آصف علی زرداری کے پانچ سالہ دَور سے لَے کر میاں نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کے تقریباً دس ماہ کے دَوران اپوزیشن رہنمائوں اور کارکنوں کے بولنے پر کوئی پابندی نہیں رہی اور نہ ہی ہے۔ ہر شخص کو کم از کم بولنے کی حد تک اتنی آزادی ہے کہ وہ کہہ سکتا ہے کہ ’’مَیں ایک آزاد مُلک میں رہ رہا ہُوں۔‘‘ سیاست میں بولنا، ہر وقت بولنا اور بولتے رہنا بے حد ضروری ہوتا ہے اور جِس دِن کوئی سیاستدان (جِن میں سیاسی/ مذہبی قائدین بھی شامل ہیں) نہ بولے تو اُس کے مخالف اُسے بول کر یا لکِھ کر پیغام بھجواتے ہیں کہ ’’کیا تمہاری بولتی بند ہو گئی ہے؟‘‘ بعض لوگ بے تُکا بولتے ہیں۔ پرانے زمانے میں بھی یہی رواج تھا جب اُستاد رشکؔ نے اپنے کسی حرِیف شاعر پر پھبتی کستے ہُوئے کہا تھا کہ  ؎
’’باتیں وہ کر رہا ہے کہ سارنگیوں کے بول؟
نہ ساز میں صدا ہے نہ یہ لُطف راگ ہیں‘‘
شاعروں کو ساز، صدا اور راگ کے لُطف کا علِم ہوتا ہے لیکن سیاستدانوں کو نہیں۔ بعض اوقات شاعر سیاستدان بھی بولتے وقت اِن مُبادِیات کا خیال نہیں رکھتے۔ محبت اور سیاست میں یہی فرق ہے۔ ایک خاتون نے اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا  ؎
’’بھانویں بول تے بھانویں نہ بول!
وے چنّاں وس اکھِّیاں دے کول!‘‘
خاتون نے اپنے محبوب پر ضرورت سے زیادہ بولنے کا الزام نہیں لگایا تھا بلکہ وہ تو اُس سے گِلہ کر رہی تھی کہ ’’تم نے مجھ سے بول چال بند کر دی ہے، کوئی بات نہیں۔‘‘ لیکن مجھ سے رُوٹھ کر کہیں دوسری جگہ نہ جائو بلکہ میری آنکھوں کے سامنے میرے پاس رہو۔‘‘ سیاستدانوں میں رقابت کا جذبہ بہت ہوتا ہے اور فوجی حکمران اور سیاستدان تو ایک دوسرے کی جان کے دُشمن ہوتے ہیں۔ سوائے اُن سیاستدانوں کے جو فوجی حکمرانوں کے درباری بن جاتے ہیں۔ ہر فوجی آمر کو بُرا بھلا کہنا ایک روایت سی بن گئی ہے لیکن اکثر سیاستدان (مذہبی قائدین بھی) فوجی آمروں کے ہی پروردہ ہیں۔ جو نہیں ہیں اُن کی اندر سے ساز باز ہُوتی ہے۔ اِس نُسخے پر عمل کر کے ہمارے بہت سے سیاستدانوں اور مذہبی رہنمائوں نے بھی سیاسی میدان میں جھنڈے گاڑے جب تک اُن جھنڈوں کو مخالفوں نے اُکھاڑ نہیں دِیا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو، کے قتل کے بعد۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہمدردی کے ووٹ مِلے تھے۔ نان گریجویٹ آصف علی زرداری کا صدرِ پاکستان  منتخب ہونا بھی ’’اخلاقی سیاست‘‘ کا کمال تھا اور پورے پروٹوکول کے ساتھ جنرل (ر) پرویز مُشرّف کی رخصتی بھی باعزّت رخصت ہونے کے بعد موصوف کی وطن واپسی ایک ایسی حماقت ہے جِس کا خمیازہ ریٹائرڈ اور اِن سروس سینئر اور جونیئر فوجی بُھگت رہے ہیں۔ بونے سیاستدان (اور مذہبی رہنما بھی خاص طور پر طالبان نواز) ایڑیاں اُٹھا اُٹھا کر فوج کو چیلنج کر رہے ہیں۔ مَیں پہلے بھی لکِھ چُکا ہُوں کہ ’’تاریخ میں کسی بادشاہ یا جرنیل کو اُس وقت پھانسی دی گئی جب حکومت انقلابی تھی یا مُلک میں طوائف اُلملوکی۔ پاکستان میں اِس وقت انقلابی حکومت نہیں ہے اور نہ ہی طوائف اُلملوکی۔ یہ الگ بات کہ بیک وقت پاک فوج اور وزیرِاعظم نواز شریف کے مخالفین مُلک میں طوائف اُلملوکی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالات کو خراب کرنے میں مسلم لیگ ن کے بعض وزراء بھی ہر وقت بلکہ وقت بے وقت ضرورت سے زیادہ بول کر وزیرِاعظم کے لئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
یہ بات صحیح نہیں ہے کہ ’’طالبان سے نمِٹنے کے لئے حکومت اور فوج ایک صفحے (Page) پر نہیںہیں۔‘‘ جِن ظالموں نے پاک فوج کے 8 ہزار افسروں اور جوانوں سمیت50 ہزار اور بے گُناہ قیدیوں کو قتل کِیا اور ہمارے فوجیوں کے سر قلم کر کے اُن سے فُٹ بال میچ کھیلے اُن کے ہم نوائوں کو ابھی تو یہ حساب بھی دینا ہو گا کہ جولائی2007 ء میں اسلام آباد کی لال مسجد کے سرکاری ملازموں کی حیثیت سے خطیب مولانا عبدالعزیز اور نائب خطیب غازی عبدالرشید کی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کو فرو کرنے میں پاک فوج کے جو افسران اور جوان جاں بحق ہُوئے تھے اُن کے بارے میں مولانا سمیع اُلحق، مولانا فضل اُلرحمن، قاضی حسین احمد (مرحوم) اور مولانا عبدالغفور حیدری نے تو فتویٰ دے دِیا تھا کہ ’’امریکی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے جو فوجی افسران مارے گئے تھے انہیں ’’شہید‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔‘‘
ابھی تو یہ بھی فیصلہ ہونا ہے کہ ’’امارت کے انتخاب میں شکست کھانے والے امیر جماعتِ اسلامی سیّد منور حسن نے بھی  ’’پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو ’’شہید‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہُوئے ہلاکت مآب حکیم اُللہ محسود کو ’’شہید‘‘ اور عالمِ اسلام کے لئے مسائل پیدا کرنے والے اُسامہ بن لادِن کو ’’سیّد اُلشہدا‘‘ کے مقام پر فائز کر کے خود اپنے ہی جدِّ امجد حضرت امام حسینؓ کی توہین کی ہے اور اب طالبان کمیٹی کے رُکن جماعتِ اسلامی صوبہ سرحد کے رہنما پروفیسر محمد ابراہیم نے تو حد کر دی جب کہا کہ ’’جنرل (ر) پرویز مُشرّف مُلک سے باہر گئے تو ہم وزیراعظم نواز شریف کا گریبان پکڑیں گے۔‘‘ ابراہیم صاحب کِس قسم کے ’’پروفیسر‘‘ ہیں؟ کیا زبان و بیان ہے؟
’’تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟‘‘
پنجابی میں کہتے ہیں ’’رکھّ پتّ، رکھا پتّ‘‘ یعنی عزّت کرو اور عزّت کرائو۔ پشتو/ پختو زبان میں بھی اِس طرح کی کوئی ضربِ اُلمثِل ضرور ہو گی۔شاعر نے پروفیسر ابراہیم قسم کے شخص کے بارے میں ہی کہا ہو گا کہ  ؎
’’اے شیخ! گفتگو تو شرِیفانہ چاہیے‘‘