السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔۔۔!

             السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔۔۔!

جدہ ہوائی اڈے پر’’ خواری‘‘ کے علاوہ باقی تمام معاملات احسن طریقے سے انجام پائے۔اللہ کے مہمانوں کے ساتھ جو سلوک جدہ ہوائی اڈے پر روا رکھا جاتا ہے اس کی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی۔امریکہ اور دیگر ممالک سے تھکے ماندے مسافر وں کوحالت احرام میں جدہ ہوائی اڈے پر قدم رنجا فرماتے ہی دنیا کی سست ترین قوم کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔ہزاروں مسافروں کو دو سعودی نوجوان ڈیل کر رہے تھے اور وہ انوکھے لاڈلے بھی کبھی ادھر ٹہل رہے تھے اور کبھی ادھر گپ لگا رہے تھے جبکہ مسافروں کے ہجوم میں پھنسے ہوئے بچے بلک بلک کر رو رہے تھے،خواتین بے ہوش ہو رہی تھیں اور ایک بوڑھا پیاس اور گھٹن سے زمین پر گر پڑا ۔اس قیامت خیز منظر کے دوران نہ سکیورٹی دکھائی دی اور نہ ان دو اکلوتے سعودی نوجوانوں نے آنکھ اٹھا کر مسافروں کی حالت زار کا جائزہ لینا مناسب سمجھا۔اصولی طور پر خواتین اور بچوں کے لئے الگ قطار ہونی چاہئے ۔تمام کائونٹر خالی تھے اور جو دو لڑکے امیگریشن مراحل نبٹانے پر مامور تھے ان کی کاہلی اور بے اعتنائی انتہائی افسوسناک تھی۔جدہ ایئر پورٹ پر صرف حج عمرہ والوںکے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے وگرنہ دیگر ٹرمینل کے حالات بہتر ہیں ۔اسی جدہ ایئر پورٹ  پرغیر مسلم باشندے روز آتے جاتے ہیں ،نہ جانے زائرین کے ساتھ کیا دشمنی ہے کہ انہیں انسان بھی نہیں سمجھا جائے۔
امریکہ سے جدہ بیس گھنٹے کی مسافت کے بعد مزید چارگھنٹے کی دھکم پیل کے بعد سعودی امیگریشن سے خلاصی ہوئی تو باہر کھڑے سکیورٹی نوجوانوں  نے پاسپورٹ طلب کر لیا۔یعنی مسافر غریب آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے ۔ امیگریشن اور سکیورٹی کے مراحل اگر سست روی کا شکار نہ ہوں اور سعودی کارندے خوش دلی اور خوش اخلاقی کے ساتھ مسافروں کو ڈیل کریں تو اللہ کی رضا کے علاوہ سعودعی انتظامیہ کا امیج بھی دنیا میں بہتر ہو گا مگر صورتحال بر عکس ہے ۔ہجوم میں بچوں کی حالت دیکھ کر ایک باپ سعودی پر سیخ پا ہوگیا، اس کی داد رسی  کی بجائے اسے ’’اندر‘‘ کرنے کی دھمکی دے دی گئی۔یہ وہ سعودی رویہ ہے جس پر احتجاج بھی نہیں کیا جا سکتا البتہ دوران طواف پروردگار سے التجاء ضرور کی تھی کہ اللہ اس قوم کو حضور ؐ کے اخلاق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔جدہ سے واپسی پر ابو ظہبی ایئرپورٹ کا نظام دیکھ کر لگا کسی مغربی ہوئی اڈے پر اتر آئے ہیں۔بورڈنگ کے لئے سب سے پہلے بچوں والی فیملیز کو کال کی گئی۔سعودی عرب کے مسلمان پڑوسی ممالک کے ہوئی اڈوں پر پوری دنیا کے مسافروں کو بہترین طریقے سے ڈیل کیا جاتا ہے مگر اسلامی ملک کے جدہ ایئر پورٹ پر قدم رکھتے ہی اللہ کے مہمانوں کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔حج و عمرہ زائرین کی شکایات سے قطع نظر سعودیوں کو اعتماد ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جیسا بھی سلوک کیا جائے ، اللہ کے گھر آنے سے باز نہیں آئیں گے ۔حج عمرہ بزنس میں روز بروز اضافہ ہو رہاہے اورسعودی بھی قدرے ’’ماڈریٹ ‘‘ ہو گئے ہیں۔دو سال قبل تک مسجد نبوی ؐ کے داخلی دروازوں پر خواتین کے پرسوں کی سخت چیکنگ کی جاتی تھی اور کیمرے والے فون لے جانے کی سخت ممانعت تھی مگراب ریاض الجنہ میں دوران حاضری خواتین ویڈیو بنارہی ہیں اورکوئی  منع کرنے والا نہیں۔ البتہ دو نوں حرم کے باہر سائن بورڈوںپر تصاویر لینے سے منع کیا گیا ہے۔لوگ دوران طواف اپنی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیںاور مرد حضرات روضہ رسول ؐ کی جالی مبارک کے اندر کی ویڈیو بنانے سے بھی نہیں گھبراتے ۔خواتین کو ریاض الجنہ کے صرف ایک ستون تک جانے کی اجازت ہے لہذا وہ اس ستون تک پہنچنے کی جدوجہد میں ہلکان ہو جاتی ہیں اور جب وہ قیمتی موقع میسر آجائے تو مقام  کو مستقل قبضہ سمجھنے لگتی ہیں ۔کئی ایرانی خواتین اپنے موبائل فون کھول کر اپنے عزیز وں کا سلام حضور ؐ کے دربار میں پہنچا رہی ہوتی ہیں اور اس عرض و سلام میں دوسری خواتین کو نوافل ادا کرنے کا موقع نہیں دیتیں۔حرم شریف میں میسر کرسیوں کی سہولت کا بھی ناجائزاستعمال ہونے لگا ہے۔ریاض الجنہ میںکرسی ڈال کربیٹھ جاتی ہیں اور جب تک ان کے گروپ کی تمام خواتین نوافل ادا نہ کر لیں کسی دوسری خاتون کو آگے بڑھنے نہیں دیتیں۔ترکی اور انڈونیشیا کے لوگ مہذب اور خوش اخلاق ہیں۔ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ان کے گروپ میں کہیں دبک کر بیٹھ جائیں۔پاکستان سے آئی ہوئی سادہ لوح دیہاتی خواتین کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے توان کے غیر منظم حالات سن کر دلی صدمہ پہنچتا ہے۔اسّی ہزار سے سوا لاکھ کا پیکج لے کرآنے والی یہ خواتین ارکان عمرہ و زیارت اورمسجد نبوی ؐ کی معلومات سے لا علم ہیں۔سعودی عملہ اردو میں معلومات فراہم کرنا چاہتا ہے مگر ان لوگوں پر سعوی مسلک غالب ہے ۔سبز گنبد  ؐ کے سامنے بیٹھے لوگوں کو اٹھا دیا جاتا ہے کہ گنبد ؐ دیکھنا ہے تو اپنے ملک میں جا کر دیکھو،وہاں بہت گنبد ہیں،یہاں صرف نماز پڑھنے کے لئے آئو۔ ایک پاکستانی خاتون کو یہ کہہ کرگنبد کے سامنے سے اٹھا دیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اٹھی اور دھیمی آواز سے بولی ’’اگر صرف نماز پڑھنا مقصد ہوتا تو میرے لئے گھر کے بھی پچھلے کمرے میں نماز ادا کرنا پسند فرمایا گیا ہے، نماز کے لئے اتنا تردد کر کے ہزاروں میل دور آنے کی ضرورت نہ تھی میں تو یہاں نماز والے کے گھر کی زیارت کرنے آئی ہوں۔اس ہستی کا ر وبرو شکریہ ادا کرنے آئی ہوں جن کی وجہ سے مجھے ظالم مرد کے ہاتھوں زندہ دفن ہونے سے بچا لیا گیا۔ (سعودیہ سے معذرت کیساتھ۔ ادارہ)