سینٹ میں صرف 14 ارکان حاضر‘ کسی نے کورم کی نشاندہی نہیں کی

سینٹ میں صرف 14 ارکان حاضر‘ کسی نے کورم کی نشاندہی نہیں کی

جمعہ کو سینیٹ کا اجلا س مجموعی طور پر تین گھنٹے تک جاری رہا چیئرمین میاں رضا ربانی نے پورے اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں ارکان کی حاضری مایوس کن رہی جب اجلاس شروع ہوا تو ارکان کی تعدا د12تھی جب کہ اجلاس کے اختتام پر یہ تعداد14ہو گئی کسی رکن نے کورم ٹوٹنے کی نشاندہی نہیں کی سینیٹ کے اجلاس میں وزراء کی غیر حاضری معمول بن گیا ہے آئے روز چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی غیر حاضر وزراء کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں لیکن اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی وہ کئی بار غیر حاضروزراء کے ایوان میں داخلے پر پابندی کی دھمکیاں دے چکے ہیں لیکن وزراء بھی ان کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے جمعہ کو چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے وزیر پارلیمانی امور اور وزیر مملکت برائے کیڈ کی اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے غلط بیانی کا نوٹس لے لیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ’’ توانائی، مذہبی امور اور ہاوسنگ کے وزرا ء کہاں ہیں؟‘‘۔ انہوں نے کہا وزیروں اور مشیروں کی اتنی بڑی فوج ہے مگر ایوان میں نہیں آتے، اگر وزرا ایوان میں نہیں آ سکتے تو پھر مستعفی ہوجائیں، وزیراعظم ایوان میں آ کر جواب دے سکتے ہیں تو وزرا کیوں نہیں آتے ؟۔چیئرمین سینٹ نے کہا کہ وزیر برائے کیڈ سے متعلق کہا گیا کہ انکی طبیعت خراب ہے، ایوان میں نہیں آ سکتے، جس کی وجہ کے باعث وزارت برائے کیڈ سے متعلق کئے سوالات موخر کرنے پڑے، اپنے چیمبر میں جا کر ٹی وی پر دیکھا تو اسی وزیر کی بریکنگ نیوز چل رہی تھی، بتایا جاتا ہے وزیر کی طبیعت خراب ہے اور وہی وزیر کہیں جلسے سے خطاب کر رہا ہوتا ہے۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ وزیر توانائی کراچی میں کیا کر رہے ہیں؟، یہاں کوئی راج واڑا چل رہا ہے؟، کوئی کراچی ہے تو کوئی بنوں میں؟ وزرا کا یہ رویہ قابل برداشت نہیں۔ پھر میاں رضا ربانی نے کہہ دیا کہ’’ وزرا اور سیکرٹریز تک پیغام پہنچا دیا جائے اگر رویہ یہی رہا تواحکامات جاری کر کے سینیٹ کے قاعدہ 11کے تحت وزرا کے ایوان میں آنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ قاعدہ کے تحت آئندہ ہفتے سے وہ متعلقہ وزراء کے داخلے پر پابندی کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔ پاکستان ،آزاد جموں کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر قبضے کے خلاف یوم سیا ہ منایا گیا پوری دنیا میں جلسے جلوس منعقد ہوئے اس سلسلے میں سینیٹ میں بھارت کے خلاف یوم سیاہ کے حوالے سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اجلاس کی کارروائی کے دوران سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد پیش کی۔ قرار داد میں واضح کیا گیا ہے کہ کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی، سفارتی امداد کو جاری رکھا جائے گا جبکہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ ہمیں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھول جانا چاہئے کیونکہ اقوام متحدہ نے مسلمانوں سے متعلق کبھی کسی تنازعے کو حل نہیں کیا۔ بھارت کو خطے میں تھانیدار نہیں بننے دینگے۔ امریکہ اور بھارت مل کر خطے کو غیرمستحکم کر رہے ہیں۔۔ اپوزیشن اراکین سینیٹ نے اپنی تقاریر کے دوران بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات ہیں اقوام متحدہ نے کبھی بھی مسلمانوں سے متعلق کسی مسئلہ کے حل پر توجہ نہیں دی۔اجلاس میں وزیر مملکت کیڈ کے نہ ہونے پر اسلام آباد کے برما پل کے انہدام اور دوبارہ تعمیر نہ ہونے سے متعلق توجہ مبذول کرانے کا نوٹس بھی موخر ہو گیا۔ سینیٹ میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو اس مسئلے پر پیر کو سینیٹ میں طلب کر لیا ہے ۔ ارکان سینیٹ نے لاپتہ افراد کے مسئلے کے مستقل حل کے لئے قانون سازی نہ ہونے پر حکومتی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا ہے کہ پہلے اپنے شہریوں کو اٹھایا جاتا رہا اب دوسرے ممالک کے شہریوں کو اٹھانے کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیر داخلہ سے جواب مانگ لیا۔ جمعہ کو اجلاس کی کارروائی کے دوران نکتہ اعتراض پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سی آئی اے کا بھی اعترافی بیان سامنے آیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف انہیں پاکستانیوں کو بیچتے رہے۔ سابق آمر نے ڈالرز لینے کا اعتراف اپنی کتاب میں بھی کیا۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ہدایت کی کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ کے سپرد کر دیا جائے اور پیر کو وزیر داخلہ سینیٹ میں آ کر اس کا جواب دیں۔ اجلاس میں سینیٹر حافظ حمد اللہ کی درخواست پر بلوچستان کے قلعہ پشین میں اے این پی کے قافلے پر ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق افراد کے لئے دعا کی گئی چیئرمین سینیٹ نے سندھ میں ایدھی مراکز پر قبضوں کی اطلاعات کا بھی نوٹس لے لیا ہے۔ یہ معاملہ بھی سینیٹر حافظ حمد اللہ نے اٹھایا اور کہا کہ فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ نے بتایا ہے کہ سندھ کے علاقوں میں ایدھی مراکز پر قبضے کئے جا رہے ہیں۔ قبضہ مافیا یہ مرکز بند کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان کو درپیش عالمی اقتصادی چیلنجز بشمول غیرملکی قرضوں میں اضافے اور ترسیلات زر میں کمی کی تحریک التواء کو سینٹ میں بحث کے لئے منظور کر لیا گیا جبکہ وزیر خواجہ محمد آصف کے امریکہ میں پاکستان کیلئے ڈومور کے متنازعہ بیان سے متعلق تحریک محرک کے نہ ہونے پر ڈراپ کر دی گئی۔ سینٹ میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کے امریکہ میں دیئے گئے بیان سے متعلق تحریک التواء کی منظوری کا معاملہ نمٹا دیا گیا جبکہ ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے سینیٹر اعظم سواتی کی تحریک التواء بحث کے لئے منظور کر لی گئی۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو خطے میں پولیس مین تسلیم نہیں کرے گا، اقوام متحدہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا ہے، اس کی قراردادوں پر انحصار کرنا اب چھوڑ دینا چاہیے۔ جمعہ کو چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا ہے، بھارت کو پاکستان کبھی بھی پولیس مین تسلیم نہیں کرے گا، چئیرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے پاک ترک سکولوں کے اساتذہ کی ملک بدری اور ان کو لاپتہ کرنے کے معاملے پر پیر کو وزارت وزیر داخلہ کو ایوان میں پالیسی بیان دینے کے لئے طلب کر لیا ہے اور کہا ہے کہ ٹھٹھہ میں ایدھی فائونڈیشن کے دفاتر پر قبضہ کا معاملہ وزیر اعلیٰ سندھ کے ساتھ اٹھائوں گا،سینٹ امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے پیر اور منگل کو بحث ہو گی جبکہ ۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کے نکتہ اعتراض پر چئیرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے پاک ترک سکولوں کے اساتذہ کی ملک بدری اور ان کو الاپتہ کرنے کا معاملہ وزارت داخلہ کے سپرد کرتے ہوئے پیر کو وزیر داخلہ کو ایوان میں پالیسی بیان دینے کے لئے طلب کر لیا ۔