بہت دھوکے کھا لئے

بہت دھوکے کھا لئے

آج پھر وہی تصویر شائع ہوئی ہے جس کو دیکھ کر روحانی جذبہ جوش مارا کرتا ہے۔ میاں نواز شریف آج پھر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے سلام پیش کر رہے ہیں۔ ایسی تصاویر مجھ احمق کو بھی جذباتی کر دیتی ہیں۔ حرمین شریفین کا نام سنتے ہی دل نرم اور روح پُرجوش ہو جاتی ہے پھر اس بندے کے عیب اور کمزوریاں سب دھندلا جاتی ہیں۔ میں نے جس وقت کالم نگاری کا آغاز کیا اس وقت نوازشریف سعودی عرب جلا وطن تھے۔کالم نگاری نے مجھے ملکی سیاست کے اس قدر قریب کر دیا کہ پاکستان میں بسنے والوں سے زیادہ باخبر ہوتی ہوں۔ نواز شریف کا موجودہ دور حکومت میری کالم نگاری کے بعد پہلا تجربہ و مشاہدہ ہے۔ پرویز مشرف اور زرداری کے ادوار کے خلاف زہر اگلتے چودہ برس بیت گئے۔ ادھر شریف خاندان سے مسجد نبوی صلی اللہ وسلم میں پہلی ملاقات نے روحانی و جذباتی طور پر قربت پیدا کر دی لیکن جب روضہ رسول پر حاضریاں دینے والے نواز شریف تیسری مرتبہ اقتدار میں آئے تو ہر محب وطن کی طرح میرا دل بھی ملک میں مساوی شفاف نظام دیکھنے کا متمنی تھا۔ حکومت کی مسلسل حمایت اور حوصلہ افزائی کرتی رہی۔ جمہوریت کی مروت میں کمزوریوں کو بھی نظر انداز کرنا پڑا۔ لیکن پاکستان کے کرپٹ اور غیرمنصفانہ نظام میں تبدیلی تو درکنار مزید بد عنوانی دیکھنے کو ملی۔ وہی بوسیدہ سفارشی راشی بد عنوان نظام ان ساڑھے چار سالوں میں اگر کچھ مثبت دیکھنے سننے کو ملا تو وہ لاہور کی ظاہری حالت ہے۔ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے، ورنہ وفاق کا تو بیڑا ہی غرق ہے۔ صرف تعلیم کو ہی لے لیں تو ہے کوئی پوچھ سکے کہ امریکہ کی سابقہ خاتون اوّل مشعل اوباما نے پاکستان میں طالبات کی تعلیم کے لئے ستر ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا ، وہ رقم کہاں اور کب خرچ ہوئی ؟ یہ صرف ایک سوال ہے جبکہ ساڑھے چار سالوں میں وہی بد عنوانی بے انصافی رائج ہے۔ ملک کا کوئی شعبہ اور محکمہ ایسا نہیں جہاں ایک عام شریف شہری اپنا سیدھا کام بھی بغیر سفارش اور رشوت کے آسانی سے کراسکے۔ پاکستان میں ایک عام شہری کی زندگی بہت مشکل ہو چکی ہے۔ ان حکمرانوں کے وعدوں کا تمام فیض ان کے حواریوں کو ملتا ہے لیکن ان کے دعووں کا ثمر نیچے ایک عام شہری تک کیوں نہیں پہنچ پاتا آج کی تصویر میں بھی مفت کے عمرے انجوائے کرنے والے وہی حواری ہاتھ باندھے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ قلم خوشامد سے نفرت کرتا ہے۔ حقائق لکھنے پر مجبور ہوا تو اسے میرا مسلم لیگ ن سے مخالفت کا رنگ دیا گیا۔ حکمرانوں کی حرمین شریفین کی حاضریاں اب مزید متاثر نہیں کرتیں۔ ملک ہے تو سب ہیں۔ منصف مساوی نظام انصاف ہو گا تو ملک ہو گا ورنہ امیر غریب میں فاصلے جس تیزی کے ساتھ پیدا کئے جا رہے ہیں نفرتیں اور انتقام اس ملک کو لہو لہان کر دیں گے۔ ان سیاستدانوں اور ان کے حواریوں کا کچھ نہیں جائے گا۔ انہوں نے باہر پکے بندوبست کر رکھے ہیں۔ مارا تو غریب عام شہری جائے گا۔ حواری بری خبریں دینا بند کریں۔“
پاکستان سنگین خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ اگلے تین سال بہت اہم ہیں“ احسن اقبال۔۔۔۔ کوئی نیا ڈراوا دیا ہوتا کوئی نئی بات کی ہوتی۔ جب سے پیدا ہوئے ہیں یہی مجہول جملہ سنتے آ رہے ہیں کہ ملک سنگین خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ جو حکومت آئی اس کا پہلا بیان“ قومی خزانہ خالی ہے پچھلی حکومت نے کرپشن کی انتہا کر دی۔۔۔۔۔ اور جب حکومت ناکام ہو گئی تو اس کا آخری بیان “ملک کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔۔۔۔ ہوتا ہے۔ اگلی باری لینے کا طریقہ واردات اب پرانا ہو چکا کہ ہم نہ ہوئے تو ملک دشمنوں کے نرغے میں چلا جائے گا۔۔۔ قومی خزانہ خالی ہے، قرض اتارو ملک سنوارو۔۔۔ جیسے جذباتی نعروں سے عوام کو لوٹا جاتا رہا۔ احتساب کی آڑ میں محترم اداروں کو بھی کرپٹ بنایا جاتا ہے۔ نہ قومی خزانہ بھر سکا، نہ مِلک قرض سے آزاد ہو سکا، نہ ملک سے خطرات کے سنگین بادل چھٹ سکے۔ کسی نے عوام کے مذہبی جذبات کیش کرائے اور کسی نے روٹی کپڑا مکان سے بے وقوف بنایا اور کوئی آیا تو اس نے ملک کو چین اور یورپ بنانے کے خواب دکھائے۔ ہر بار عوام کی آنکھ کھلی تو خود کو پہلے سے بھی دس قدم پیچھے پایا۔ ملک کو پہلے سے بھی زیادہ مقروض پایا۔ پہلے سے بھی زیادہ غیر محفوظ پایا لیکن ایک تبدیلی ہر بار ضرور دکھائی دی کہ جو آیا وہ پہلے سے زیادہ “رج “کے گیا۔ زیادہ حالات خراب کر کے گیا۔ پہلے سے زیادہ بے وقوف بنا کر گیا۔ پہلے سے زیادہ مسائل دے گیا۔ اب کسی کے وعدے کوئی دعوے، مذہبی رنگ، لبرل ڈھنگ کچھ بھی بے وقوف نہیں بنا سکتا۔ بہت دھکے اور دھوکے کھا لئے اس ملک نے جمہوریت و آمریت میں تمیز مٹ چکی ہے۔ جو آیا جمہوری آمر ثابت ہوا۔ ون مین شو۔ باقی کاسہ لیس اکٹھے ہوئے ہیں۔ خوشامد اور جھوٹی تعریفوں کے پل باندھ کر مفاد لینے والے حاشیہ بردار۔ کوئی تو آئے جو پاکستان کو شفاف منصف مساوی آسان نظام دے
جائے۔ باہر کی دنیا کی طرح پاکستان کا عام شہری بھی آسان زندگی گزار سکے۔ پانی بجلی کے بلوں سے لے کر ملازمت ترقی تبادلے تک اس کے کام روٹین کے ساتھ ہو سکیں۔ بغیر کسی سفارش رشوت بد عنوانی کے میرٹ پر، وقت پر، بڑے بڑے منصوبوں کی ترقی کا فیض نیچے کب پہنچے گا جناب ؟
٭٭٭٭٭