’’وائی، زیڈ‘‘ چھا گئے

کالم نگار  |  حافظ محمد عمران
’’وائی، زیڈ‘‘ چھا گئے

آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں کامیابی نے پاکستان کے شائقین کرکٹ کو حوصلہ دیا ہے۔ کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ فتح نے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کمزور نہیں ہے۔ کامیابی پر کھلاڑیوں کی تعریف جاری ہے۔ آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں بھی قومی کھلاڑیوں نے اپنی پوزیشن بہتر بنائی ہے۔ آسٹریلیا کو پاکستان اے ٹیم نے پریکٹس میچ میں بھی ہرایا تھا۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں کامیابی میں یونس خان کی دوہری سینچری نے سب سے بڑا کام کیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ میں دوہری ذمہ داریاں نبھانے والوں سے خاصے متاثر ہیں۔ سابق کپتان کے پاس کرکٹ بورڈ میں کوئی دوہرا کردار تو نہیں لیکن وہ دونوں اننگز میں سینچری کرکے ’’دوہری‘‘ ذمہ داریاں نبھانے والوں کی صف میں شامل ہو گئے۔ یوں انہوں نے اپنی اس کارکردگی سے کرکٹ بورڈ میں دو دو عہدوں پر خدمات انجام دینے والے اپنے مخالفین کو دونوں اننگز میں سینچری سکور کرکے خوب تحفہ دیا ہے۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹیم نے انفرادی و اجتماعی سطح پر عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ سب سے اہم بات کھلاڑیوں کا منصوبہ بندی کے مطابق کھیلنا ہے۔ کھیل کے تمام شعبوں میں ٹیم باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کھیلتی نظر آئی۔ یوں اس اجتماعی کوشش میں انفرادی خامیاں چھپ گئیں۔ مصباح الحق رنز کرنے کے بعد دبائو سے نکلے۔ انہوں نے ٹیم کو بہترین انداز میں لڑایا اور نتائج بھی حاصل کئے۔ کپتان کے بروقت اور بہتر فیصلے بھی ٹیم کی کامیابی کی بڑی وجہ ہیں۔ کوچ وقار یونس کے لئے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی اس لئے بھی زیادہ اہم اور تسلی بخش ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق پرفارم کرتے ہوئے انتخاب کو درست ثابت کیا۔ سوشل میڈیا پرٹیم میں شامل نہ ہونے والے کھلاڑیوں اور پی سی بی آفیشلز نے بھی ’’گرین شرٹس‘‘ کو مبارکباد دیتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔
آسٹریلیا کے بلے باز پاکستان کے سپن جال میں ایسے پھنسے کہ نکلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ تیز گیند بازوں نے بھی کپتان کے حوصلے کو بڑھایا۔ لائن و لینتھ پر گیند بازی کرکے مخالف بلے بازوں کو آزادانہ رنز بنانے سے روکے رکھا۔ آسٹریلوی کھلاڑی اجتماعی طور پر اچھے کھیل کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے لیکن وہ آئندہ ٹیسٹ میچوں میں کم بیک کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اچھے کھلاڑی موجود ہیں۔ ٹاپ آرڈر میں رنز نہ ہونے کی وجہ سے کینگروز کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ٹیسٹ میچ میں حیران کن اور غیر متوقع کارکردگی کا مظاہرہ ’’وائی زیڈ‘‘ یاسر اور ذوالفقار کی جوڑی نے کیا۔ ایسے وقت میں جب یہ بات ہو رہی تھی کہ سعید اجمل کی عدم موجودگی میں ہمیں سپن بائولنگ کے شعبے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے کمال گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو سپن بائولنگ سے گھمائے رکھا اور آسٹریلیا کو دو مرتبہ آئوٹ کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ دونوں گیند باز فتح گر کارکردگی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اسد، اطہر، مصباح، عمران، سرفراز اور ٹیم کے دیگر کھلاڑی عمدہ کامیابی پر مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن ابھی سفر ختم نہیں ہوا۔ ایسی منظم کرکٹ کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا۔یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر پاکستان کرکٹ کا سپن باؤلنگ کا نیا جوڑا ہے۔ دعا ہے کہ ان کا دماغ کھیل کی طرف لگا رہے اور یہ اپنی خامیوں کو دور کرنے پر کام کرتے رہیں۔