کشمیر لندن مارچ اور لندن پلان؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
کشمیر لندن مارچ اور لندن پلان؟

مجھے کشمیر کے لئے پرویز رشید کی بات پسند آئی اور بلاول بھٹو زرداری کے خلاف انڈین ایجنٹوں کی ہلڑ بازی پسند نہ آئی۔ تحریک انصاف کے جوانوں کے لئے یہ خطاب فکرمندی پیدا کرتا ہے۔ لندن کشمیر مارچ کا لندن پلان سے کیا تعلق ہے؟ میں ان دونوں باتوں کے لئے بات کرنا چاہتا ہوں۔ کشمیر کے لئے بات عالمی فورم اقوام متحدہ میں نواز شریف نے شروع کی جس کے لئے نریندر مودی بہت تلملائے۔ یہی بات نواز شریف کی بات کے موثر اور مضبوط ہونے کی گواہی ہے۔ مودی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے تنازعے اقوام متحدہ میں نہیں اٹھانا چاہئیں۔ یہ بہت غیرسیاسی اور غیرسفارتی بات ہے تو پھر کیا کیا جائے؟ یہ مسئلہ بار بار اٹھتا رہا مگر کوئی حل نہیں نکلا؟
بھارت کے اپنے لئے اچھا یہی ہے کہ وہ یہ مسئلہ حل کرے۔ یہ پاکستان اور کشمیر کے لئے بھی اچھا ہے مگر سب سے اچھا بھارت کے لئے ہے۔ اگر یہ تنازعہ نہ ہوتا یا وقت پر حل کیا ہوتا تو آج بھارت دنیا کے بڑے ملکوں میں ہوتا اور بھارتی لیڈر ایک عالمی حیثیت بھی رکھتے۔ مگر ان کی بدقسمتی ہے کہ صرف پاکستان دشمنی مسلمان دشمنی اور کشمیر دشمنی نے انہیں انسان دشمن کے طور پر معروف کر دیا۔ یورپی اور امریکی حمایت کے باوجود وہ کہیں کے نہ رہے۔ صنعتی اور معاشی ترقی میں وہ کوئی مقام حاصل نہ کر سکے۔ اب بھی وقت ہے اس بار کشمیر کے لئے زیادہ حکمت اور جرات کے ساتھ بات سامنے آئی ہے۔
پرویز رشید کی بات میں حکومت کا موقف بھی سامنے آیا ہے اور حکمت کی بات بھی اس میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ کوئی نیا تنازعہ تو  کھڑا نہیں کر رہے۔ ہم تو بھارتی حکمرانوں کو ان کے بڑوں کی کمٹمنٹ یاد کرا رہے ہیں جنہوں نے بھارتیوں کو انگریزوں سے آزادی دلائی۔ انہوں نے ہی اقوام متحدہ میں جا کے اپیل کی اور یہ کمٹمنٹ کی کہ ہم کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیں گے۔ پاکستان کے ساتھ مل کر یہ مسئلہ حل کریں گے۔ ہم تو صرف بھارت کو یہ کمٹمنٹ یاد کرا رہے ہیں وہ اپنے بڑوں کا وعدہ پورا کریں گے تو ان کی آتما کو سکون ملے گا۔ پنڈت نہرو کی آتما خوش ہو گی۔ کیونکہ اس دنیا کے چلے جانے کے بعد جب کشمیریوں پر ظلم ہوتا ہے اور انہیں اپنا حق نہیں مل رہا تو یہ بات ان کی آتما کے لئے بہت تکلیف دہ ہو گی۔ اس کے بعد پرویز نے بڑی خوب مثال دی۔ میں نے کوئی کمٹمنٹ کی ہو اور دنیا سے بغیر پورا کئے چلا جائوں۔ میری بیٹی نے میرا وعدہ پورا کر دیا تو اس نے میرے ساتھ زیادہ مہربانی کی۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ بھارتی حکمران اپنے بڑوں کے ساتھ مہربانی کریں۔ ہم بھی اس مہربانی کے لئے ان کے شکر گزار ہوں گے۔ یہ بات بھارت کے لئے زیادہ فائدہ مند ہو گی۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ اکنامک جائنٹ بنے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ بھارت کو اپنے جائز اور اپنے عوام کے لئے مفید مقاصد میں کامیاب کرے۔ وہ اگر تنازعات میں الجھے رہیں گے تو کام خراب ہو گا۔ اور کبھی اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو گا۔ کیا ساٹھ ستر سال میں کشمیر کا تنازع حل ہوا۔ اس کے لئے بھارت کو کوئی بڑا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اچھے ہمسایہ کی طرح طرز عمل اچھائی ہے اور اچھائی ہی بڑائی ہے۔ پرویز رشید کی دردمندانہ اور دانشمندانہ بات پر مودی کو سوچنا چاہئے۔
جو بات مجھے پسند نہ آئی تھی۔ وہ کشمیر کے لئے لندن مارچ کو لندن پلان کا حصہ بنا دینے کی کوشش ہے۔ دھرنوں کے حوالے سے لندن پلان کی بات بہت ہو رہی ہے۔ یہ مارچ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان کی نگرانی میں کیا گیا۔ یہاں سب پاکستانی سیاسی جماعتوں کے لوگ اور لندن کے لوگ بھی شامل تھے۔ بلاول اپنی بہن آصفہ بھٹو زرداری کے ساتھ سٹیج پر آئے۔ یہ ایک قابل تعریف اقدام ہے۔ بلاول نے ابھی تقریر شروع ہی کی تھی کہ تحریک انصاف کے لوگوں نے عمران کے بھانجے حسن نیازی کی قیادت میں بہت ہلڑ بازی کی۔ انڈے ٹماٹر پھینکے۔ یہ چیزیں دھرنے والے لوگوں کو دی جائیں۔ یہاں کوئی ان دیکھی مخلوق سب کچھ پہنچا دیتی ہے۔ مگر ابھی تک پوری طرح عمران کی اس ’’غیب‘‘ کی مخلوق کا پردہ چاک نہیں ہوا۔ عمران کے بھانجے نے پاکستان میں کسی سیاسی اور حکومتی اختلافات کو بنیاد بنا کر دشمنوں کو خوش کیا ہے۔ آصفہ نے ٹوئٹر پر پیغام دیا کہ بھارتی ایجنٹوں نے میرے بھائی کی تقریر میں خلل ڈالا۔ مگر بلاول ڈٹ کر کھڑا رہا اور اس نے تقریر مکمل کی۔ ’’لواں گے لواں گے پورا کشمیر لواں گے۔‘‘ رحمن ملک نے بھی اس کے لئے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔
عمران کے بھانجے کو گرفتار کر لیا گیا مگر فوراً ہی رہا کر دیا گیا۔ لندن پولیس بھی کبھی کبھی پاکستانی پولیس کا کردار ادا کرتی ہے۔ شکر ہے کہ عمران کا یہ بھانجہ حفیظ اللہ خان نیازی کا بیٹا نہیں ہے۔ بلاول بھٹو کو نیچا دکھانے کا یہ طریقہ ایک قومی جرم ہے۔ یہ بات افسوسناک اور رسوا کن ہے۔ عمران بھی اپنے مخالفین کے لئے ایسے طریقے اختیار کرتا رہتا ہے۔ میری گزارش ہے کہ وہ پاکستان کے قومی عالمی مفاد کو مدنظر رکھا کرے۔ ابھی ’’نیا پاکستان‘‘ نہیں بنا؟ وہ وزیراعظم بننے کی جلدی میں ہے۔ اس کے بھانجے اور عزیز اور عاشقان بہت جلدی میں ہیں۔ وہ اقتدار میں آ کے جو کچھ کریں گے تو لوگوں کو موروثی سیاست کے کئی ہوش ربا منظر نظر آئیں گے۔
کشمیر کے لئے پاک فوج کا موقف بالکل مستحکم اور وطن دوست ہے۔ اور یہ بھی خوشی ہے کہ حکومت اور فوج اس معاملے میں ایک پیج پر ہیں۔ ضروری ہے کہ صفحے کا دوسرا حصہ بھی دیکھ لیا جائے۔ ورق تو صفحے کے دونوں حصوں سے بنتا ہے۔ اس کے لئے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لئے یہ مصرعہ عرض ہے
تو اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
سب نے کشمیر کی بات کی مگر بھارت کو جتنی تکلیف بلاول کے بیانات سے ہوئی وہ کسی سیاستدان کی بات سے نہیں ہوئی۔ ’’یہ ہے بلاول کا اعلان۔ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے بھی بلاول نے لگوائے۔ بہت پہلے ڈاکٹر مجید نظامی کی آواز گونجی تھی جس کی بازگشت بھارت میں اب تک گونج رہی ہے۔ لندن مارچ برطانوی وزیراعظم ہائوس 10ڈائوننگ سٹریٹ تک گیا۔ یہ مسئلہ انگریزوں نے پیدا کیا تھا۔ وہی اسے حل کرائیں۔