دھرنا اور دھڑن تختہ

دھرنا اور دھڑن تختہ

یہ آخری دھرنا نہیں تھا نہ وزیر قانون کے استعفے کی شکل میں کوئی آخری دھڑن تختہ۔
موجودہ جمہوری نظام اورنواز شریف کے خلاف پہلا دھرنا عمران خان نے کیا، پھر اس دھرنے میں ایک ا ور دھرنا شامل ہو گیا، یہ تھا کینیڈا سے در آمد کیا جانے والا دھرنا جو ڈاکٹر طاہر القادری کا کیا دھرا تھا۔
یہ دو دھرنے تھے مگر ہدف ان کا ایک ہی تھا کہ الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے، نواز حکومت توڑ دی جائے اور نئے الیکشن کروائے جائیں۔
اس دھرنے والوں کی امید امپائر کے ساتھ لگی ہوئی تھی، عمران ا ور قادری ایک مرحلے پر امپائر سے ملاقات میںکامیاب ہو گئے مگر امپائر ان کی کچھ زیادہ مدد نہ کر سکا ۔ اس لئے کہ وہ خود اپنے منصب پر نیا نیا تھا اور کسی ایڈونچر کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ سول سوسائٹی نے سیاسی مسئلے میں فوجی مداخلت پر اعتراض کیا توفوج نے وضاحت کی اس نے حکومت کے کہنے پر یہ ملاقاتیں کی ہیں، وزیر اعظم نے بھی اس امر کی تصدیق کر دی کہ انہوںنے آرمی چیف سے ثالثی کی درخواست کی تھی۔ اس طرح یہ مسئلہ زیادہ نہ پھیلا۔
پہلا دھرنا اے پی ایس سانحے کی وجہ سے ختم ہو گیا اور حکومت پر کوئی منفی اثر نہ ڈال سکا۔ مگر عمران ا ور قادری نے حکومت کو جو گالی گلوچ کرنا تھی، وہ جی بھر کے کر لی تھی اور حکومت کو عوام کی نظروں میں گرانے کی اپنی سی کوشش کر دیکھی تھی۔
اس کے بعد حکومت ا ور فوج کا براہ راست ٹکراﺅ ہوا، ا سکے لئے ڈان لیکس کا بہانہ بنا۔ اس قضیے نے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کی چھٹی کروا دی ۔ بعد میں جھگڑا زیادہ بڑھا تو حکومت نے جان بچانے کے لئے مشیر خارجہ طارق فاطمی ا ور پرنسپل انفار میشن آ فیسر راﺅ تحسین کو معطل کر دیا۔ میںنہیں جانتا کہ ڈان لیکس میں مشیر خارجہ کس طرح کردارا دا کر سکتے تھے مگر راﺅ تحسین تو اس خبر کی اشاعت کی رات لاہور میں تھے اور مجھے میرے ایک اخباری دوست نے بتایا کہ رات گئے تک وہ راﺅ صاحب کی طرف سے دیئے گئے ایک عشایئے میں اکٹھے تھے۔ طارق فاطمی پر اگر نزلہ گر سکتا تھا تو ان ریمارکس کی وجہ سے جو ڈان کی خبر کا حصہ تھے کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ محض میرا اندازہ ہے کیونکہ ڈان لیکس تحقیقاتی رپورٹ تو شائع نہیں کی گئی۔ اور اگر میرا اندازہ صحیح ہے تو پاکستان کی تنہائی کا پہلے پہل شکوہ خود آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا تھا، اس لحاظ سے طارق فاطمی کے ریمارکس میںکوئی نئی بات نہ تھی، مگر اللہ جانے طارق فاطمی کا دھڑن تختہ کیوں ہوا اور وہ پرنسپل انفار میشن آفیسر جو خبر کی ا شاعت کی رات کا بڑا حصہ ایک کھابہ میٹنگ میں تھا، اس کی شامت کیوں آئی ۔ یہ سب کچھ جاننے کے لئے م¶رخ کو ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار رہے گا۔
پانامہ لیکس کے بعد عمران نے ایک بار پھر منتخب حکومت اور خاص طور پر شریف فیملی کو نشانے پر رکھ لیا۔ انہوں نے عدلیہ کا رخ کیا جہاں سے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا،۔نوازشریف آج تک پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ، کیوںنکالا۔ مقدمہ پانامہ کا تھا، بہانہ اقامہ کو بنایا گیاا ور جرم یہ ٹھہراکہ بیٹے سے تنخواہ کیوں وصول نہیں کی۔یہ تو وہی طعنہ ہے جو ایک ساس اپنی بہو کو آٹا گوندھتے ہوئے کوستی ہے کہ ہل کیوں رہی ہو۔
اس فیصلے سے کچھ عرصہ پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کرنے کے لئے مدعو کیا، اس بریفنگ کا بڑا حصہ دہشت گردی کی جنگ ہی تھا مگر ایک سوال ہوا کہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ آیاتو فوج کا کردار کیا ہو گا۔ جواب ملا کہ فوج آئین اور قانون کے مطابق کردار ادا کرے گی، میرے خیال میں یہ سوال اس محفل میں غیر ضروری اور غیر متعلقہ تھاا ور جواب میںنوکمنٹس ہی کہا جا سکتا تھا۔ مگر جو جواب ملا اسے اپوزیشن نے اس پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا کہ فوج ہر حالت میں عدالتی فیصلے پر عمل درا ٓمد کروائے گی۔ نواز شریف کے بعض ساتھی جن میں چودھری نثار پیش پیش تھے اور شاید شہباز شریف پس پردہ جو کہہ رہے تھے کہ نواز شریف کو تصادم کا راستہ نہیں اپناناچاہئے، اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ فوج سے تصاد م مول نہ لیا جائے۔ یہ مشورہ صائب تھا مگر مشورہ دینے والوںنے فوج کو فریق کیوں سمجھ لیا تھا۔ ا سکی وجہ وہی بتا سکتے ہیں، کبھی چودھری نثار یا شہباز میاں ملیں گے تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھوںگا کہ عدلیہ کے فیصلے کو آپ فوج کے ساتھ کیوں جوڑ رہے تھے۔ کونسل آ ف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے صدر ضیا شاہد نے اپنے ٹی وی پرگوام میں سوال اٹھایا کہ فوج کو ان چہ میگوئیوں کا جواب دینا چاہئے کہ سارے فیصلے جج اور جرنیل مل کر کر رہے ہیں۔میں تو اس پر لاحول ہی پڑھ سکتا ہوں ۔ پتہ نہیں کہ ضیا شاہد تک یہ تاثر کیسے پہنچاا ور انہوں نے یہ جرات کیوں کی کہ اس قدرتیز سوال داغ دیا۔
بہر حال فیصلہ ہوااور نواز شریف کا دھڑن تختہ ہو گیا، ان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور قسما قسم کے مقدموں کی سماعت ہو رہی ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ ظاہر ہے جو بڑا نقصان ہو سکتا تھا ، وہ تو ہو گیا، اب تو قید یا جرمانہ یا ریکوری کا ہی بڑا فیصلہ ہو سکتا ہے، نواز شریف ان سے زیادہ تلخ اور سنگین سزائیںجنرل مشرف کے ہاتھوں بھگت چکے ہیں۔
قسمت خراب ہو تو بلائیں ادھر ادھر سے گھیر لیتی ہیں ، نواز شریف پر ایک بلا ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی وجہ سے نازل ہوئی، ہر چند انہوں نے ایک کمیٹی بٹھا دی کہ چوبیس گھنٹے کے اندر ذمے داروں کا تعین کرے، اس کمیٹی کی سربراہی جہاندیدہ شخصیت راجہ ظفرا لحق کے سپرد تھی۔ انہوںنے رپورٹ تو مرتب کر دی مگر بعض مصلحتوں کی وجہ سے اسے ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا گیا مگر تحریک لبیک یا رسول اللہ نے وزیر قانون کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ۔ عام آدمی کے نقطہ نظر سے کسی قانون میں ترمیم کی ذمے داری وزیر قانون پر ہی عائد ہوتی ہے مگر حقائق سا منے ا ٓئے تو پتہ چلا کہ اس ترمیم کی ذمے داری پوری پارلیمنٹ کی ہے کیونکہ اسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا تاہم تحریک نے اس نقطہ نظر کو قبول نہ کیا اور اپنے مطالبے کے حق میں پنڈی کے فیض آباد چوک میںجا دھرنا دیا، کسی بھی دھرنے سے لوگوں کی آمدورفت متاثرہوتی ہے مگر عمران خان اور طاہر القادری کے تین ماہ کے دھرنے پر عدلیہ نے وہ احکامات جاری نہیں کئے جو اس دھرنے کے خاتمے کے لئے کئے۔ اس مقصد کے لئے ایک آپریشن کیا گیا جو ناکام ہوا۔ اس ناکامی کی وجہ تو یہی تھی کہ عدالت نے آتشیں اسلحے کے استعمال سے روک دیا تھا چنانچہ پولیس کی وہ پٹائی ہوئی کہ خدا کی پناہ۔ اسی عدالتی پابندی کی وجہ سے فوج نے بھی آپریشن کا حکم ملنے پر عذر پیش کیا کہ اسلحے کے بغیر آپریشن کیسے ہو سکتا ہے، یہ بھی اخبارات میں چھپا ہے کہ فوج نے عوام کے خلاف آپریشن سے معذرت کی ہے۔
اس مرحلے پر دوراستے اختیار کئے جا سکتے تھے، ایک تو یہ کہ حکومت عدالت سے رجوع کر کے واضح کرتی کہ آتشیں اسلحے کے بغیر آپریشن میں ناکامی ہوئی اور آئندہ فوج کو اس اسلحے کے استعمال کے لئے اجازت دی جائے مگر یہاں آرمی چیف نے پہلے تو کوئی بات وزیراعظم سے فون پر کی۔ پھر بیرون وطن سے واپسی پر ایک ملاقات کی، اس میٹنگ کی کوئی باقاعدہ پریس ریلیز میں نے تو نہیں دیکھی مگر ادھر ادھر سے خبریں آئیں کہ فوج نے تحمل سے کام لینے کے لئے کہا ہے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔
اب ایک تحریری معاہدہ سامنے آ گیا ہے جس میں حکومت اور دھرنے والوں کو برابر کا فریق ظاہر کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے حکومت نے وزیر قانون کی چھٹی کرا دی ہے۔ یہ معاہدہ عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تو جو ریمارکس دیئے گئے وہ سب کچھ لوگ ٹی وی چینلز کے ذریعے سن چکے ہیں۔ میں اپنی فوج کی عزت کرتا ہوں اس لئے ان ریمارکس کو یہاں دہرا نہیں سکتا۔
یہ ہے دھرنوں سے دھڑن تختوں تک کی مختصر روداد، ابھی دعوے کئے جا رہے ہیں کہ فلاں تاریخ تک اس حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے گی، اس کے لئے کیا میتھڈ اختیار کیا جائے گا، یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا۔ مگر شاعر کہتا ہے کہ دل کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا کہ شام گیا۔
مجھے پاکستان کی مضمحل، مسکین، جمہوریت پر رحم آتا ہے۔ یہ ملک ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی مملکت کا نمونہ بنانے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا، اسے اکہتر میں ایک فو جی آپریشن کی وجہ سے دو لخت ہونا پڑا، اب فوج کا فیصلہ ہے کہ عوام کے خلاف آپریشن نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ اچھی سوچ ہے اور تاریخ کا سبق بھی یہی ہے۔