پیپلز پارٹی کی پارلیمانی قیات ’’غیبی ہاتھ‘‘ کے سامنے ’’بے بس‘‘

پیپلز پارٹی کی پارلیمانی قیات ’’غیبی ہاتھ‘‘ کے سامنے ’’بے بس‘‘

سینٹ کا اجلاس تین گھنٹے جاری رہا لیکن مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں کی ازسر نو حدبندی سے متعلق آئینی ترمیم منظور کئے بغیر غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ،حکومت کی پیپلز پارٹی کو منانے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ آئینی ترمیم کی منظوری کی راہ میں حائل ہو گئی ۔ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی قیادت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے’’ بے بسی‘‘ دیدنی تھی ۔ پارلیمانی قیادت آئینی ترمیم منظور کرنے کے حق میں تھی لیکن ’’غیبی ہاتھ ‘‘ ان کا تعاقب کر رہا تھا آصف علی زرداری نے پارٹی کی پارلیمانی قیادت کو آئینی بل کی حمایت سے روک رکھا ہے پیر کو سینیٹ کی ہائوس بزنس کمیٹی کا طویل اجلاس ہوا جس میں پیپلز پارٹی کو آئینی ترمیم کی حمایت پر آمادہ نہیں کر سکی چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بھی پیپلز پارٹی کو آئینی ترمیم کی حمایت کرنے کے لئے کہا لیکن سب نے ’’ہائی کمان ‘‘ سے کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے حمایت سے معذوری کا اظہار کیا۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ’’ میں وزیر داخلہ سے بات کر کے اس حوالے سے ایوان کو آگاہ کرتا ہوں‘‘ ۔ بعد ازاں انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وزیرداخلہ احسن اقبال سے رابطہ نہیں ہوسکا وہ اس وقت دوران سفر ہیں اور ان کا موبائل بند ہے کچھ دیر بعد ان سے بات کر کے ایوان کو آگاہ کروں گا جس پر چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ اس مطلب ہے کہ وزیرداخلہ شہر میں موجود نہیں اور وہ ایوان میں نہیں آئیں گے۔ سینٹ کا اجلاس پیر کو 50منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اجلاس شام چار بجے طلب کیا گیا تھا تاہم ہائوس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کی وجہ سے سینیٹ اجلاس میں تاخیر ہوگئی تھی۔ سینٹ میں پیر کو برادر اسلامی ملک مصر کی مسجد میں خوفناک دہشتگردی کے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مشترکہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا سینٹ میں اسلحہ نما کھلونوں کی تیاری، درآمد اور فروخت پر پابندی، وفاقی سرکاری ملازمین کو دیے جانے والے کار، موٹر سائیکل اور ہائوس بلڈنگ ایڈوانسز پرمنافع ختم کرنے سمیت چار قراردادیں منظور کر لی گئیں۔ پاکستان میری ٹائم اتھارٹی کے نام سے نئے ادارے کے قیام کیلئے قرار داد کثرت رائے سے مسترد کر دی گئی۔