وزیر داخلہ اور سابق وزیر داخلہ

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
وزیر داخلہ اور سابق وزیر داخلہ

فیض آباد کے واقعہ کے لیے فوج کی ہدایات سے معاملہ سنبھل گیا۔ اس بار سول حکومت نے آرمی چیف کے مشورے قبول کر لیے اور معاملات ٹھیک ہو گئے۔ میں اس پر گفتگو ابھی نہیں کروں گا کہ آرمی بہرحال سول معاملات میں بھی اچھی مشیر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ملک پر آرمی کی حکومت ہو مگر سویلین حکومت بلکہ جمہوری حکومت اگر آرمی کو ساتھ لے کر چلے اور اس کی مشاورت سے مسائل اور معاملات کو دیکھے تو بات بن جائے گی۔ 

سیاستدان تو ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہتے ہیں جبکہ سب سیاستدان بالعموم غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شہر شہر دھرنے، ہڑتالیں، مظاہرے، ہنگامے ہوئے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ رانا ثنااللہ، بلال یٰسین اور منشا بٹ کے گھروں پر حملے ہوئے۔ احسن اقبال کے گھر سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ وہ وزیر داخلہ ہیں۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ وزیر ہونے کے بعد لوگ سکیورٹی کے اتنے محتاج کیوں ہو جاتے ہیں۔ احسن اقبال کہتے ہیں میں پاکستان کا وزیر داخلہ ہوں۔ صرف فیض آباد کا نہیں۔ یہ بات کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اور یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہے کہ ہلاکتیں چودھری نثار کے گھر پر حملہ کے دوران ہوئیں جبکہ چودھری نثار نے ایک جامع بات کی ہے۔ احسن اقبال اپنی نااہلی نہ چھپائیں۔یہ وزیر داخلہ ہے جو کہتے ہیں کہ دھرنے کے مظاہرین کے خلاف آپریشن کرنے اور روکنے کا فیصلہ ان کا نہیں تھا بلکہ اسلام آباد کی انتظامیہ کا ہے۔ وزیر داخلہ انتظامیہ کا انچارج ہوتا ہے تو کیا وہ انتظامی بدنظمی کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔ اس بات کی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ اس موقع پر اپنے پیارے وزیر قانون زاہد حامد کو وہ نہیں بھولے۔ وہ اب لوگوں کے دباﺅ پر استعفیٰ دے چکے ہیں۔ احسن اقبال پریشانی میں سارا الزام چودھری نثار پر لگا رہے ہیں کہ جب ان کے گھر پر حملہ ہوا تو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ چودھری نثار نے کہا کہ احسن اقبال وہی شخص ہے جس نے کہا تھا کہ تین گھنٹے میں دھرنا ختم کرا دوں گا۔ احسن اقبال چودھری نثار کے بعد وزیر داخلہ بنے ہیں۔ احسن اقبال کو اپنی انتظامیہ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے احسن اقبال کی اس بات کی تردید کی، میرے گھر پر ہلاکت تو درکنار کوئی شخص زخمی بھی نہیں ہوا۔
چودھری نثار کی اس وضاحت کے بعد بہت اچھے دل والے بہت تحمل اور تدبر سے معاملات کو سنبھالنے والے آرمی چیف جنرل باجوہ نے ایک تاریخ ساز بات کی ہے کہ ہم اپنے عوام کے خلاف طاقت استعمال نہیں کر سکتے۔ سویلین حکومت کو دانشمندی اور ذمہ داری سے کام کرنا چاہیے۔ جنرل باجوہ نے اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں کہا کہ انتشار ٹھیک نہیں ہے۔ تمام آپشن کے بعد فوج آخری آپشن ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ الیکٹرانک میڈیا پر پابندی ختم کی جائے۔ آرمی چیف کی باتوں پر حکمرانوں کو بہت غور کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر قانون زاہد حامد نے شہباز شریف کے ساتھ طویل ملاقات کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہباز شریف صورتحال کو ذرا پہلے اپنے ہاتھ میں لیتے تو اچھا ہوتا۔ ایسے میں چودھری شجاعت کا بیان بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ بحران کے حل کے لیے قومی حکومت بنائی جائے۔ حکومت اندرونی اور بیرونی چیلنجوں اور خطرات کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ چودھری پرویز الٰہی نے خوب بات کی کہ وزیر داخلہ نے عاشقان رسول پر بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام لگا کر پوری قوم کی توہین کی ہے۔جو حکومت اس وقت پاکستان میں بظاہر چل رہی ہے۔ وہ حکومت نہیں ہے۔ پہلے دن ہی وزیراعظم نے کہہ دیا تھا کہ میں وزیراعظم نہیں ہوں۔ وہ کچھ وزیراعظم بن کے دکھائیں تو کام چلے۔ ورنہ وزیراعظم کی حیثیت سے سیاسی منظر سے ہٹ جائیں۔ نواز شریف سے گذارش ہے کہ خاقان عباسی کو وزیراعظم انہوں نے ہی بنایا ہے تو انہیں کچھ نہ کچھ وزیراعظم بننے کی اجازت دے دیں۔
کبھی کسی وزیر کو سابق وزیر سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ چودھری نثار اور احسن اقبال کا کیا مقابلہ؟
٭٭٭٭٭