روک سکتے ہو تو روک لو!!

روک سکتے ہو تو روک لو!!

ملک میں جو فسادات شروع ہو چکے ہیں” روک سکتے ہو تو روک لو“۔۔۔۔ حکومت کے عزائم حالیہ صورتحال نے بے نقاب کر ڈالے۔ تصادم کی سیاست ایکسپوز ہو چکی ہے۔ جمہوریت کا ڈھونگ اور جعلی نظریہ کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ فوج نے بھی حکومت کو صاف جواب دے دیا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے لگائی گرہیں اب دانتوں سے کھولیں۔ ہمیں مدد کے لئے آواز مت دیں۔ ہم شب خون مارنے کی آپ کی آرزو پوری نہیں ہونے دیں گے۔ ایک آدھ جلسہ اور لکھوائی تقریر وہاں آکر بھی جھاڑ دیتے۔ عوام اب بپھر چکے ہیں۔ آﺅ اس عوام کی عدالت میں اور انہیں روک سکتے ہو تو روک لو۔۔۔ فوج کو آوازیں مت دو۔ پاکستان انقلابی شعور کی جانب رواں دواں ہے۔اس فساد کے بعد اب حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔ سادہ مسلم لیگیوں کو بھی ہوش آرہا ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں پارٹی کے چوتھی بار اقتدار میں آنے کی امید ہے۔قیادت سے متعلق سچ بول کر اپنی نام نہاد وفاداری کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ورنہ پارٹی ٹکٹ نہیں ملے گا یا عہدے سے دستبردار ہونا پڑے گا یا مراعات و بخشیش بند ہو جائیں گے۔ لہذا اداروں کے خلاف مہم جاری ہے۔ ہم نے آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے کالم میں نظریہ تصادم کے سیاسی شہید ہونے سے متعلق پالیسی لکھ دی تھی۔ ہو بہو وہی ہو رہا ہے۔ لیکن سازش تیار کرنے والوں کا مقصد پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ آرمی چیف تصادم کی سیاست والوں کوپسپائی پر مجبور کر دیں گے۔ ہر بار سیاستدان معصوم نہیں ہوسکتے۔ خدا نے ان لوگوں کی حرم حاضریوں کا جھوٹا سچا جو بھرم رکھا تھا، اسے توڑنے کے لئے ختم نبوت کا ایشو ہی جواز بنادیا۔ ایک وزیر کا عہدہ قربان نہ کر سکے لو اب پوری کابینہ کے لالے پڑے ہیں۔ روک سکتے ہو تو روک لو۔میاں نواز شریف کو یاد ہو گی ہماری واشنگٹن میں وہ بیس منٹ کی ون ٹو ون ملاقات جس کے دوران میں نے آنسو ﺅں اور ہچکیوں میں گزارش کی تھی کہ جس کرسی پر آپ تیسری مرتبہ بیٹھے ہیں اس کوفار گرانٹڈ مت لیجئے گا۔مسلم لیگ کے قائد ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔یہ کرسی دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہے۔عوام کے ساتھ بے انصافی ہوئی تو اس مرتبہ کرسی کے ساتھ اعتماد اور عزت بھی جائے گی۔ وہی ہوا سب کچھ جانے کا سبب بھی ختم نبوت کا ایشو بن گیا۔ یہاں غلطی سے کچھ نہیں ہوا جان بوجھ کر پنگا لیا گیا ہے۔ کرپشن کے خوفناک کھاتے جب کھل گئے تو عدلیہ غلط ہو گئی ؟ ارب کھرب پتی آپ لوگ بن گئے۔ یہ بھی فوج کی سازش تھی ؟ جاتی ہوئی عزت و اعتماد کو روک سکتے ہو تو روک لو۔ کس جمہوریت کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے ؟ جو اس ملک میں کبھی تھی ہی نہیں ؟ ہاں ون مین حکمرانی کلچر چلا آ رہاہے۔ کبھی بھٹو کا کھمبا اور کبھی کسی دوسرے کا کھمبا۔اشخاص کو ووٹ دیئے جاتے ہیں جماعت یا ایجنڈا کو نہیں۔ شخصیت پرستی کب سے جمہوریت ہو گئی ؟ وردی اور کبھی سوٹ والی حکمرانی کو جمہوریت کہہ کر امریکہ کی حقیقی جمہوریت کا مذاق نہ اڑایا جائے۔جو کچھ فیض آباد میں22 دن قبل شروع ہوا یہ جمہوری حکومت کا شاخسانہ ہے؟ ایسی ہوتی ہیں جمہوری ریاستیں ؟ جو آج لینڈ مافیاز اور ارب پتی بنے بیٹھے ہیں ان کا ماضی حال کون نہیں جانتا ؟ اتنا کھاﺅ جتنا چھپا سکو۔ سابق وزیر داخلہ اور موجودہ وزیر داخلہ آمنے سامنے۔ وزیراعلیٰ پنجاب بھی وفاق کی پالیسی اور غلطیوں سے پریشان۔درباری صحافیوں کے دانے بھی ختم ہونے والے ہیں۔ درباری کاتبوں کے نعرے اور جملے بھی کپکپا نے لگے ہیں۔ روک سکتے ہو تو روک لو کا غرور بھی پسینے پونچھ رہا ہو گا۔ نظریہ بھی چلو بھر پانی کی تلاش میں ہو گا۔عوام کی عدالت میں چلے تھے ہمدردیاں سمیٹنے ،اور عوام کے ہاتھوں ہی رسوا ہو رہے ہیں۔ جمہوری ریا ستو ں میں الزام لگ جائے تو صدر وزیر عہدہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہاںکچھ ہو جائے لیکن سیاستدانوں کو کرسی چھوڑتے موت پڑتی ہے۔ پاکستان کے لوگوں کو ہوش آچکا ہے۔ اداروں کی بدنامی سے کرپشن نہیں چھپ سکتی البتہ حکومت گرنے کو روک سکتے ہو تو روک لو!!۔

٭٭٭٭٭