یوم تکبیر یوم پاکستان کی طرح ہے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
یوم تکبیر یوم پاکستان کی طرح ہے

آج یوم تکبیر ہے مگر میں اس کے لئے کل کالم لکھوں گا۔ یوم تکبیر پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں ایک بہت بڑی شاندار تقریب برادرم شاہد رشید کرتے ہیں۔
انہیں ڈاکٹر مجید نظامی کی قیادت حاصل تھی۔ اب بھی حاصل ہے۔ اللہ صدر رفیق تارڑ، کرنل ترین اور ڈاکٹر رفیق احمد کی زندگی دراز کرے اور شاہد رشید کے سارے ساتھیوں کو سلامت رکھے۔ ہم تو سارا سال نعرہ تکبیر لگاتے ہیں۔ نعرہ تکبیر ہمارے اندر تو ولولوں کا ایک طوفان اٹھا دیتا ہے۔ ہمارے دشمن خصوصاً بھارت والے اس نعرے سے بہت ڈرتے ہیں۔ اب نعرہ تکبیر ہماری تہذیب و ثقافت اور زندگی کا حصہ ہے۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے ساتھ نعرہ رسالت یا رسول اللہؐ۔ ہم نعرہ حیدری بھی لگاتے ہیں۔ اس میں شیعہ سنی کی کوئی تخصیص یا تفریق نہیں ہے۔ مولا علیؑ ہم سب مسلمانوں کے ہیں۔ تخلیقی لوگوں کی بڑی نسبتیں مولا علیؑ کے ساتھ ہیں۔ حضور کریم حضرت محمدﷺ نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے۔
 28مئی کو ایٹمی دھماکوں کے دن سینکڑوں لوگوں نے یوم تکبیر کا نام تجویز کیا تھا۔ اس میں ایک نام مجتبیٰ رفیق کا بھی ہے۔ جو آج کل پریشان ہیں۔ ہم ان سب لوگوں کو سلام کرتے ہیں۔ ہماری سلامتی کے لئے یوم تکبیر بڑا ضروری ہے۔ پاکستان اب ناقابل تسخیر ہے۔ یہ بھارت بھی جانتا ہے مگر ا سکے حکمران ڈرے ہوئے آدمی کی طرح ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے حکمران اپنے آپ سے ڈرے ہوئے ہیں۔ بھارت کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جس دہشت گردی کا خطرہ ہے ہم اس کے ساتھ دہشت گردی سے نبٹیں گے۔ بھارت نے اس طرح یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کا حامی ہے بلکہ وہ دہشت گرد ہے۔ میرے خیال میں وہ دہشت زدہ ہے۔ اور دہشت زدگی دہشت گردی سے بہت خطرناک ہوتی ہے۔ دہشت زدہ آدمی سے آپ کو کسی بھی نیگیٹو سرگرمی کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ خود کشی کرنے پر آمادہ لوگ ہوتے ہیں۔ بھارت بھی آج کل خود کشی کے ارادے میں ہے۔ یہ کہتا کہ اگر ممبئی جیسا واقعہ ایک اور بھارت میں ہو گیا تو پھر بلوچستان میں ہمارے دہشت گرد کارروائی کریں گے۔ ان بھارتی دہشت گردوں میں پاکستانی دہشت گرد شامل ہیں۔ ہمیں آج کل بلوچستان سے زیادہ کراچی کے لئے فکر مندی ہے۔
مگر ہم اور ہماری پاک فوج ثابت قدم ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی شاندار کامیابیوں کے بعد پاکستان کا ہر طرح کا دشمن بیزاراور مایوس ہے۔ کراچی والے بھی مطمئن ہیں۔ یہ جو نئی لہر بدامنی اور دہشت گردی کی آئی ہے تو یہ اس کے ختم ہونے کی نوید ہے۔ اب ہماری پیاری فوج اپنا کام مکمل کئے بغیر نہیں ہٹے گی۔ میرے دوست کرنل (ر) ضرار بھی بڑے جذبے میں ہیں اور اچھی باتیں ایک روحانی امید کے ساتھ کرتے ہیں۔
میری ایک استدعا حکومت اور فوج دونوں سے ہے کہ یوم تکبیر پر ایک پیغام بھارت کو ضرور جانا چاہئے۔ یہ دن ہزار دنوں کا ایک دن ہے۔ ایسے منایا جائے جیسے ایٹمی دھماکے ہم نے آج کئے ہیں۔ ایٹم بم ہم نے بھارت کے مقابلے میں بنایا اور ایٹمی دھماکے بھی ہم نے بھارت کے اس اقدام کے بعد کئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بنیاد رکھی اور اس کے لئے محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کو ذمہ داری سونپی۔ بیورو کریسی کی مداخلت بند کر دی گئی۔ صدر جنرل ضیاء نے نیوکلیئر بم کے فرض کو مکمل کیا۔ انہوں نے ہی وزیراعظیم راجیو گاندھی سے کہا تھا کہ تم نے اپنی فوجیں ہماری سرحد پر لا بٹھائی ہیں۔ یاد رکھو ہمارے پاس وہ چیز بھی ہے۔ راجیو کا رنگ فق ہو گیا اور بھارتی فوجیں فوراً سر جھکاکر چلی گئیں۔ تب ہم نے ایٹمی دھماکے بھی نہ کئے تھے۔
ایٹمی دھماکے دنیا بھر کے دبائو کے باوجود نواز شریف نے کئے۔ مجید نظامی کی زندگی میں جو آخری یوم تکبیر تھا اس کے مہمان خصوصی نواز شریف تھے۔ انہوں نے صدر محفل مجید نظامی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شکر ہے نظامی صاحب نے میرا دھماکہ نہیں ہونے دیا تھا۔ نظامی صاحب نے نواز شریف کو پیغام بھیجا تھا کہ ایٹمی دھماکہ کرو ورنہ قوم تمہارا دھماکہ کر دے گی۔ قوم نے نواز شریف کو تیسری بار بھی وزیراعظم بنایا ہے کہ وہ بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ بھارت کبھی دوست نہیں ہو سکتا۔
چین کے ساتھ مل کر پاکستان ایک عالمی کردار ادا کرے گا۔ جنرل راحیل شریف بہت مستحکم ارادہ رکھتے ہیں کہ پاکستان کو ہر مسئلے سے نجات دلائیں گے۔ بھارتی ’’را‘‘ کا برا انجام ہو گا۔ اور پاکستان میں ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کا بھی بیڑہ غرق ہو گا۔ ’’را‘‘ کئی دفعہ پسپا ہو چکی ہے۔ چودھری سرور نے کہا ہے کہ ملک کا بچہ بچہ پاک فوج کے ساتھ ہے۔ قوم اور فوج ایک ہیں۔ یہ بھی کہنے کو جی چاہتا ہے کہ قوم فوج اور حکومت ایک ہیں۔ کم از کم اپنی سلامتی کے لئے اور دشمن کے مقابلے کے لئے تو ہم ایک ہو جائیں۔ ہمیں پاکستان کے مقتدر آدمی سے ایسے جملے  ہی کی امید ہے جو مجید نظامی نے کہا تھا کہ ’’مجھے ایٹم بم سے باندھ کر بھارت پر پھینک دو۔‘‘ یہ تو یوم تکبیر پر کالم ہو گیا۔ میں کل بھی انشااللہ لکھوں گا۔ ڈاکٹر مجید نظامی کو یوم تکبیر مبارک ہو۔