------اللہ اکبر....

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ایٹمی دھماکوں کا دن منانے کے لئے اسے کوئی نام تو دینا تھا۔ نواز شریف نے لوگوں سے رائے مانگی تھی۔ اور پھر ”یوم تکبیر“ پر متفق ہو گئے۔ نعرہ تکبیر کے جواب میں جب اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی ہیں تو مسلمانوں کے وجود میں بجلیاں وجد کرنے لگتی ہیں اور دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ یہ فتح اور طاقت کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص مدد کی علامت ہے۔ اللہ بڑا ہے اور اس کا نام لینے والے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے بھی بڑے ہیں۔ یہ نعرہ حق ہے اور حق کے فروغ کے لئے جہاد کی کئی قسمیں ہیں جابر سلطان کے آگے۔ کلمہ حق بلند کرنا بھی جہاد ہے۔ یہ رسول اعظم حضرت محمد کی حدیث ہے جو روزنامہ نوائے وقت کی پیشانی پر ہمیشہ درج ہوتا ہے۔ سب سے بڑے چیف ایڈیٹر بہادر اور نامور صحافی مجید نظامی کی زندگی اسی حدیث سے عبارت ہے۔ نوائے وقت میں کام کرنے والے دوسرے دوست بھی نظامی صاحب کی تقلید میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تھے اور یہ صرف پاکستان کے خلاف طاقت کا مظاہرہ تھا بھارت کے ہر ہمسایہ ملک کے ساتھ روابط اچھے نہیں ہیں مگر وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ہی خطے کا لیڈر بننے کے لئے اس کے سامنے واحد رکاوٹ ہے۔ پاکستان کے علاوہ پورے عالم اسلام میں پریشانی پھیل گئی۔ سب کی نگاہیں پاکستان کی طرف اٹھ گئیں۔ ایٹم بم تو پاکستان بنا چکا تھا۔ صدر جنرل ضیاءنے کرکٹ ڈپلومیسی کا ایک معرکہ کیا۔ بھارت گئے کرکٹ کا میچ دیکھا اور جاتے ہوئے ائرپورٹ پر وزیراعظم بھارت راجیو گاندھی کے کان میں کہا کہ آپ کی فوجیں ہماری سرحدوں پر بیٹھی ہیں مگر اتنا یاد رکھیں کہ ہمارے پاس وہ چیز بھی ہے اس سے مراد ایٹم بم ہے۔ راجیو گاندھی کا رنگ فق ہو گیا اور بھارتی فوجیں واپس چلی گئیں۔ تب ابھی ایٹمی دھماکہ نہ ہوا تھا۔ اب ہم ایٹمی دھماکے کر چکے ہیں مگر ہمارا کیا حال ہے بھارت کی فوجیں سرحد پر نہیں مگر بھارت کی مصنوعی دہشت کا ہم بری طرح شکار ہیں۔ اور کئی زخم دکھاکے بھی بھارت سے دوستی کے گیت گاتے ہیں۔ ہمسایہ ملک کے طور پر بھارت کے ساتھ معاملات طے کئے جائیں وہ دوست ملک کبھی نہیں بنے گا۔
میرے ذہن میں جو سوال ہے وہ سب کے لئے ہے۔ کیا ہم نے ایٹمی دھماکے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں نہیں کئے تھے؟ یہ بحث اب بے معنی ہے کہ کون ایٹمی دھماکے کرنا چاہتا تھا۔ کون نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مجید نظامی کا یہ تاریخی جملہ بار بار دہرایا گیا ہے کہ آپ دھماکے نہیں کرو گے تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ ایٹمی دھماکے پوری قوم کے لئے اعزاز ہیں اور یہ اعزاز بہرحال نواز شریف کا ہے۔ انہوں نے ہی ایٹمی دھماکوں کا دن منانا شروع کیا جو ہماری طاقت کا ضامن دن ہے۔ بھارت کے ایٹمی دھماکے ایک دھمکی تھی۔ ہمارے ایٹمی دھماکے نعرہ تکبیر تھا۔ اللہ اکبر اس دن کو لازوال بنانے کے لئے اسے یوم تکبیر کا نام دیا گیا۔ یہ دن یوم پاکستان کی طرح اہم ہے۔
امریکہ نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں پر کوئی خاص اعتراض نہ کیا مگر ہمارے ان دھماکوں کے خلاف ایک پراپیگنڈا مہم شروع کی جو اس کی اہمیت کا سبب بن گئی۔ میرے دل میں یہ بات بھی ہے کہ امریکہ بھارت کی منافقت بے وفائی اور بزدلی کو جانتا ہے بزدل ظالم ہوتا ہے۔ امریکہ اندر سے چاہتا تھا کہ پاکستان ایٹمی دھماکے کرے۔ امریکہ پاکستان کے حوالے سے ایک چیک بھی بھارت پر رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کو پریشانی میں بھی رکھنا چاہتا ہے کہ پاکستان ایک طاقتور اسلامی ملک بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان میں عالم اسلام کا لیڈر ملک بننے کی اہلیت ہے۔ ان دھماکوں کے وقت آرمی چیف اور ڈاکٹر قدیر بھی موجود تھے۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی تھے۔ انہوں نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی ایک تقریب میں ولولے سے باتیں کی تھیں۔ ڈاکٹر قدیر تو محسن پاکستان ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے۔
میں نے سنا ہے کہ جب سعودی بادشاہ ایک ایٹمی تنصیب کے معائنے کے لئے تشریف لائے تو وزیراعظم نواز شریف آرمی چیف اور ڈاکٹر قدیر ساتھ تھے۔ نواز شریف نے خود کھانے کی پلیٹ سے ایک چیز اٹھا کے بادشاہ کو پیش کی تو انہوں نے نوازشریف کے لئے ممنونیت کے اظہار کے طور پر ان کا بوسہ لیا جو محبت کا سعودی اظہار ہے۔ سعودی عرب اور چین نے ایٹم بم بنانے اور ایٹمی دھماکوں کے لئے اپنی معاونت وقف رکھی۔
اتفاق کی بات تھی کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 28 مئی یوم تکبیر کے موقعے پر بلایا گیا تھا مگر نجانے یہ کس کی کوشش تھی کہ نئی منتخب حکومت کی شروعات یوم تکبیر کو نہیں ہونا چاہئے۔ اب یوم تکبیر کے موقعے پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی طرف سے خصوصی تقریب میں نوازشریف مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کر رہے ہیں۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر مجید نظامی کریں گے۔ یوم تکبیر ہر سال نظریہ پاکستان کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ے مگر اس یوم تکبیر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اب یہ تو طے ہے کہ نئی حکومت آنے والی ہے۔ نوازشریف سے گزارش ہے کہ یوم تکبیر کو ہزار دنوں کا دن بنا دیں تاکہ اس کی اہمیت دوستوں اور دشمنوں کو برابر محسوس ہو۔
جب ایٹمی دھماکے ہوئے تھے تو تھوڑے دنوں کے بعد امریکی وفد پاکستان کے دورے پر آیا۔ اس سے پہلے کچھ لوگوں نے یہ تاثر پھیلایا کہ نجانے امریکی کس طرح کا ردعمل ظاہر کریں گے مگر انہوں نے نہایت عاجزانہ اور دوستانہ رویہ اختیار کیا انہیں ہماری طاقت کا احساس ہو گیا تھا مگر اس کے بعد ہمارے حکمران کمزور ہو گئے۔ ایک دھڑکا سا دل میں ہے کہ ہم ایٹمی ملک ہوتے ہوئے اتنے ڈرے ہوئے کیوں ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ خاکم بدہن ہمارے پاس ایٹم بم ہے بھی کہ نہیں۔ مگر نئی حکومت بڑے جذبے اور نئے ولولے سے اپنا آغاز کر دی ہے۔ ہم امریکہ کو غیر دوستانہ فہرست میں نہیں رکھتے کہ بھارت سے لڑنا چاہتے ہیں۔ ایٹم بم چلانے کے لئے نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک ہتھیار ہے جس کی موجودگی میں جرا¿ت مندی کے ساتھ دنیا والوں کے سامنے ہم اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں۔ جس گھر میں بندوق ہو وہاں حملہ آوروں کو ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ چین کے ساتھ دوستی ایک نعمت ہے۔ ہم اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو نئے سرے سے مرتب کریں۔ ہمیں قومی بنیادوں پر آنے والے دنوں میں اپنی تعمیر و ترقی کا سفر منزلوں تک پہنچانا ہے۔