کرکٹ کھیل یا کاروبار؟

کالم نگار  |  حافظ محمد عمران

بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر سری نواسن نے مستعفی نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کرکٹ کرپشن میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی اور آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کیس میں پولیس کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہوئے ایک غیر جانبدار کمشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ سری نواسن کے داماد چنائی سپر کنگز کے چیف ایگزیکٹو گروناتھ میاپن بھی اعتراف جرم کر چکے ہیں۔ بی سی سی آئی نے بھی گروناتھ کو معطل کردیا ہے ۔ بھارتی ٹیسٹ کرکٹر سر سانتھ کی بکیز سے تحائف وصول کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ تین کرکٹرز اور بھارتی بورڈ کے سربراہ کے داماد کی گرفتاری اب تک اہم ترین ہے۔ جبکہ چند نمایاں بکیز بھی پولیس کے شکنجے میں آئے ہیں۔ اب کرس گیل کا نام بھی فکسر کرکٹرز کی فہرست میں آرہا ہے۔ بھارتی میدیا کے مطابق پاکستانی ایمپائر اسد رو¿ف بھی سپاٹ فکسنگ کا حصہ ہیں۔
۔ وہ کھلاڑی جن کے آٹوگراف لینا اور ان کے ساتھ تصویر بنانے کو فخر سمجھنے والے شائقین حیرت زدہ ہیں کہ ان کے پسندیدہ کھلاڑی اتنے سخت دل اور بے حس ہیں جو لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کے اعتماد کو مجروح کرنے، ان کے دل توڑنے اور سب سے بڑھ کر وہ کھیل جس نے انہیں عزت، شہرت اور دولت سمیت وہ سب کچھ دیا جسکی عام انسان صرف خواہش ہی کرسکتا ہے اس کھیل کی روح میں بھی بے رحمانہ انداز میں زخم لگائے جارہے ہیں۔
کرکٹ میں جس تیزی سے کرپشن کے واقعات سامنے آرہے ہیں اور جس تواتر سے کھلاڑی اس میں ملوث ہوتے نظر آرہے ہیں اس نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی حیثیت اور کردار کو مشکوک بنا دیا ہے کیونکہ آئی سی سی اس حوالے مو¿ثر کردار ادا کرنے اور کھیل کو کرپشن سے پاک صاف کرنے مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
آج شرفاءکے کھیل سے محبت کرنے والا ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔ جب کھلاڑیوں کو قانونی اور جائز طریقے سے اتنے پیسے ملتے ہیں کہ ناصرف وہ بلکہ ان کے اہل خانہ بھی پرتعیش زندگی گزار سکتے ہیں پھر وہ بے ایمانی کیوں کرتے ہیں۔ سفید کپڑوں کی جگہ رنگین کپڑوں نے لی، سرخ گیند پر سفید گیند حاوی ہوگیا۔ آج امپائر بھی کرپشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کھلاڑی سب سے آگے ہیں اور اب تو منتظمین کی بے ایمانی بھی دنیا کے سامنے آگئی۔ محسوس ہوتا ہے کرکٹ جو کبھی شرفا اور عوام الناس کا مقبول ترین کھیل اور تفریح سمجھا جاتا تھا اب یہ جرائم پیشہ لوگوں کا منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔