ننکانہ ،امرتسر ،دوستی بس۔مسافران ندارد!

کالم نگار  |  اثر چوہان

سِکھّوں کے پہلے گُرو ۔حضرت بابا نانک کی جائے پیدائش ۔” ننکانہ صاحب“۔سے ایک چھوٹی سی خبر اخبارات میں شائع ہُوئی ہے کہ ۔” ننکانہ صاحب سے بھارتی پنجاب کے شہر ۔” امرتسر“۔ تک چلنے والی ۔” پاک بھارت دوستی بس “۔ کو دونوں طرف سے مسافر نہیں مِل رہے“ ۔خبر کے مطابق 26مئی کو ، دوستی بس ۔ امرتسر سے خالی ،ننکانہ صاحب پہنچی اور ننکانہ صاحب سے مسافر نہ مِلنے کے باعث ،خالی ہی امرتسرواپس چلی گئی“ ۔ خبر کے مطابق ۔”بھارتی اور پاکستانی پنجاب سے مسافر نہ مِلنے کی وجہ سے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کا رپوریشن کے زیرِاہتمام ہفتے میںدو بار چلنے والی یہ دوستی بس اکثر خالی آتی جاتی ہے“ ۔یاد رہے کہ امرتسر میں سِکھّوں کی مقدّس عبادت گاہ ۔” ہرمندِر“۔( گولڈن ٹمپل )۔ہے، جِس کا سنگِ بنیاد ،سِکھوں کے پانچویں گُرو ۔گُرو ا رجن دیو جی کی فرمائش پر، ایک مسلمان درویش ۔قادریہ سِلسلے کے ولی، حضرت میاں میر صاحب لاہوریؒ نے 1588ءمیں رکھا تھا۔مُغل بادشاہ جہانگیر کے دَور میں ،اُس کے ہندو وزیر ۔دیوان چندُو لعل کی سازش سے ، گُرو ارجن دیو جی کے قتل کے بعد ،سِکھّوں اور مسلمانوں کے تعلقات ،ہر دَور میں کشِیدہ رہے ،یہاں تک کہ 1947ءمیں ،بھارت کی تقسیم کے وقت سِکھّوں نے، بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کِیا ، حالانکہ قائدِاعظمؒ کی طرف سے اُنہیں پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ تقسیم کے وقت سِکھّوں نے، مشرقی پنجاب میں10لاکھ مسلمانوں کو قتل کِیا اور50ہزار مسلمان عورتوں کو اغواءکِیا ۔بھارت میں رہ کر سِکھّوں کو احساس ہُوا کہ اُن سے غلطی ہو گئی ۔خاص طور پر وزیرِاعظم مسز اِندرا گاندھی کے دَور میں جب،جون1984ءمیں، بھارتی فوج نے، ٹینکوں سے۔” ہر مندِر“۔پر چڑھائی کر دی ۔پھِر پورے بھارت میں، ہزاروں سِکھّوں کو قتل کر دیا گیا۔ لاتعداد سِکھّوں نے بھارت سے فرار ہو کر بیرونی مُلکوں میں پناہ لے لی۔صدر جنرل ضیاءاُلحق نے، جالندھر کا مہاجر ہونے کے ناتے، سیاسی مصلحت سے کام لیتے ہُوئے ،سِکھّوں سے دوستی کی بنیاد رکھی۔پھِر بھارت اور پوری دُنیا میں آباد سِکھ یاتریوں کے وفود ،ننکانہ صاحب،پنجہ صاحب اور پاکستان میں سِکھّوںکے، دوسرے مقدّس مقامات کی زیارت ۔(تِیرتھ یاترا)۔ کے لئے آنے لگے ۔ذاتی سطح پر، چودھری ظہور الہیٰ مرحوم نے بھی، سِکھّوں سے دوستی پکّی کرنے میں اہم کردار ادا کِیا ۔ یہی وجہ تھی کہ ۔وزیرِاعلیٰ پنجاب ،چودھری پرویز الہیٰ ۔دسمبر2004ءمیں، ایک بہت بڑا وفد لے کر بھارت کے شہر ۔”پٹیالہ“۔ میں ہونے والی ۔” عالمی پنجابی کانفرنس“۔ میں شرکت کے لئے گئے ۔اِس موقع پر چودھری صاحب بہت سے ادیبوں ، شاعروں اور صحافیوں کو بھی ساتھ لے گئے جِن میں مَیں بھی شامل تھا ۔بھارتی سِکھّوں اور اُن سے دوستی کے خواہشمند، پاک پنجاب کے بعض دانشوروں نے، بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو ۔” سانجھا پنجاب“۔ بنانے کی باتیں کیں۔ لیکن مَیں تو، اپنی تقریر میں اُن کے گلے ہی پڑ گیا اور اپنے مُنہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اعلان کِیا تھا کہ ۔”پاک بھارت لکِیر کی بنیاد میں ،میرے بزرگوں کا خون شامل ہے اور مَیں یہ لکیر نہیں مٹنے دوں گا “۔عالمی پنجابی کانفرنس تو ناکام ہو گئی تھی ،لیکن اِس بہانے، پاک پنجاب میں سِکھّوں کی آمد بڑھتی گئی ۔کئی بار پاکستان ، بھارت اوردیگر مُلکوں میں، پنجابی کانفرنسیں ہوئیں ۔ اگست2011ءمیں کینیڈا کے شہر۔” ٹرانٹو “۔میں، گُر مکھی ہفتہ وار ۔” اجِیت“۔ کے مالک اور چیف ایڈیٹر سردار درشن سِنگھ بَینس ۔( جو، اب آنجہانی ہوچُکے ہیں)اُن کی پتنی ( بیوی) مسز کنول جِیت بَینس اور اُن کے بھائی سالسٹر،سردار عجائب سِنگھ چٹھّہ کے زیرِ اہتمام ، عالمی پنجابی کانفرنس ہوئی۔ جِس میں، پاک پنجاب سے بھی کئی شاعر ،ادیب اور دانشور شریک ہوئے ۔اِس کانفرنس میں ۔” پنجابی زبان مشترکہ جھنڈا “۔ لہرایا گیا اور قرارداد منظور کی گئی کہ۔” بھارتی اور پاکستانی پنجاب کے دانشوروں کا مشترکہ بورڈ بنایا جائے جو،اتفاق رائے سے ، پنجابی زبان میں سے اردُو ،عربی ،فارسی اور ہندی زبان کے الفاظ نکال دے“۔مَیں نے ،پنجابی زبان کے اپنے جریدہ ۔” چانن“ ۔ لاہور میں، ٹرانٹو کی عالمی پنجابی کانفرنس میں۔” پنجابی زبان کا مشترکہ جھنڈا لہرانے اور پنجابی میں سے اردُو، عربی اورفارسی الفاظ نکالنے کی قرارداد کی مذمّت کی اور سانجھے پنجاب کی تحریک کے خلاف پُر زور تحریک شروع کی۔ اور ۔ ”چانن“۔ کے نومبر 2011ءکے شمارے میں ،محترم مجید نظامی کا انٹر ویو شائع کیا ،جِس میں انہوں نے، پنجابی کے صوفی شاعروں کے حوالے سے، اُن کی خدمات کی تعریف کی اور پنجابی زبان کے فروغ کے لئے نیک خواہشات کا اظہار تو کِیا ،لیکن اُس کے ساتھ ہی ،پُرزور انداز میں کہا کہ۔” جیہڑے لوک ،سانجھے پنجاب تے، پاک بھارت سرحدی لکِیر نوں مِٹان دی گلّ کر دے نیں، اوہ اَیتھوں۔( پاکستان سے) ۔دفع ہو جان کیوں جے ایہہ لکِیر تے مستقل اے“۔افسوسناک بات یہ ہے کہ 23/22نومبر 2011ءکو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیرِاہتمام ،لاہور میں پھر ۔” عالمی پنجابی کانفرنس“۔ کا ڈھونگ رچایا گیا اور کینیڈا کی عالمی پنجابی کانفرنس کے منتظمین آنجہانی سردار درشن سِنگھ بَینس، سردار عجائب سِنگھ چٹھّہ اور دوسرے سِکھّوں کو سٹیج پر بٹھایا گیا اور تقریب سے پہلے اور بعد میں بھی اُ ن کے ساتھ، دامادوں اور بہنوئیوں کا سا سلوک کِیا گیا۔ پاک پنجاب میں،کئی شاعر ،ادیب اور دانشور ۔”سانجھے پنجاب “۔ کے علمبردار ہیںاور مہا راجا رنجیت سِنگھ۔(جِس نے بد چلنی کی وجہ سے، اپنی والدہ راج کَور ،کو قتل کر دیا تھا )۔ کو ۔” پنجابیوں کا ہِیرو“۔بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہمارے صوفی شاعروں نے، اپنی شاعری میں بلا تکلّف اردو ،عربی اور فارسی کے جو الفاظ استعمال کئے ہیں اُس کی وجہ سے ہی، ہر دَور کے پنجابیوں کے لئے پنجابی زبان کا قابلِ فہم رہی ہے۔پھِر اِن الفاظ کو ہم اپنی پنجابی سے کیسے خارج کر سکتے ہیں؟ ۔حکومتِ پنجاب کی سرپرستی میں چلنے اور پلنے والے پنجابی کے بعض رسالوں میں ۔” سِکھّی پنجابی“۔ کے الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے اور بھارت اور دیگر ملکوں کے سِکھ ادیبوں اور شاعروںکی تخلیقات بطورِ خاص شائع کی جاتی ہیں۔ شاید اِسی لئے ہماری نئی نسل پنجابی سے کنارہ کشی کرتی جا رہی ہے۔میاں شہباز شریف کو اپنے نئے دَور میں اِس اہم مسئلے پر توجہ دینا ہو گی ۔امرتسر اور ننکانہ صاحب ۔سِکھّوں کے مقدّس مقامات ہیں۔ اگر اِن دونوں شہروں کے درمیان چلنے والی۔” دوستی بس“۔کو مسافر نہیں مِلتے تو ہماری بلا سے۔ کیوں نہ ہم۔ لاہور سے جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں اور قصبوں میں جانے اور وہاں سے آنے والی بسوں کو ہی دوستی اور بھائی چارے کی بسیں بنا لیں ۔ جِن کے مسافروں کو آنے جانے کے لئے ۔” وِیزا“۔ بھی نہیں لینا پڑتا ۔