میاں صاحب !28 مئی والی تقریر اور تاریخ دہرائیں!

میاں نواز شریف ایک عرصے کے بعد یوم تکبیر سے خطاب کر رہے ہیں، یہ ایک اعزاز ہے جس کے وہ حقدار ہیں لیکن اس رزم نامے کے پیچھے کچھ با غیرت پاکستانیوں کے کردار کا ذکر بھی ضروری ہے۔
بھارت نے گیارہ مئی کو ایٹمی دھماکے کئے، پاکستان کو جوابی دھماکے سے روکنے کے لئے ایک دنیا حرکت میں آ گئی، امریکہ نے پیسوں کا لالچ دیا ، ساتھ ہی پاکستان میں ایک لابی سرگرم عمل ہو گئی کہ ہمیں بھارت کی کشتی میں سواری نہیں کرنی چاہئے، کسی نے کہا کہ ہماری ایٹمی صلاحیت کا سب کو پتہ ہے، اگر پیسے ملتے ہیں تو مال پانی بنا لینا چاہئے، دھماکوں سے گریز کرنا چاہئے۔بھارتی وزیر دفاع نے کہا کہ آگے بڑھ کر آزاد کشمیر کو ہڑپ کر لیں گے۔
میاں نواز شریف کے قدم شاید ڈگمگا جاتے مگر ایک با غیرت پاکستانی مجیدنظامی نے کہا کہ میاں صاحب ، آپ دھماکہ نہیں کریں گے تو قوم آپ کی حکومت کا دھماکہ کر دے گی۔ایک اور محب وطن نے تجویز دی کہ اگر پیسے ہی کمانے کا ارادہ ہے تو کندھوں پر۔۔ پرنا۔۔رکھ لیں اور بہنوں، بیٹیوں، بہو¶ں کو کوٹھوں پر بٹھا دیں۔میں نے بھی لکھا کہ ہمیں میر جعفروں اور میر صادقوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنا ہو گا۔
لیکن اس رزم نامے کا نہ تو یہ آغاز ہے ، نہ اختتام۔بھارت نے اپنے ایٹمی دانت 1974 میں دکھا دیئے تھے۔پاکستان شکست کے زخموں سے نڈھال تھاا ور دو لخت ہو چکا تھا۔ایک نئے پاکستان کا چارج پی پی پی کے بانی لیڈر ذو الفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے للکار بلند کی کہ گھاس کھائیں گے ، ایٹم بم بنائیں گے۔ایٹمی توانائی کمیشن کے منیر احمد خان اور ڈاکٹر عبدالسلام نے شروعات کیں ، ڈاکٹر عبد القدیر خان نے لازوال شاہنامہ رقم کیا۔بھٹو کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال دیا گیامگر ایٹمی پروگرام کا گلا کسی کو گھونٹنے کی ہمت نہیں ہو سکی ، افواج پاکستان کی نگرانی میںاسے تندہی سے آگے بڑھایا گیا۔ امریکی سفیر نے روزنامہ نیشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں سرخ بتی عبور کر چکا ہے۔اس سے قبل جنرل ضیا الحق بھی ایک امریکی جریدے ٹائم کو انٹرویو میں کہہ چکے تھے کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ روزنامہ نوائے وقت پنڈی کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر طارق وارثی بھی اپنے اخبار کو ڈاکٹر قدیر کے حوالے سے لیڈ اسٹوری دے چکے تھے کہ پاکستان نے ایٹمی اسلحے کی تیاری کے لئے یورینیم کی افزودگی کی منزل حاصل کر لی ہے۔
یہی وہ وقت ہے جب بھارت نے براس ٹیک نامی جنگی مشقیںشروع کیں۔ ان مشقوں میں روائت سے ہٹ کر اصلی گولہ بارود اور دشمن ملک، پاکستان کے حقیقی ٹارگٹ سامنے رکھے گئے تھے۔مشقوں کی آڑ میں بھارت نے اپنی فوجیں سرحد پر جارحانہ عزائم کے ساتھ متعین کر دیں ، پاکستان کو بھی جواب میں اپنی فوج نکا لنا پڑی، یہ وہ وقت ہے جب ایک بار پھرنوائے وقت ،نیشن گروپ نے لیڈ لی اور عارف نظامی اور کلدیپ نیئر نے مشترکہ خبر شائع کی کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے۔ جنرل ضیاا لحق نے جہاز پکڑا اور جے پور جا اترے ، جہاں پاک بھارت کرکٹ میچ ہو رہا تھا۔بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو پروٹو کول کی پابندی کے باعث وہاں آنا پڑا۔ ضیا الحق کی دلچسپی کرکٹ میں کم تھی اور وہ را جیو کے کان میں کھسر پھسر زیادہ کر رہے تھے۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خبر دار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کوئی شرارت کی تو لالہ جی! ہم ایٹم کا استعمال کریں گے۔اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی سرحد سے تناﺅ ختم ہو گیا۔ 1999 میں کارگل میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑ گئی، بھارت کے جہازوں نے پاکستان کی سپلائی لائن منقطع کرنے کے لئے کنٹرول لائن پار کی تو آن واحد میں پاک فضائیہ نے بھارت کے دو طیارے بھسم کر دیئے۔ پھر ساری جنگ کارگل کی چوٹیوں تک محدود رہی۔ لیکن دنیا کے لئے یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کشمیر کا مسئلہ کسی وقت بھی بر صغیر میں ایٹمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔یہی کچھ2002 میںایک بار پھر ہوا جب نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ بھارت نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، اپنی افواج کوپاکستان کی سرحد پر جمع کر دیا۔پاکستان نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی تھیں۔اس نے ایٹمی میزائل عین سرحد کے اوپر نصب کر دیئے، دنیا بھر کے سٹیلائٹ واضح طور پر یہ سب کچھ مانیٹر کر رہے تھے اور یوں عالمی دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں کہ بر صغیر میں ایٹمی تصادم ہونے والا ہے۔بھارت نے اپنی فضائی حدود پاکستانی طیاروں کے لئے بند کر دی تھی اور جواب میں پاکستان کو بھی ایسا ہی قدم اٹھانا پڑا، اسی ماحول میںنیپال میں سارک کانفرنس ہوئی جہاں پہنچنے کے لئے جنرل مشرف کو چین کے اوپر سے ایک طویل اور پر خطر فضائی روٹ اختیار کرنا پڑا جس میں جہاز کی نیوی گیشن چینیوں کے ہاتھ میں چلی گئی تھی۔جنرل مشرف نے تقریر کے بعد اچانک اپنا ہاتھ اگلی صفوںمیں بیٹھے ہوئے واجپائی کی طرف بڑھا دیا۔اس مصافحے نے بھارتی افواج کو سرحدی مورچوں سے پسپا کردیا۔مگر ممبئی سانحے کے بعد بھارت نے پھر طبل جنگ بجا دیا، اس کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو سرجیکل اسٹرائیک کا اختیار ہے تو وہ بھی پاکستان میں کشمیری حریت پسندوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنائے گا۔ ادھر بھارتی فضائیہ کے جہاز فضاﺅں میں بلند ہوئے، ادھر پاک فضائیہ کے سرفروش سرحد پر گشت کرنے لگے، ہر ایک کو معلوم تھا کہ دونوں طرف کے جہاز ایٹمی اسلحے سے لیس ہیں۔ مگرپاکستان نے جس طرح سینہ تان کر بھارت کا جواب دیا ، اس سے بھارت کو پہل قدمی کی جرا¿ت نہ ہو سکی۔
آج کے دن ہم سینہ پھلا کر اپنی جمہوریت پر فخر کر رہے ہیں، اور جمہوریت کی شکل بھی اپنی اپنی ہے، مگر ایٹمی پروگرام کی حد تک یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جس برانڈ کی بھی جمہوریت تھی یا فوجی آمریت تھی، ہر ایک نے اس پروگرام میں اپنا حصہ ڈالا، بھٹو، ضیا، اسحاق، محترمہ بے نظیر، نواز شریف ،لغاری اورمشرف، سبھی نے اپنا قومی فرض ادا کیا ، ان سب نے پاکستان کو بیرونی جارحیت سے محفوظ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اندرونی پالیسیوں پر اختلاف رائے ہواہوگا اور سب نے غلطیاں کی ہوں گی مگر ملک وقو م کے دفاع پر کسی کے قدم پیچھے نہیں ہٹے۔سبھی قدم سے قدم ملا کر چلے۔
میاںنواز شریف آج اگر کوئی نئی تقریر نہ کریں اور اپنی وہی تقریردہرا دیں جو انہوں نے ایٹمی دھماکوں کے بعد کی تھی اور اسی کوقومی ایجنڈہ اور منشور بنا لیں تو وہ تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے رقم کر سکیں گے۔ انہوں نے اس تقریر میں بہت کچھ کہا تھا مگر مجھے ایک بات رہ رہ کر یاد آتی ہے کہ قوم نے ایک وقت کی روٹی کھائی تو میرے بچے بھی کھائیں گے۔
یہ وعدہ پورا کرنے کا وقت آ ج ہے۔ میاں صاحب !اپنے بچوں کو لوڈ شیڈنگ سے سلگتے پاکستان میں تو لایئے!