اگر آپ نے دھماکہ نہ کیا تو عوام آپ کا دھماکہ کردیں گے: مجید نظامی

کالم نگار  |  محمد مصدق

28 مئی پاکستان کی تاریخ کا ایک تابناک اور یادگار دن، جب تمام مغربی دنیا کی معلومات کے برعکس پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے اپنے آپ کو دنیا کے ایٹمی کلب کا ممبر بنالیا۔ یقینا اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے خاص خاص صاحب رائے افراد سے رابطہ کیا اور دھماکہ کرنے یانہ کرنے کے بارے میں ان کی رائے طلب کی۔ مجیدنظامی نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا: ”میاں صاحب اگر آپ نے ایٹمی دھماکہ نہ کیا تو پھر عوام آپ کا دھماکہ کردیں گے“ صاف ظاہر ہے کہ مجید نظامی کی رائے کی وہی مثال تھی کہ ہاتھی کے پاﺅں میں سب کا پاﺅں۔ چنانچہ محمد نواز شریف نے جرا¿ت سے کام لیتے ہوئے 28 مئی کو ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم دے دیا اور یوں پاکستان کا پرانا دشمن بھارت، جو روزانہ بڑھکیں مارتا تھا اور پاکستان کے خلاف کوئی نہ کوئی معاندانہ بیان دیتا رہتا تھا کیونکہ ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد انڈیا اپنے آپ کو جنوبی ایشیا کی سب سے سپرپاور سمجھنے لگا تھا، لیکن پاکستانی ایٹمی دھماکوں کے بعد انڈین قیادت کی بولتی بند ہوگئی اور مخالفانہ پروپیگنڈہ کی جگہ دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی باتیں شروع ہوگئیں۔
ویسے حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا آج تک ہاتھ مل رہی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حقیقت جاننے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور کیوں نہیں لگایا، لیکن اب کیا ہوت جب چڑیا چگ جائے کھیت۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف زبردست معاندانہ پروپیگنڈہ مغرب نے کیا، اس سلسلہ میں بی بی سی نے ایک زبردست دستاویزی فلم ”پراجیکٹ 706! دی سٹوری آف اسلامک بم“ بناکر دنیا کو پریشان کردیا، لیکن سچ تو یہ ہے کہ آج ہمیں ان بہت سے ناموں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جنہیں ہم جانتے ہیں اور وہ بھی جن کے بارے میں ہماری اطلاعات نہیں ہیں۔
گزشتہ پانچ سال میں پاکستان کی معیشت پر بہت مضبوط حملہ کیا گیا تاکہ دنیا کو پاکستان میں خانہ جنگی کا تاثر دے کر اقوام متحدہ یا اس کے کسی ادارے کی چھتری کے نیچے آکر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو لپیٹ دیا جائے، لیکن اللہ کی خاص رحمت ہے کہ نظریاتی مملکت ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کے صبر اور عزم و یقین سے برے دن ختم ہوگئے، لیکن ان افراد سے حساب لینا ضروری ہے جنہوں نے جان بوجھ کر پاکستانیوں پر اتنے ظلم ڈھائے۔
پانچ سال پاکستان انرجی انرجی کرتا رہا، لیکن عملی طور پر کھلم کھلا پاکستان کی امداد کے لئے صرف دو تین ملک سامنے آئے اور ظلم دیکھئے کہ عرب امارات کا بجلی گھر کا تحفہ جو 250 میگاواٹ کا ہے، وہ ڈبوں میں بند پڑا ہے کہ کہیں بجلی کے بحران میں کمی نہ آجائے۔
آج تحریک کارکنانِ پاکستان اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام یومِ تکبیر پر ایک خوبصورت محفل سجائی جارہی ہے جس کی صدارت مجید نظامی اور مہمان خصوصی محمد نواز شریف ہوں گے۔ اس اہم ادارے کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے کسی بھی 28 مئی کو یوم تکبیر کو فراموش نہیں کیا۔
اب امریکہ نے نئی پاکستانی قیادت کو دعوت دی ہے کہ وہ توانائی کے شعبہ میں بتائیں کہ امریکہ کیا تعاون کرے۔ نئی قیادت کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ صرف انڈیا کے برابر سٹیٹس حاصل کرے اور اس کی طرح عالمی ایٹمی تنظیم کا ممبر بنا دیا جائے تاکہ پاکستان ایٹمی شعبہ میں تیزی سے ترقی کرنے کے لئے دنیا بھر سے کھل کر تجارت کرسکے، جس طرح انڈیا نے فرانس سے دس ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے ایٹمی بجلی گھر کا معاہدہ کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی جس ملک سے چاہے ایٹمی بجلی گھر قائم کرنے کے لئے معاہدے کرسکے۔
شاید آج محمد نواز شریف یوم تکبیر کے موقع پر ہی اعلان کردیں کہ انہوں نے پاکستان سے لوڈشیڈنگ کے جن کو بھگانے کے لئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں ورنہ پانچ جون کو وزیراعظم بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں وہ خود بتادیں گے کہ ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کو ناقابل تسخیر ہم نے بنایا، اب معاشی دھماکہ کرکے ایک خوشحال پاکستان کی بنیاد بھی پاکستان مسلم لیگ رکھے گی۔