جلد پتہ چل جائے گا

کالم نگار  |  جاوید صدیق
جلد پتہ چل جائے گا

نوے کی دہائی میں جب ہارس ٹریڈنگ زوروں پر تھی تو پیر مردان شاہ پگارا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مجھے ایک ارب روپیہ دے دیں تو میں پوری اسمبلی کے ارکان کو خرید کر اپنی مرضی کا وزیراعظم بنا سکتا ہوں۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے میرے ایک دوست سابق وفاقی وزیر اور سابق سینیٹر نے مجھے جنرل مشرف کے دور میں بتایا تھا کہ انہوں نے جنرل مشرف سے کہا ہے کہ اگر وہ اجازت دیں تو خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت کی جگہ مسلم لیگ (ق) کی حکومت بنوا سکتے ہیں لیکن جنرل مشرف نے سینیٹر صاحب سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ 1989ءمیں جب سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تو یہ تحریک بے نظیر بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کے دو ارکان کی وفاداریاں خرید کر ناکام بنائی۔ تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے بعد جب وزیراعظم بے نظیر بھٹو اسمبلی ہال سے نکل کر اپنے چیمبر کی طرف جا رہی تھیں تو انہوں نے اپنے وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر سے کہا تھا "GENERAL IT WAS A MIGHTY CLOSE CALL"
پاکستان کے عوام کو چھانگا مانگا‘ مری اور میریٹ ہوٹل اسلام آباد کے وہ مناظر یاد ہوں گے جب ارکان اسمبلی کو یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان میثاق جمہوریت پر دستخط ہونے کے بعد ارکان اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے کا سلسلہ رک گیا۔ 2008ءکے انتخابات کے بعد ارکان کی خرید و فروخت کا رجحان ختم ہو گیا ہے البتہ سینیٹ کے انتخابات میں یہ رجحان جاری رہا ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی تھی جس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایک باریش رکن کو سینیٹ انتخابات کے بعد نئی ٹویوٹا کار کے ساتھ کھڑا دکھایا گیا تھا یہ کار انہیں سینیٹ کے انتخاب کے دوران ملی تھی۔ سینیٹ کے گزشتہ انتخابات میں ارکان کے ووٹ خریدنے کی بازگشت سنی گئی تھی۔ اس مرتبہ سینیٹ کے انتخابات میں جب فاٹا اور خیبر پختونخوا میں ووٹوں کی قیمت لگنے کی باتیں شروع ہوئیں تو حکومت کی طرف سے یہ پیشرفت ہوئی کہ سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے خفیہ ووٹنگ کی بجائے ووٹنگ کا اوپن طریقہ کار اپنایا جائے۔ وزیراعظم نے جمعہ کے روز پارلیمانی گروپوں کے سربراہوں کا اجلاس بلایا تاکہ ووٹوں کی خرید و فروخت کو روکنے کے لئے اتفاق رائے سے کوئی طریقہ کار طے کیا جائے۔ گزشتہ روز اڑھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں سینیٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے آئینی ترمیم پر اتفاق رائے نہ ہو سکا نہ ہی ووٹنگ اوپن طریقے پر اتفاق ہوا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جو سینیٹ کے شفاف انتخابات کے لئے واویلا کر رہی تھی اجلاس میں جا کر اس نے اس معاملے پر چپ سادھ لی اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمیں اپنے ارکان پر مکمل اعتماد ہے وہ کسی ہارس ٹریڈنگ کا حصہ نہیںبنیں گے۔ کچھ باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سینیٹ میں 2 یا 3 نشستیں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم‘ اے این پی‘ تحریک انصاف نے گھوڑوں کی خرید و فروخت کو روکنے کے لئے مختلف اقدامات کی حمایت کی لیکن پی پی پی اور بعض دوسری جماعتوں کے طرز عمل کی وجہ سے آئینی ترمیم پر اتفاق نہ ہو سکا فی الحال ووٹنگ کا پرانا طریقہ ہی بحال ہے۔ خفیہ ووٹنگ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتیں اگر ووٹوں کی خرید و فروخت کو روکنا چاہتیں تو یہ ایک اچھا موقع تھا کہ وہ آئینی ترمیم کر لیتیں یا پھر خفیہ ووٹنگ کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کر دیتیں اب سینیٹ کے انتخابات میں لین دین کے امکانات موجود رہیں گے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ووٹ کی قیمت 5 کروڑ سے بھی زیادہ ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ فاٹا کے ایک سیاسی دوست نے ازراہ تففن کہا کہ فاٹا کے ارکان کوترقیاتی فنڈ بھی نہیں مل رہے وہ کیا کریں۔ جلد پتہ چل جائے گا کہ درون خانہ کیا ہوا۔