بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کا عزم

بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کا عزم

تین روز پہلے میںنے لکھا تھا کہ بھارت کو اس کی زبان میں جواب دیا جائے۔ نوائے وقت کے پرانے لکھاری ابو ذر غفاری نے فون کر کے کہا کہ حوریں تمہارا جنت میں انتظار کر رہی ہیں، جلدی کرو ، کہیں لیٹ نہ ہو جائو۔ میرا جواب تھا، مجھے اگلے جہان تو جانا ہے، اس سے کسی کو مفر نہیں، دہشت گردوں کے ہاتھوں جائوں یابھارت کے ہاتھوں جائوں۔
کل کے کالم میں مَیں نے واویلا کیا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ سے قوم کو ہراساں کیا جا رہا ہے، دہشت گرد تو کر ہی رہے ہیں، ہماری افسر شاہی بھی اس کام میں پیچھے نہیں۔ سموں کی چیکنگ اور کئی دوسرے اقدامات سے ملک میں ایک خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی گئی ہے، اس پر جناب صولت رضانے تبصرہ کیا ہے کہ جنگوں میں بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ آپ ابھی سے پریشان کیوں ہو گئے، میرا جواب یہ ہے کہ میں نے 65ء اور 71ء کی دو بڑی جنگیں دیکھی ہیں۔ پینسٹھ کی جنگ میں زندہ دلان لاہور شہر کی چھتوں پر چڑھ کر ڈاگ فائیٹ کا نظارہ کرتے تھے، کوئی خو ف وہراس نہ تھا، اکہتر کی جنگ میں ہماری فضائیں بھارتی مگ طیاروں کے کنٹرول میں تھیں اور وہ کم از کم پانچ سو پونڈ وزنی بموں سے لیس تھے جبکہ ایک دہشت گرد چند کلو بارود بمشکل اٹھاتا ہے مگر 71ء میں بھی کوئی شخص اس قدر ہراساں نہیں تھا جتنا اسے آج کر دیا گیا ہے، خاص طور پر پشاور سانحے کے بعد لڑائی لڑنے کے لئے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے، ایسی کمیٹیاں نہ تو پاکستان کو پانی کے قحط سے بچا سکیں، نہ ایک میگا واٹ بجلی کا اضافہ کر سکیں، یہ لڑائی کیا لڑیں گی، دنیا میں کوئی لڑائی کسی کمیٹی نے نہیں لڑی، سپاہ سالار لڑتا ہے، خالد بن ولیدؓ نے لڑی، عقبہ بن نافعؓ نے لڑی، صلاح الدین ایوبی نے لڑی، طارق بن زیاد نے لڑی، بابر نے لڑی، غوری اور ابدالی نے لڑی مگر اب جنگ کا مسئلہ بھی ایک کمیٹی اور پھر تہہ در تہہ ذیلی کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے، امریکہ کا بھی نائن الیون ہوا تھا، بھارت میں ممبئی ہوا، پارلیمنٹ کا سانحہ بھی ہوا، کتنی کمیٹیاں بنیں۔ کوئی بھی نہیں۔
65ء اور 71ء میں ہم نے بھارتی بمباروں کے نشانے سے بچنے کے لئے اپنی فضائوں میںکوئی فولادی چھت نہیں تانی تھی تو آج ہم نے ہر سڑک ، ہر دفتر کے سامنے فصیلیںکیوں کھڑی کر دی ہیں، ہم نے جس قسم کی جنگ کی تیاری کی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ساری جنگ اپنے گھروں اور دفتروں کی دہلیز پر لڑنا چاہتے ہیں، جبکہ دشمن کہیں سرحد پار سے آتا ہے، کیوں ہم اس جنگ کو دشمن کی سرزمین پر لڑنے کی تیاری نہیں کرتے، پاک فوج نے ضرب مومن کے نام سے ایک جنگی مشق کی تھی جس میں یہ ثابت کیا تھا کہ بھارت نے آئندہ کوئی جارحیت کی تو ہمارے پاس اس قدر ریزرو فوج موجود ہے جس کی مدد سے ہم بھارت کے اندر دو سو کلو میٹر تک گھس سکتے ہیں تو یہ ضرب مومن کی فائل کیا اسلم بیگ یا حمید گل صاحب ریٹائر منٹ کے ساتھ گھر لے گئے۔
شکر ہے کہ اس مایوسی کی فضا میں ہمارے سپاہ سالار نے ورکنگ بائونڈری ا ور کنٹرول لائن کے ان مقامات کا دورہ کیا جو پچھلے نو ماہ سے بھارتی جارحیت کا شکار چلے آ رہے ہیں اور میرے اپنے اخبار نوائے وقت کی لیڈ کے مطابق انہوںنے کہا ہے کہ کوئی خوش فہمی میں نہ رہے، ہم بلا اشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیں گے، ساتھ ہی انہوںنے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی کارروائیوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے توجہ ہٹانا ہے۔
ان الفاظ سے قوم کو ایک حوصلہ ملا ہے کہ کم از کم پاک فوج کو خطرے کااحساس ہے اور وہ اس کامنہ توڑ جواب دینے کے لئے پُرعزم ہے۔
بعض لوگ مجھ جیسے افراد کو جنگ جو قرار دیتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ہم نسیم حجازی کے ناولوں کے نشے میں دھت ہیں۔ یہ طعنہ مجھے تو قبول ہے۔ مگر بھارت کے لئے بھی تو زبان کھولیں جو قیام پاکستان سے شیطنت پر آمادہ ہے، اس نے پنجاب کی سرحدوں کو بدلا اور لاکھوں مہاجرین کا قتل عام کیا، اس نے جوناگڑھ اور حیدر آباد پر قبضہ جمایا اور پھر کشمیر میں فوجیں اتاریں جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے آٹھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت جنگجو نہیں، کیا اس نے مہا بھارت نہیں پڑھ رکھی، مودی کا ماضی گواہ ہے کہ وہ مسلمانوں کا خون پی چکا ہے، امریکہ نے اسے دہشت گرد کہہ کر ویزہ دینے سے انکار کئے رکھا۔ بھارتی فوج کا ایک کرنل سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ لگانے کا مرتکب ہوا جس میں کئی مسافر کوئلہ بن گئے، اب بھارتی کوسٹ گارڈ کا ایک افسر اعتراف کر رہا ہے کہ ا س نے پاکستانی کشتی کو بلاوجہ آگ لگا کر غرق کر دیا۔ ہمارا وزیر دفاع کہتا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را، پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوںمیں ملوث ہے اور اس پر کنٹرول کئے بغیر پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بھارتی را کو یہ کھلی چھٹی کیوں ملی کہ وہ پاکستان کو اپنی چراگاہ بنا لے۔ صرف اس لئے کہ ہم نے اپنی آئی ایس آئی کے پر کاٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وگرنہ اس آئی ایس آئی سے ایک  دنیا لرزہ بر اندام تھی مگر ہم نے اسے کبھی تو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کے احکامات جاری کئے، کبھی ہمارے وزیر اعظم، پنجاب کے چیف منسٹر، وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ کو لے کر اس کے ہیڈ کوارٹر میں پہنچ گئے صرف یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ یہ ادارہ ان کے ماتحت ہے۔ حکومت کے ماتحت اتنے ادارے ہیں جو اس سے چلتے نہیں اور ایک چلتے ادارے کو ٹھس یا ٹھپ کرنے کی خواہش۔ قربان جائوں۔
ہمارے آرمی چیف نے ٹھیک کہا ہے کہ بھارت کو اس کی زبان میں جواب دیا جائے گا، وہ زبان جسے وہ خود استعمال کرتا ہے۔ بھارت کو جب تک یہ معلوم نہیں ہو گا کہ پاکستان اس کو ترنت جواب دینے کیلئے تیار ہے تو وہ مذکرات کی میز پر بیٹھ کر بھی ہمیں دھوکہ دے کر چلا جائے گا۔ بھارتی سیکرٹری شوق سے پاکستان آئیں ، جی آیاں نوں! مگر انہیں پاکستانی عزم و ارادے سے بھی آگاہ ہونا چاہئے۔ آرمی چیف نے یہی فریضہ ادا کیا ہے۔