ایک بڑے انسان ایک بڑے پاکستانی

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
ایک بڑے انسان ایک بڑے پاکستانی

جسٹس رانا بھگوان داس انتقال کر گئے۔ وہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے لئے وکلا مہم کے دوران پاکستان کے لوگوں کے لئے معروف ہو گئے۔ محترم زیادہ ہوئے۔ انہوں نے جرات دکھائی مگر جرات حکمت کے ساتھ دکھائی ہم پہلے انہیں نہیں جانتے تھے اور ایک سچے جج کا یہی رویہ ہوتا ہے کہ وہ عام لوگوں کی دسترس میں نہ ہو۔ ہمارے مسلمان ججوں کے تو ریمارکس اس طرح شائع ہوتے ہیں جس طرح سیاستدانوں کے بیانات شائع ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس کی بحالی کے لئے مہم کے دوران جسٹس رانا بھگوان داس کا کردار بہت پسندیدہ اور حوصلہ افزاء رہا۔ چیف جسٹس افتخار چودھری بحال ہو گئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا زیادہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ یہ کہانی یہیں پر چھوڑتے ہیں۔ بس یہ جملہ کافی ہے کہ جسٹس رانا بھگوان داس ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لوگوں کے لئے عزت کے قابل رہے۔
ان سے تعارف نامور قانون دان ایڈووکیٹ دانشور محترم ایس ایم ظفر کی ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان کے سالانہ ایوارڈ کی تقریب میں ہوا۔ یہاں ہر سال جینوئن لوگوں کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ ایوارڈ یافتگان کی فہرست میں جسٹس رانا بھگوان داس کا نام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی بلکہ سرخوشی ہوئی۔ اور دل سے ظفر صاحب کے لئے دعا نکلی۔ یہ تقریب لاہور والوں کے لئے ایک نمائندہ اور یادگار تقریب ہوتی ہے۔ پورے پاکستان کے اہم لوگوں کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے۔ مجھے جسٹس رانا صاحب سے ملاقات نہیں بھولتی۔ ایوارڈ کی ایک تقریب میں ملالہ یوسف زئی کے ساتھ زخمی ہونے والی دو لڑکیوں سے ملاقات نہیں بھولتی۔ وہ معصوم اور بہادر لڑکیاں اتنی خوش تھیں کہ ملالہ یوسف زئی نوبل پرائز لیتے ہوئے بھی اتنی خوش نہیں ہوں گی۔ ملالہ یوسف زئی خراج تحسین کی مستحق ہیں کہ اس نے ناروے میں ان دونوں سہیلیوں کو بلوایا اور اپنے ساتھ رکھا۔ ایس ایم ظفر صاحب نے سوات سے لاہور میں اس سے بہت پہلے ان دونوں کو بلوایا تھا۔ یہ اقدام بھی بہت قابل تعریف ہے۔ شازیہ اور کائنات بھی اب لندن شفٹ ہو چکی ہیں مگر انہیں پاکستان کو کسی صورت نہیں بھولنا چاہئے۔ ظفر صاحب اور ان کے ساتھیوں کو ان باتوں کا خیال کیسے رہتا ہے؟ وہ ان لوگوں کو پاکستان میں کیسے تلاش کرتے ہیں۔ ان ایوارڈز کی کریڈیبلٹی اتنی گہری ہے کہ لوگ یہ ایوارڈ پا کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ سینئر صحافی اور بہادر انسان برادرم خاور نعیم ہاشمی نے جب شہید ولی بابر کا ایوارڈ وصول کیا تو کہا کہ میں نے ذاتی طور پر سرکاری ایوارڈ بھی وصول کئے ہیں مگر آج اپنے ایک شہید ساتھی کے لئے یہ قابل قدر ایوارڈ وصول کرتے ہوئے مجھے زیادہ خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ اس سوسائٹی میں کام کرنے والوں میں مہناز رفیع ہمایوں احسان احمد میاں شکوری تنویر عباس تابش جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس فاروق سعید خواجہ، سید عاصم ظفر اور کئی دوسرے دوست شامل ہیں۔ ایک بار روشانے ظفر کو بھی ایوارڈ دیا گیا۔ یہ شاندار اور قابل خاتون ایس ایم ظفر کی بیٹی ہیں۔ تب ایوارڈ دینے والی کمیٹی میں ظفر صاحب شریک نہیں ہوئے تھے۔ روشانے ظفر ایک بہت کامیاب اور بے مثال ورکنگ لیڈی ہیں۔ اس شعبے میں خواتین کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ایوارڈ کی اس تقریب میں جسٹس رانا بھگوان داس سے سرسری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بڑی شفقت کی اور کہا کہ میں نوائے وقت کا پرانا قاری ہوں۔ آپ کا کالم ’’بے نیازیاں‘‘ بھی پڑھتا ہوں۔ نوائے وقت قومی اخبار ہے۔ میں نے کہا کہ پھر تو آپ نوائے وقتئے ہیں۔ انہوں نے جملے کو انجوائے کیا تو میں نے انہیں کہا کہ یہ مرشد و محبوب ڈاکٹر مجید نظامی کی اختراع ہے۔ وہ نوائے وقت سے پیار کرنے والوں کو نوائے وقتئے اور خواتین کے لئے نوائے وقتن کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ جنرل مشرف نے بھی یہ لفظ کہیں سے سن لیا تھا۔ ان کی ماں نوائے وقت پڑھنے والی تھی اور جنرل مشرف کو مختلف خبروں اور تحریروں سے باخبر رکھتی تھیں۔ جنرل مشرف نے اپنی ماں کے لئے نوائے وقتن کا لفظ نظامی صاحب کی موجودگی میں استعمال کیا تھا۔ جنرل صاحب انہیں خوش کرنا چاہتے تھے۔ یہ خوشی کی بات تھی مگر جب جنرل نے انہیں کچھ کہنے کے لئے کہا تو نظامی صاحب نے کہا کہ آپ نے امریکی وزیر خارجہ کی سب باتیں مان کے ہمیں بہت خوار کیا تو مشرف نے کہا کہ آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔ نظامی صاحب نے فرمایا کہ میں آپ کی جگہ کیوں ہوتا۔ میرے لئے ادارت کی کرسی صدارت کی کرسی سے زیادہ شاندار اور عزت والی ہے۔ میں نے اپنا کام خلوص اور جرات کے ساتھ کیا ہے اور پھر کہا کہ جنرل صاحب آپ بھی اپنی جگہ پر ہوتے تو کبھی ہمارا یہ حال نہ ہوتا۔ آپ آرمی چیف کی اپنی جگہ سے صدر کی جگہ پر قابض ہوئے اور آرمی چیف کی جگہ پر بھی اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ جنرل مشرف دم بخود رہ گیا اور پھر کبھی نظامی صاحب کا سامنا نہ کیا۔
رانا بھگوان داس کے لئے تعارفی تحریر سابق پرنسپل کنیئرڈ کالج دلیر خاتون پروفیسر میرا فیلبوس نے پڑھی۔ رانا صاحب فارسی کے بہت اچھے شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ میں نہ ہندو ہوں نہ مسلمان۔ میں ایک انسان ہوں اور پاکستانی ہوں۔ ان کا یہ جملہ حاضرین نے بہت انجوائے کیا کہ ہندو مجھے ہندو نہیں مانتے اور مسلمان مجھے مسلمان نہیں سمجھتے۔ وہ ایک بڑے انسان تھے اور بڑے پاکستانی تھے۔