اقبال کور۔۔۔!

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
اقبال کور۔۔۔!

گوری رنگت کی وجہ سے اس کے گھر والے اسے پیار سے گوری کہتے ہیں۔گوری کے سٹور پر آئی ہوئی خواتین خریدو فروخت میں مصروف تھیں۔ہر طرف پنجابی اور اردو سنائی دے رہی تھی۔ گوری ہماری جانب متوجہ ہو ئی تو گپ شپ لگانا شروع کر دی۔ ”دیدی میرے بچے کہتے ہیں کہ ماما آپ شکل سے مسلمان لگتی ہیں‘ کیا واقعی دیدی میں شکل سے مسلمان نظر آتی ہوں ؟ در اصل میرے دادا کا تعلق لاہور سے تھااور میرے پاپا جی بھی لاہور میں پیدا ہوئے،تقسیم ہند کے بعد ہمارا خاندان انڈیاراجستھان منتقل ہو گیا۔ میں راجستھان کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوئی ۔اس گاﺅں میں صرف ہمارا سردار گھرانہ آباد تھا۔ دادا جی نے میرا نام ”اقبال “ رکھا ۔ میں اقبال کور ہوںمگر گھر اور باہر مجھے سب گوری کہتے ہیں۔ اقبال نام میرے دادا جی کو پسند تھا ،میرے پاپا اردو لکھتے پڑھتے تھے، لاہور کو بہت یاد کرتے تھے ،پاکستان کے لوگ پیار کرنے والے ہیں‘ ۔ اقبال کور نے بتایا کہ وہ بھی چیمہ ہے،پھر حیرانی سے بولی کہ دیدی آپ تو سردار نہیں پھر مسز چیمہ کیسے ہو گئیں ؟ ہم نے جاٹ قبائل کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے بتایا کہ جاٹ برادری سکھوں سے ہو یا مسلمانوں سے،مذہب تبدیل ہونے سے قبیلہ یا ذات تبدیل نہیں ہو جاتی۔ اقبال کے نام کے پس پشت اس کے دادا کی ڈاکٹر اقبال سے محبت معلوم ہوتی ہے۔اقبال کور مسکراتے ہوئی بولی ’ اسی لیئے میں چہرے سے مسلمان معلوم ہوتی ہوں۔ گپ شپ کرتے ہوئے اسے ایک کہانی یاد آگئی اور بولی’ ہمارے انڈیا میں ایک مسلمان لڑکی کو ایک ہندو لڑکے سے محبت ہو گئی اور دونوں نے شادی کا ارادہ کر لیا۔ لڑکے کے خاندان نے اس شرط پر حامی بھر لی کہ لڑکی پوجا پاٹ میں شریک ہوا کرے گی ، لڑکی راضی ہوگئی لیکن لڑکی کے خاندان نے اس کو اپنی زندگی سے بے دخل کر نے کی دھمکی دے دی۔ لڑکی چند روز پوجا میں شریک ہو تی رہی مگر اس کامذہب اس کی محبت پر غالب آگیا اور اس نے پوجا پر جانا چھوڑ دیا۔ اس پر ہندو خاندان نے لڑکی کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔حالات زیادہ بگڑ گئے تو لڑکی نے خود کشی کر لی۔ پھر خود ہی بولی ’ مذہب سے باہر شادی بھی خود کشی کے مترادف ہے ۔ اقبال کور گپ شپ لگانے کے موڈ میں تھی،بولی ’ پاکستانی خواتین شاپنگ اور بناﺅ سنگار کی بہت شوقین ہیں ،ان کے شوہر بھی ان کے خوب نخرے اٹھاتے ہیں۔ اور میرا سردار شوہر سارا پیسہ نشے میں گنوا دیتا ہے ،ہم بھارتی بیویاں اکثر محنت مزدوری کرتی ہیں۔ پاکستانی شوہر بیویوں کو کام کرنے کے لیئے نہیں کہتے ،ان کے تمام اخراجات پورے کرتے ہیں ،میں مسلمان ہوتی تو پاکستانی مرد کے ساتھ شادی کرتی۔پھر اسے ایک اور کہانی یاد آگئی اور کہنے لگی ” ہمارے گاﺅں میں ایک بوڑھی عورت بی بی نوتن ہوا کرتی تھی ، مر گئی ہے ،تقسیم ہند کے وقت اس کا خاندان پاکستان ہجرت کر رہا تھا کہ راستے میں فسادات کی نذر ہو گیا اور بی بی نوتن کو اس کی تقدیر راجستھان لے آئی ۔ ایک ہندو خاندان کے ساتھ رہتی تھی،اس کا شوہر ہندو تھا،بچے بھی ہوئے ،بچے جوان ہو گئے اور ایک دن بی بی نوتن مر گئی ۔بی بی نوتن کے لڑکے نے اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ۔ اس روز انکشاف ہوا کہ بی بی نوتن مسلمان تھی اور بیٹے کو وصیت کر رکھی تھی کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔اقبال کور خاموش ہو ئی توہم نے ادھوری کہانی مکمل کر دی ۔ بی بی نوتن دل سے مسلمان تھی ،اس کا جسم ہندو کے گھر میں قید تھا مگر اس کی روح پاکستان میں بستی تھی ۔ تقسیم ہند کے وقت اس کا خاندان ذبح کر دیا گیا اور بی بی کو نشانہ عبرت بنا کر رکھا گیا۔ بی بی کا حقیقی نام بھی انتقام کی آگ میں راکھ ہو گیا تھا ،اس خالی وجود کو جو بھی نام دے دیا گیا اس نے قبول کر لیا کہ مذہب کا تعلق نام سے نہیں دل سے ہے ۔بی بی نوتن نے انتقام کی قید مکمل کی اور آزاد ہوتے ہی اپنے اصل کو لوٹ گئی۔ آزادی قربانی مانگتی ہے۔ ایک گمنام بی بی نوتن کا مزار ہی لا پتہ نہیں یہاں ہزاروں بیبیاں پاکستان پر جانیں نثار کر چکی ہیں جبکہ پاکستان کی ایک ”بے غیرت کلاس“ قیام پاکستان کو غلطی قرار دیتی ہے۔ اقبال کور پاکستانیوں کے لائف سٹائل سے متاثر ہے ، یہ ساری ”نوابی“ پاکستان کے دم سے ہے۔