چڑیاں چگ گئیں کھیت !

کالم نگار  |  توفیق بٹ

ظاہر ہے کوئی محبِ وطن عدالتی فیصلے کو خراجِ تحسین پیش نہیں کر سکتا۔ حکمران و غیر حکمران سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ اس فیصلہ کے ملک و قوم پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ فیصلے کے بعد سڑکوں پر ہونے والا احتجاج ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ گھیرائو جلائو کی سیاست ایک بار پھر ہمارا مقدر بننے لگی ہے۔ فیصلے کے بعد شریف برادران کی پریس کانفرنس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ خیال تھا اس موقع پر اپنے کارکنوں کو وہ صبر کی تلقین کریں گے گھیرائو جلائو‘ توڑپھوڑ چونکہ ملک کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے لہٰذا کارکنوں کو اس سے گریز کی ہدایات جاری کی جائیں گی وہی پُرامن کردار ادا کیا جائے گا جو زرداری نے محترمہ کی شہادت کے موقع پر کیا تھا۔ افسوس کہ اس حوالے سے شریف برادران سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ وہ یقیناً غم و غصے کی حالت میں ہیں مگر ٹھنڈے دل و دماغ سے کام لے کے انہیں ایسی حکمت عملی اپنانی چاہئے کہ عوام کی زیادہ سے زیادہ ہمدردیاں حاصل کر سکیں‘ فی الحال تو صرف نون لیگ کے کارکن ہی اُن کے ہمدرد بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں شریف برادران نے کھلم کھلا الفاظ میں ایک طرف عدلیہ کو تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا۔ دوسری طرف اپنے کل تک کے چھوٹے بھائی آصف زرداری کے حوالے سے کچھ ایسے تازہ انکشافات بھی کئے جو خاصے باسی ہیں۔ میں حیران ہوں شریف برادران سارے راز اُس وقت کیوں اگلتے ہیں جب اُن کے اپنے پائوں پر کلہاڑی پڑتی ہے اور کلہاڑی بھی وہ خود ہی مارتے ہیں۔ کارگل کے ایشو پر جنرل مشرف نے جو کچھ اُن سے کیا بجائے اس کے بروقت قوم کو اعتماد میں لیتے حسبِ عادت دڑوٹ گئے‘ اقتدار ہاتھ سے نکلا تو سینے میں دفن اس راز کو اگل کر قوم کی طرف تحسین طلب نظروں سے دیکھنے لگے۔ اُن کا چپ رہنا ملک و قوم کے مفاد میں تھا یا بولنا اس کا فیصلہ انہیں خود ہی کرنا چاہئے مگر یہ فیصلہ وہ کریں گے نہیں کہ ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ اب صدر زرداری یعنی اپنے کل تک کے چھوٹے بھائی کے بارے میں فرماتے ہیں چند روز قبل شہبازشریف کو کھانے پر مدعو کر کے انہوں نے بزنس ڈیل کی کوششں کی تھی۔ جناب شہبازشریف کو غور فرمانا چاہئے کہ زرداری نے انہیں بزنس ڈیل کے قابل کیوں سمجھا؟ دوسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بزنس ڈیل سے جناب شہبازشریف نے انکار کیسے کر دیا؟ بجائے اس کے صدر مملکت کی اس ’’نازیبا حرکت‘‘ کو دوران اقتدار سامنے لاتے‘ حسبِ معمول چپ رہے اقتدار ہاتھ سے نکلا تو اچانک ’’بزنس ڈیل ‘‘ یاد آ گئی مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ویسے آپس کی بات ہے شریف برادران کل تک کے ’’مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ سے بزنس ڈیلوں کے برعکس توقعات وابستہ کئے بیٹھے تھے تو اُن کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ گندے تالاب میں گھس کر عرقِ گلاب تلاش کرنے والوں کے ساتھ ایسے ہی ہونا چاہئے۔ اقتدار ختم ہونے کے فوراً بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں انہوں نے این آر او کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کاش اب فرصت کے لمحات میں وہ ہمیں شرف ملاقات بخشیں تو اُن سے پوچھنے کی جسارت کریں جب صدر مملکت کی میزبانیوں کے لطف اُٹھا رہے تھے انہیں مہمان نوازیوں کے اعزاز بخشے جا رہے تھے‘ اُن کے سامنے ’’گلوکار محمد رفیع ‘‘ بننے کی کوششیں کی جا رہی تھیں ابا جی کے مزار پر اُن کے مبارک ہاتھوں سے چادریں چڑھوائی جا رہی تھیںتب یاد نہیں آیا کہ یہ شخص ’’قوم کا مجرم‘‘ ہے اور بذریعہ این آر او رہا ہوا ہے؟ تب یاد نہیں آیا تو اب یاد آنے سے بھی لوگوں کی ہمدردیاں حاصل نہیں کی جاسکتی کہ سیانے لوگ اب اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی رگ رگ سے واقف ہوچکے ہیں۔
اقتدار سے ہاتھ دھونے کے فوراً بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں جناب نواز شریف اور ان کے پہلو میں بیٹھے برادرخرد جناب شہباز شریف نے عدلیہ کو جس تضحیک کا نشانہ بنایا وہ ان کا ’’قدرتی ری ایکشن‘‘ تھا۔ جن کے خلاف فیصلے ہوں ایسا ہی ری ایکشن ظاہر کرتے ہیں۔ شریف برادران کی جانب سے گذشتہ کافی عرصے سے عدلیہ پر لفظوں کے پتھر برسانے کے ’’فرائض‘‘ ذوق و شوق سے سرانجام دیئے جارہے تھے۔ ججوں کو ایسے ایسے الفاظ سے یاد کیا جاتا تھا کہ سر شرم سے جھک جایا کرتے تھے۔
سپریم کورٹ کو ’’ڈوگر کورٹ‘‘ کہا گیا کیا ایسے حالات پیدا کرنے کے بعد ججوں سے کسی ’’نیکی‘‘ کی توقع کی جاسکتی تھی؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے‘ جب ایک فریق حد سے بڑھے گا تو دوسرے سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی حد میں رہ کر کام کرے۔ عدلیہ کی آزادی کیلئے پرامن کوششیں یقینا لائق تحسین ہیں مگر ایسا انداز اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے احساس ہو عدلیہ کو محض ذاتی مفادات حاصل کرنے کیلئے آزاد کروانے کا جذبہ کارفرما ہے۔ آج جناب نواز شریف صدر زرداری پر الزام لگاتے ہیں کہ عدلیہ ان کی تابع ہے اور ان کے خلاف آنیوالا فیصلہ انہی کی خواہشات پر ہوا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئے کون سا حکمران ہے عدلیہ کو تابع رکھنے کیلئے جائز ناجائز حربے جس نے استعمال نہ کئے ہوں۔ کیا جناب نواز شریف کا اپنا زمانہ اس حوالے سے یادگار ہے؟ بعض لوگوں کے نزدیک عدلیہ کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے جس ’’کارخیر‘‘ کی ابتدا جناب نواز شریف نے کی تھی جنرل مشرف نے اس کی انتہا کردی ۔ اب اگرجناب نواز شریف جنرل مشرف کی انتہا کی بات کرتے ہیں تو اپنی ابتدا کی بات بھی انہیں کرنا چاہئے۔ عدلیہ کی آزادی کیلئے اپنی جدوجہد تیز کرنے سے قبل وہ دل کھلا کر کے اپنے سیاسی ’’سابقہ گناہوں‘‘ کی معافی مانگ لیں تو ان کی جدوجہد میں بہت برکت ہوسکتی ہے۔
بہرحال شریف برادران کو نااہل قرار دینے سے عدلیہ پر کوئی نیا حرف نہیں آیا‘ سارے حرف ہی پُرانے ہیں۔ وہی فیصلہ آیاجس کا لوگوں کو یقین تھا۔ یہ فیصلہ ایوان عدل کا تھا یا ایوان صدر کا کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت ہے نہ چھپانے کی کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔ ان عدالتوں سے پناہ مانگنے کے علاوہ ہم کیا کریں۔ جن کے فیصلے لوگوں کو پہلے سے معلوم ہوتے ہیں۔ مجرموں اور منصفوں کے گٹھ جوڑ نے ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ کوئی بھی ادارہ اپنی اصلی حالت میں قائم نہیں رہا۔ اپنے اپنے مفادات کے حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ کوئی تھوڑا تو کوئی پورا۔ یوں محسوس ہوتا ہے اس ملک کو قسطوں میں خراب سے خراب تر کر کے توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کوششیں کرنے والے اتنے باہر سے نہیں جتنے اندر سے ہیں۔ باہر سے کوئی دستک نہیں دیتا اور اندر سے کوئی آواز نہیں آتی؎
گھر کے اندر سے دے رہا ہوں دستکیں
جیسے باہر سے کھلے گا در میرا
حادثہ ہونے کو ہے سرزد کوئی
میرے سر کی زد میں ہے پتھر میرا