سیاسی فضائوں میں راکھ اور ساکھ

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

احتجاج اور تحریک جمہوری حسن و جمال کا حصہ ہے مگر ہمیں نہ حکومت کرنا آتا ہے نہ اپوزیشن کرنا نہ احتجاج کرنا آتا ہے۔ ہمارے احتجاج کے دوران کچھ لوگ فائدہ اٹھا کے ملک کواور نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں۔ اب بھلا شہید بے نظیر بھٹو کی تصویریں جلانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ منظر میڈیا پر پورے ملک اور پوری دنیا میں دیکھا گیا کہ بی بی کی تصویر کو نیچے سڑک پر گراکر قدموں تلے روندا گیا۔ اس تصویر پر جوتیاں ماری گئیں یہ بات کسی طور بھی اچھی نہیں۔ غم و غصے کے اظہار کا کوئی سلیقہ نہیں۔ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ احتجاج کے ذریعے سارے اچھے جذبوں کو پامال کردیا جائے۔ جب بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو سارے ملک میں ایک گہرے سوگ کی کیفیت تھی۔ پوری دنیا میں اس قتل کو انسانیت کا قتل جمہوریت کا قتل سمجھا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کیلئے بلند ارادوں کی پاداش میں بی بی کو قتل کیا گیا۔ میرا خیال ہے کہ جس کے قتل میں امریکہ کی سازشوں کا اشارہ ملتا ہو۔ وہ مقتول پوری قوم کی امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے۔تب میاں نوازشریف بہت اداس حالت میں ہسپتال پہنچے تھے۔ جس سے ان کیلئے اچھے جذبات پیدا ہوئے تھے تب پیپلز پارٹی کے جیالے نوازشریف کے گلے لگ لگ کر روتے رہے۔ پھر نوازشریف گڑھی خدا بخش بھی گئے تھے اور حکومت سازی میں آصف زرداری کے ساتھ بھائی چارے کے جذبے سے شامل ہوتے رہے۔ اس دوران اختلافات بھی پیدا ہوئے مگر کام چلتا رہا۔ یہ کیا ہوا کہ وہ لوگ جو پنجاب حکومت کے خاتمے‘ گورنر راج کے نفاذ اور عدالتی فیصلے پر احتجاج کر رہے تھے انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہم کس کے خلاف ہیں اور کس کی تصویر اپنے قدموں تلے روند رہے ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ احتجاج کرنے والوں کو کنٹرول کرنا چاہئے۔ اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ جو سازش کرنے والوں کے ایجنٹ ہیں وہ کسی کے ساتھی نہیں ہوتے۔ وہ اصل میں جمہوریت کے دشمن ہیں۔ نوازشریف نے شیخوپورہ کے جلسہ عام میں کہا کہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو میری بہن ہیں۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں تو پھر ان لوگوں کو کس طرح موقعہ ملا جنہوں نے بی بی کی تصویر کی بے حرمتی کی۔ اس حوالے سے پنجاب انتظامیہ نے ربط ضبط سے کام لیا۔ صدر زرداری اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی تصویریں بھی پھاڑی گئیں اور جلائی گئیں۔ اس کے ساتھ بی بی کی تصویر بھی بچ نہ سکی اس طرح غیرجمہوری قوتوں کو اپنا ڈرامہ رچانے کا موقعہ مل رہا ہے۔ ہم نے تو جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف لڑائی کی ہے تو کیا ہم اسی لئے پیدا ہوئے ہیں کہ جرنیلوں کی طالع آزمائی کے خلاف اپنے جذبوں اور ارادوں کو آزماتے رہیں۔ جمہوری قوتوں سے میری اپیل ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں۔ احتجاج کا راستہ کھلا رہنا چاہئے مگر احتجاج کی لاج بھی رکھیں۔ پاکستان میں گورنر راج لگتے رہے ہیں زیادہ پیپلزپارٹی کے دور حکمرانی میں لگے اس کے خلاف ردعمل ایک جمہوری عمل ہے مگر میں ردعمل کے روی عمل بننے کو مناسب نہیں سمجھتا۔ گورنر راج کے بعد ایسی صورتحال نہ ہو کہ ملٹری راج آجائے۔ آئین رہے گا تو آئینی اور غیر آئینی کی بحث ہوگی۔ یہ بحث شور شرابے اور غل غپاڑے میں گم ہوگئی تو سب کچھ گم ہو جائے گا۔ اور ہمارا ذکر تلاش گمشدہ کے اشتہار میں بھی نہ ہوگا۔
گورنر ہائوس کے دروازے پر یہ سب احتجاج ہوا مگر حکومت کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ توقع ہے کہ گورنر پنجاب آئندہ بھی ایسے ہی صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ انتظامی اقدامات کو انتقامی اقدامات بنانے کا نتیجہ ہمارے ملک میں کبھی اچھا نہیں نکلا۔ تدبر کی بجائے تکبر کی پالیسیاں اچھی نہیں ہوتیں۔ گورنر راج میں سلمان تاثیر کے پاس عبوری طور پر حکومت آئی ہے۔ اس دوماہ کی حکومت کو سوچ سمجھ کر اور صبر و تحمل کے ساتھ چلانا چاہئے پچھلے دودنوں میں وہ بپھرے ہوئے لوگوں اور لیڈروں کے احتجاجی جذبات کے سامنے جذباتی نہیں بنے۔ مظاہرین کے مقابلے میں کوئی حکومتی مظاہرہ نہیں کیا۔ اس طرح آگ بجھانے میں کامیابی ہوگی۔ آئندہ بھی یہ پالیسی رکھی گئی تو کوئی بہتر صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ایک اچھا منتظم ہونے کیلئے دل بڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر شہید بے نظیر بھٹو کی یادگار تہس نہس کردی گئی۔ یہ مسلم لیگ کے لوگ تو نہیں کرسکتے۔ پھر یہ کون لوگ تھے۔ یہ ان لوگوں کے درمیان تھے تو انہیں کیوں نہ روکا گیا۔ اب صورتحال سنگین ہونے کا اندیشہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے لوگوں نے پیپلز یوتھ کے صدر کی قیادت میں مظاہرہ کیا ہے۔ ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے رائے ونڈ میں دما دم مست قلندر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی میں مشتعل افراد نے نوازشریف اور شہبازشریف کی تصویریں پھاڑ دی ہیں۔ یہ بھی بہت غلط ہے۔ ان غلطیوں کو کسی کو دہرانے نہیں دینا چاہئے نوازشریف نے شہید بی بی کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کا اعلان کیا ہے۔رائے ونڈ پیلس کے سامنے خود سوزی کے بعد خطرناک نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔
اس طرح تصادم کا ماحول پیدا ہونے لگا ہے۔ جس کا نقصان ملک و قوم کو ہوگا اور جمہوری فضا بھی بُری طرح متاثر ہوگی۔ ہمارے لیڈروں کا فرض ہے کہ وہ اس صورتحال کو بچائیں اور حالات مزید نہ بگڑنے دیں۔ احتجاج کیا جائے اسے انتقام لینے والوں کے ہتھے نہ چڑھنے دیا جائے۔ اس کا نتیجہ ماضی میں بھی کسی کے حق میں نہ تھا اور آئندہ بھی نہیں ہوگا۔ صورتحال کو سول نافرمانی اور سول وار کی طرف نہیں جانا چاہئے۔ آصف زرداری ان لوگوں سے بچیں جو پنجاب پر قبضے کے شوق میں مرکزی حکومت کو بھی دائو پر لگا رہے ہیں غلط کاموں کا نتیجہ کبھی اچھا اور درست نہیں نکلا۔